پٹرولیم ڈیلرزایسوسی ایشن کا 22 جولائی سے پٹرول پمپس کی بندش کا اعلان

پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ڈیلر مارجن نہ بڑھائے جانے کے باعث 22جولائی سے ملک بھر کے پٹرول پمپس غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کردیا ہے.
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ ہڑتال طول اختیار کرجانے سے 9 اور 10محرم الحرام کو صرف 2روز کے لیے پمپس کھول دئیے جائیں گے۔
عبدالسمیع خان نے کہا کہ اس وقت فی لیٹر مارجن 6روپے ہے جس میں 5روپے کا اضافہ کرکے 11روپے فی لیٹر کا مطالبہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سرکاری سرپرستی میں ایرانی پٹرول و ڈیزل کی سرعام اسمگلنگ جاری ہے۔
عبدالسمیع خان نے بتایا کہ ایرانی پٹرول فروخت کرنے پر 20 ڈیلرز کے لائسنس پیٹرولیم ڈیلرز نے کینسل کروائے ہیں، ایسوسی ایشن میں کالی بھیڑیں موجود ہیں جبکہ وزیراعلی بلوچستان نے واضح طور پر کہا ہے کہ پٹرول ایران سے آرہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ بلوچستان کے سرحد حب چوکی کے ڈبہ پمپوں پر کھلے عام ایرانی پٹرول ڈیزل سرکاری قیمت سے 55روپے کم قیمت پر فروخت کیا جارہا ہے، ایرانی پیٹرول بیچنے والوں کے خلاف کسٹم اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن بھی کاروائی کرنے سے ڈرتا ہے۔
عبدالسمیع خان نے کہا کہ گزشتہ برس کے مقابلے مہنگائی کی شرح 28فیصد کے ساتھ بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، شرح سود، بجلی اور دیگر بلوں
اُنگلی پر چھتری کا توازن گھنٹوں تک برقرار رکھنے کا نیا ریکارڈ
میں بھی نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔
