پاکستان میں مہنگائی نے 50سال کا یکارڈ توڑ ڈالا

پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر میں تشویشناک کمی کے سبب روپیہ شدید گراؤٹ کا شکار ہے اور درآمدی اشیا منگوانے کے لیے ایل سیز نہیں کھل رہیں جس کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آیا ہوا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اشیائے خوراک کی قیمتوں میں سالانہ تقریباًتینتالیس فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ رواں برس کے پہلے مہینے بھی جاری رہا۔ وفاقی ادارہ شماریات کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس جنوری کے مقابلے میں اس سال جنوری میں مہنگائی میں 27.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔پاکستانی معیشت کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں ملکی کرنسی روپے کی قدر میں کمی کے باعث شدید مشکالات کا سامنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر بھی اب صرف تین ہفتوں تک کی درآمدات کی ادائیگیوں کے لیے باقی بچے ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق دسمبر کے مقابلے میں جنوری کے مہینے میں قیمتوں میں 2.9 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ کراچی میں قائم ایک سرمایہ کار کمپنی عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق ملک میں سالہا سال سے جاری مہنگائی میں اس سال جنوری میں 1975ء میں مئی کے مہینے کے بعد سے سب سے زیادہ یعنی 27.8 فیصد اضافہ ہوا۔

پاکستانی کرنسی کی قدر میں تاریخی کمی کے سبب درآمدی اشیا خصوصاً اشیائے صرف کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ مہنگائی کے باعث عریب اور متوسط طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔پاکستان میں لگژری آئٹمز کی درآمد پر عائد پابندی کے بعد بینکوں نے بنیادی ضرورت کی اشیا بشمول دالیں، گندم، خوردنی تیل اور میڈیکل کی اشیا کی درآمد کے لیے بھی ایل سیز کھولنا بند کردی تھیں۔تاہم اب لگژری آئٹمز کی درآمد پر عائد پابندی تو ختم کردی گئی ہے لیکن اس کے باوجود امپورٹرز شکایت کررہے ہیں کہ بندرگاہوں پر موجود کنٹینرز اب بھی کلیئر نہیں ہورہے ہیں کیونکہ بنک ایل سیز کھولنے سے انکاری ہیں۔ بندرگاہ پر کلیئرنس کے انتظار میں کھڑے کنٹینرز میں بنیادی ضرورت کی اشیا دالیں، گندم، خوردنی تیل اور میڈیکل سمیت دیگر اشیا شامل ہیں۔

خیال رہے کہ لیٹر آف کریڈٹ یا ایل سی درآمد میں استعمال ہونے والا ایک اہم دستاویز ہے جو بینک جاری کرتا ہے۔ کوئی فرد یا کمپنی بیرون ملک سے کوئی چیز درآمد کرنا چاہتی ہے تو اسے بیرون ملک سے اشیا پاکستان بھیجنے والی کمپنی ان چیزوں کی ادائیگی کی ضمانت مانگتی ہے اس ضمانت کو لیٹر آف کریڈٹ کہتے ہیں۔دوسری طرف تاجر رہنماؤں کے مطابق بینکس کی طرف سے ایل سیز نہ کھلنے کی وجہ سے ساڑھے چھ ہزار سے زائد صرف دالوں کے کنٹینرز پورٹ پر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ خوردنی تیل، میڈیکل کے سامان اور دوسری اشیا کے کنٹیرز پورٹ پر موجود ہیں اور کلیئر نہیں ہو پا رہیں’مارکیٹ میں ڈیمانڈ اور سپلائی کا فرق بڑھ رہا ہے جس کا فائدہ منافع خور اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں گندم کی کمی تو سب کے سامنے ہے لیکن دیگر اشیا کی کمی کا ابھی تک ذکر نہیں کیا جارہا ہے۔ اگر صورتحال ایسی رہی تو آنے والے دنوں میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا اور غریب آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہوجائےگا۔

ٹرینوں کی تمام کلاسز کے کرایوں میں 8 فیصد اضافے کا فیصلہ

Back to top button