اپوزیشن کو جمہوریت کے خلاف سازش کا خطرہ لاحق

بڑی اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ اور صدارتی طرز حکومت کے حق میں شروع کی جانے والی میڈیا مہم کے پیچھے ایک ‘منظم اور منصوبہ بند’ سازش کا امکان ظاہر کرتے ہوئے اسے ناکام بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے کچھ ہفتوں سے مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر موجودہ پارلیمانی نظام کو ناکام قرار دینے اور اسکی جگہ صدارتی طرز حکومت لانے کے حق میں مہم چلائی جارہی ہے اور ایسی افواہیں بھی ہیں کہ شاید اس مقصد کے حصول کے لیے ایمرجنسی بھی نافذ کی جا سکتی ہے۔

مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو شبہ ہے کہ اس منظم مہم کے پیچھے حکمران تحریک انصاف کا ہاتھ ہے جو پچھلے تین برس میں ہر محاذ پر مکمل ناکامی کے بعد اب یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ عمران خان اس لیے ڈلیور نہیں کر پائے کہ موجودہ پارلیمانی نظام حکومت نے ان کے ہاتھ باندھ رکھے تھے لہذا اگر ملک میں صدارتی نظام حکومت رائج کر دیا جائے اور انہیں بطور صدر فری ہینڈ مل جائے تو وہ ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔

اپوزیشن جماعتوں کا خیال ہے کہ ملکی تاریخ کا نااہل اور نکمہ ترین وزیر اعظم ہر محاذ پر ناکامی کے بعد اب عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے صدارتی طرز حکومت کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے حالانکہ یہ نظام پاکستان میں چالیس برس رائج رہا ہے اور چار فوجی صدور نے اپنے ادوار میں پاکستان کا بیڑہ غرق کیا ہے۔

تاہم، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے واضح طور پر اس تائثر کی تردید کی اور کہا کہ ایمرجنسی یا صدارتی طرز حکومت کے بارے میں قیاس آرائیوں کو یوٹیوبرز اور وی-لاگرز کی بدولت ہوا مل رہی یے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تمام بڑے ٹی وی چینلزپر صدارتی نظام کے حق میں ایک گمنام تنظیم ویژن فار پاکستان کی جانب سے باقاعدہ مہم شروع یو چکی ہے۔

سوشل میڈیا پر بھی جو صحافی حضرات اور بلاگرز اس مہم کا حصہ ہیں وہ اسٹیبلشمنٹ نواز سمجھے جاتے ہیں اور ان کی ہمدردیاں تحریک انصاف اور عمران کے ساتھ ہیں۔ چنانچہ اس مہم کا نوٹس لیتے ہوئے پیپلزپارٹی اور نوازلیگ کے اراکین قومی اسمبلی نے مشترکہ طور پر اسمبلی سیکریٹریٹ میں ایک قرارداد جمع کروائی ہے جس میں 1973 کے متفقہ آئین کے مطابق ملک میں رائج وفاقی پارلیمانی نظام کو برقرار رکھنے اور اسے مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔

شہزاد اکبر کے ستارے گردش میں اور کرسی خطرے میں

مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے ٹوئٹر پر ہاتھ سے تحریر کردہ قرارداد کی تصویر پوسٹ کی جس پر اسمبلی میں موجود تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین کے دستخط تھے، انہوں نے یہ کیپشن بھی لکھا کہ ‘دیکھتے ہیں کہ یہ قرارداد جمعہ یعنی 21 جنوری کو قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل ہوتی ہے یا نہیں’۔ احسن اقبال نے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے مسلط کی گئی کپتانی حکومت نے ملک کو برباد کرنے کے بعد اب اندرا گاندھی جیسی ایمرجنسی لگانے اور مختلف فارمولوں کے ذریعے نظام حکومت تبدیل کرنے کے لیے سازشیں شروع کر دی ہیں’۔

یاد رہے کہ لیگی رہنما 25 جون 1975 کو تب کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی جانب سے بھارت میں ایمرجنسی کے نفاذ کا حوالہ دے رہے تھے جو کہ 21 مارچ 1977 تک نافذ رہی تھی۔ لیکن اس ایمرجنسی کو بھارتی تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس عرصے کے دوران وہاں شہری آزادیوں پر کریک ڈاؤن کیا گیا اور اختلافی آوازوں کو دبایا گیا۔ یہ ایمرجنسی بھی اندرا گاندھی نے تب لگائی تھی جب عدالت نے انہیں الیکشن میں دھاندلی کروانے کے الزام میں مجرم قرار دیا تھا۔

دوسری جانب صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران پی پی پی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت خود اپوزیشن کے اعلان کردہ لانگ مارچ سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اس مہم کے پیچھے ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی ہر شعبے میں بری کارکردگی سے اس ملک کے عوام تکلیف میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی گسٹاپوس اور ریاستی مشینری اس (مہم) کے پیچھے ہے، میڈیا میں ایسا کرنے والوں کو اس سے گریز کرنا چاہیے۔

نفیسہ شاہ اس مہم کو ‘ڈراما’ اور ‘دھوکا’ قرار دیتے ہوئے اسکی ‘مذمت’ کی اور 1973 کے آئین میں درج وفاقی و پارلیمانی نظام کا دفاع کرنے کا عزم ظاہر کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے مقدس آئین سے کھیلنے کی کوشش کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

اس سلسلے میں جب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ روایت بن گئی ہے کہ یوٹیوب پر دو تین لوگ ایسی باتیں کرتے ہیں اور وہاں سے یہ واٹس ایپ کے ذریعے وائرل ہوتی ہے اور پھر آخر کار اخبارات اور ٹی وی چینلز بھی اس کی رپورٹنگ شروع کردیتے ہیں۔ انہوں نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم کا حکومتی پالیسی سے کوئی تعلق ہے اور کہا کہ ‘یہ اصل میں جعلی خبروں کا چکر ہے جس سے ہمیں مسئلہ ہے جبکہ میڈیا اسے فروغ دینا چاہتا ہے۔

فواد نے کہا کہ ‘مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں یوٹیوب اور واٹس ایپ کے ذریعے جعلی خبریں ایک کلچر بن چکی ہیں اور کوئی بھی حکومت کو اس کلچر کو ختم کرنے کے لیے قانون سازی کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے’، الزام تراشی کے شوقین وزیر اطلاعات نے مذید الزام لگایا کہ میڈیا گروپس اس کلچر کی ‘حوصلہ افزائی’ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ‘یہاں تک کہ ڈان جیسا اخبار بھی جعلی خبروں پر اداریہ لکھتا ہے۔

Back to top button