ایک گولی، ایک بغاوت اور ایک فیصلہ: گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ کیسے بنا؟

برصغیر پاک و ہند کے سوئزر لینڈ کہلانے والے گلگت بلتستان کو آج پاکستان کا ایک اہم اور حساس خطہ سمجھا جاتا ہے، لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ علاقہ پاکستان کے زیرِ انتظام کیسے آیا۔ اس کے پیچھے 1947 کی تقسیمِ ہند، ریاست جموں و کشمیر کا متنازع مستقبل، گلگت سکاؤٹس کی بغاوت اور سکردو کی طویل جنگ جیسے تاریخی واقعات کارفرما تھے جنہوں نے خطے کی تقدیر کا فیصلہ کیا۔

بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق 1947 میں جب برصغیر تقسیم ہوا تو پاکستان اور بھارت دو آزاد ریاستوں کے طور پر وجود میں آئے، لیکن ریاست جموں و کشمیر کا الحاق ایک پیچیدہ اور متنازع مسئلہ بن گیا۔ اس وقت موجودہ گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا۔ ریاست کی چار بڑی اکائیاں جموں، کشمیر، گلگت اور لداخ پر مشتمل تھیں۔

سن 1935 میں برطانوی حکومت نے گلگت ایجنسی کا انتظام مہاراجہ کشمیر سے 60 سالہ لیز پر حاصل کر لیا تھا، تاہم آزادی سے کچھ روز قبل انگریزوں نے یہ لیز ختم کر کے علاقہ دوبارہ مہاراجہ کشمیر کے حوالے کر دیا۔ جولائی 1947 میں بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو گلگت کا گورنر مقرر کیا گیا، لیکن مقامی آبادی اور گلگت سکاؤٹس کے اندر مہاراجہ کے خلاف شدید بے چینی پائی جاتی تھی۔اسی دوران یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ مہاراجہ ہری سنگھ بھارت سے الحاق کا فیصلہ کرنے والے ہیں۔ گلگت میں پاکستان کے حق میں جذبات تیزی سے بڑھ رہے تھے اور مہاراجہ مخالف نعرے عام ہو چکے تھے۔ گلگت سکاؤٹس کے برطانوی کمانڈر میجر ولیم براؤن بھی اس بدلتی صورتحال کا قریب سے مشاہدہ کر رہے تھے۔

اکتوبر 1947 میں قبائلی لشکروں کی کشمیر کی جانب پیش قدمی اور بعد ازاں مہاراجہ کے بھارت سے الحاق کے اعلان نے حالات کو مزید کشیدہ کر دیا۔ ان حالات میں 31 اکتوبر 1947 کو گلگت سکاؤٹس نے "آپریشن دتا خیل” کے نام سے بغاوت شروع کر دی۔ بونجی میں ریاستی فوج کے مسلمان سپاہیوں نے ڈوگرا فورسز کے خلاف کارروائی کی جبکہ گلگت میں گورنر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر لیا گیا۔

یکم نومبر 1947 کو گلگت میں ایک عارضی حکومت قائم کی گئی جس نے پاکستان کے ساتھ غیر مشروط الحاق کا اعلان کیا۔ چند ہی دن بعد 16 نومبر کو حکومت پاکستان کے نمائندے سردار محمد عالم خان گلگت پہنچے اور انتظامی امور سنبھال لیے۔ یوں گلگت کا علاقہ عملی طور پر پاکستان کے زیرِ انتظام آ گیا۔تاہم بلتستان خصوصاً سکردو کا معاملہ مختلف تھا۔ سکردو اس وقت لداخ کے انتظامی ڈھانچے کا اہم مرکز تھا اور اس کی جغرافیائی و عسکری اہمیت غیر معمولی تھی۔ پاکستان اور بھارت دونوں سمجھتے تھے کہ سکردو پر کنٹرول مستقبل کی جنگ کا رخ متعین کر سکتا ہے۔پاکستان کی جانب سے میجر اسلم خان نے مقامی رضاکاروں اور گلگت سکاؤٹس کو منظم کر کے مختلف فورسز تشکیل دیں جن میں "آئی بیکس فورس” نمایاں تھی۔ دوسری جانب بھارتی حمایت یافتہ فورسز نے لیفٹیننٹ کرنل شیر جنگ تھاپا کی قیادت میں سکردو کا دفاع سنبھالا۔

دسمبر 1947 سے اگست 1948 تک سکردو ایک طویل اور خونریز محاصرے کا مرکز بنا رہا۔ پاکستانی اور مقامی رضاکار فورسز نے متعدد حملے کیے جبکہ بھارتی فوج نے بھی محصور دستوں تک رسد پہنچانے کی کوشش کی۔ شدید موسمی حالات، دشوار گزار پہاڑی راستے اور محدود وسائل اس جنگ کو مزید پیچیدہ بناتے رہے۔فروری 1948 میں سکردو چھاؤنی پر بڑا حملہ کیا گیا لیکن فوری کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ بعد ازاں پاکستانی حمایت یافتہ فورسز نے اہم دفاعی پوزیشنوں پر قبضہ کرنا شروع کیا۔ اسی دوران کارگل اور دراس کے محاذوں پر بھی پیش قدمی کی گئی، جس سے سکردو میں محصور فوجیوں کی صورتحال مزید کمزور ہو گئی۔

جنگ کا فیصلہ کن مرحلہ اس وقت آیا جب چترال سکاؤٹس اور چترال باڈی گارڈز کے تقریباً 300 جوان شہزادہ مطاع الملک اور میجر برہان الدین کی قیادت میں سکردو پہنچے۔ محاصرہ مزید سخت ہو گیا اور بھارتی و کشمیری دستوں کی رسد تقریباً ختم ہو گئی۔بالآخر 14 اگست 1948 کو پانچ ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے محاصرے کے بعد لیفٹیننٹ کرنل شیر جنگ تھاپا اور ان کے ساتھیوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ اسی روز تاریخی کھرپوچو قلعے پر پاکستان کا پرچم لہرایا گیا اور سکردو سمیت جنوبی بلتستان پاکستان کے زیرِ انتظام آ گیا۔اس کامیابی کے بعد گلگت اور بلتستان کے علاقے مل کر شمالی علاقہ جات کہلائے، جنہیں بعد میں گلگت بلتستان کا نام دیا گیا۔ میجر احسان علی کو اس جنگی کردار پر ستارۂ جرات سے نوازا گیا جبکہ شیر جنگ تھاپا کو بھارت نے مہاویر چکر سے سرفراز کیا۔

مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان کا پاکستان کے زیرِ انتظام آنا صرف ایک فوجی کامیابی نہیں تھا بلکہ یہ برصغیر کی تقسیم کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی اور جغرافیائی کشمکش کا ایک اہم باب تھا۔ آج بھی یہ خطہ کشمیر تنازع کے تناظر میں بین الاقوامی بحث کا حصہ ہے، تاہم مقامی سطح پر اس کی سیاسی، آئینی اور جمہوری حیثیت کے حوالے سے بحث مسلسل جاری ہے۔

Back to top button