پولیس ہی تحریک طالبان کے نشانے پرکیوں ؟

خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پولیس لائن کی مسجد میں ہونے والے خودکش بم دھماکے میں ہونے والی 100 سے زیادہ شہادتوں کے بعد اب ملک بھر میں سوال کیا جارہا ہے کہ اس وقت پولیس ہی خاص طور پر شدت پسندوں کے نشانے پر کیوں ہے ۔ واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں پولیس پر ہونے والا یہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے،گزشتہ چند ماہ کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں نے کامیابی سے بہت سے پولیس اہلکاروں، تھانوں اور چوکیوں کو نشانہ بنایا جن میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ بنوں میں محکمہ انسداد دہشت گردی کے کمپاؤنڈ پر حملہ ہو یا سوات اور لکی مروت میں پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنانے کے واقعات ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں کی جانب سے پولیس فورس کو ایک آسان ہدف سمجھتے ہوئے نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ ماضی میں ان شدت پسندوں کا اصل ہدف تو پاکستانی فوج رہی ہے اور انھوں نے متعدد حملوں میں سیکورٹی فورسز کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔
مگر حال ہی میں فوج نے افغانستان کی سرحد سے متصل قبائلی اضلاع میں اپنی تعداد کم کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں موجود اپنے اڈوں اور چوکیوں کے دفاع کو بہت مضبوط بنایا ہے جبکہ دوسری جانب فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد پولیس اور ایف سی کو بہت سے سابقہ قبائلی علاقوں میں سکیورٹی اور امن و امان کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔چنانچہ پولیس فورس فوج کی طرح جدید دفاع اسلحہ و بارود سے لیس نہیں ہے اور ان کی تربیت سازی بھی نہیں ہے اس لیے وہ شدت پسندوں کے لیے ایک آسان ہدف ہیں۔سکیورٹی امور کا تجزیہ کرنے والے ماہر عامر رانا اس بارے میں کہتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کے لیے ہمیشہ سے پولیس ایک آسان ہدف رہا ہے کیونکہ ان کے پاس زیادہ تربیت اور سہولیات نہیں ہیں۔دوسری وجہ ریاستی سطح پر جتنی بھی گرفتاریاں ہوتی ہے پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی ہی ان کو دیکھتا ہے اس لیے بھی پولیس کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں سی ٹی ڈی آفس بنوں میں زیر حراست دہشت گردوں نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر فائرنگ شروع کردی اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا سکیورٹی فورسز نے سی ٹی ڈی کمپلیکس میں بھرپور آپریشن کیا، آپریشن کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں 25 دہشت گرد مارے گئے، 3 گرفتار ہوئے اور 7 نے سرنڈر کیا۔ انہی ایام میں لکی مروت کے تھانے برگئی پر بھی دہشت گردوں نے دو اطراف سے حملہ کیا۔ پولیس اور شدت پسند عناصر کے درمیان فائرنگ کے تبادلے سے چار پولیس اہلکار شہید ہوئے اور فائرنگ کرنے کے بعد شدت پسند فرار ہو گئےتھے ، پولیس پر حملوں کے کئی دوسرے واقعات بھی تواتر سے رپورٹ ہوئےہیں۔
واضح رہے کہ خیبر پختون خوا میں لگ بھگ دس سال پی ٹی آئی کی حکومت رہی اور یہ ہمیشہ سے ملک کا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر صوبہ رہا ہے مگر حکومتی غفلت کا عالم یہ رہا کہ کے پی کے .. کے دارالحکومت پشاور میں سیف سٹی کمرے تک نصب نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام اور دہشت گردوں کی شناخت میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے فوج کی طرح اب پولیس کو بھی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے اور ان کے مسلح حملوں سے بچاؤ کے لئے جدید تربیت ، مواصلاتی اور جاسوسی آلات کی فراہمی ضروری ورنہ یہ قانون نافذ کرنے والا سویلین ادارہ مستقبل میں بھی جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے لیس ٹی ٹی پی کی مسلح دہشت گردی کا نشانہ بنتارہےگا۔
صدرنے بیرسٹر شہزاد عطا الٰہی کی بطور اٹانی جنرل تعیناتی کی منظوری دیدی
