پاکستان کی اسرائیلی عزائم کے خلاف عرب اسلامی ٹاسک فورس بنانے کی تجویز

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم پر نظر رکھنے اور اس حوالے سے مربوط اقدامات کےلیے عرب اسلامی ٹاسک فورس بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل عالمی امن کےلیے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔
قطر میں عرب اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم ایک بار پھر ایک برادر،خود مختار ریاست پر اسرائیلی حملے کےبعد کی صورت حال پر غور کرنے کےلیے جمع ہوئے ہیں، گزشتہ ماہ ہم جدہ میں فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی جارحیت پر تبادلہ خیال کےلیے ملے تھے۔
وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ ان اجلاسوں کی کثرت ظاہر کرتی ہےکہ اسرائیل عالمی امن و سلامتی کےلیے مستقل خطرہ بن چکا ہے۔پاکستان اسرائیل کی طرف سے برادر ملک قطرپر غیرقانونی اور بلا جواز حملے کی مذمت کرتا ہے،اسرائیلی حملہ یو این چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے،یہ حملہ خود مختاری و علاقائی سالمیت کے اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔
سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ اسرائیل کا جنگ بندی کوششوں میں مصروف خودمختار ملک پر حملہ بلا جواز اور قابلِ مذمت ہے،یہ اسرائیل کے اس رویےکو عیاں کرتا ہے جو عالمی قوانین و ضوابط کو خاطر میں نہیں لاتا،فلسطینی عوام پر 2 برس سے اسرائیلی مظالم اس کے خطرناک عزائم کا ثبوت ہیں۔غیرقانونی اسرائیلی دراندازیوں کا سلسلہ رکنا ضروری ہے،عرب و اسلامی دنیا کو متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے، پاکستان قطر کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے،پاکستان قطر کی ثالثی اور جنگ بندی کی کوششوں کو سراہتا ہے۔
انہوں کہا کہ قطر پر حملہ دراصل سفارت کاری اور ثالثی پر حملہ ہے پاکستان الجزائر اور صومالیہ کے ساتھ بطور رکن یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں لایا ہے،اقوامِ متحدہ انسانی حقوق کونسل میں بھی ہنگامی بحث کی درخواست کی گئی ہے، اسرائیل کے احتساب اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت،انصاف اور امن کےلیےحمایت جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو اسرائیل پر ذمہ داری عائد کرنی چاہیے،سلامتی کونسل کو غزہ میں بین الاقوامی محافظ فورس کی تعیناتی سمیت عملی اقدامات کرنے چاہییں، اسرائیل کے احتساب کا معاملہ عالمی نظام کی ساکھ کا امتحان ہے، اسرائیل کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر جوابدہ بنایا جائے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تجویز دی کہ عرب اسلامی ٹاسک فورس بنائی جائے جو اسرائیلی عزائم نظر رکھے اور اس حوالے سے مربوط اقدامات کرے۔
انہوں نے کہاکہ او آئی سی کی اپیل کے مطابق اسرائیل کی اقوامِ متحدہ کی رکنیت معطل کرنے کی کوشش کی جائے،اسرائیل کےخلاف مزید تعزیری اقدامات پر غور کیاجائے، سلامتی کونسل اسرائیل سے فوری، غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ کرے۔
