200 یونٹ سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں کیلئے بڑے ریلیف کی تیاریاں

بجلی کے بھاری بلوں سے پریشان گھریلو صارفین کے لیے حکومت نے ایک اہم ریلیف پر غور شروع کردیا ہے۔ پاور ڈویژن نے بجلی کے پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ صارفین کے موجودہ فارمولے پر نظرثانی کی تجویز زیرِ غور لائی ہے، جس کے تحت اگر کسی گھر کا بجلی استعمال کسی ایک ماہ میں 200 یونٹ سے بڑھ جائے تو اسے صرف اسی ماہ اضافی نرخ ادا کرنا ہوں گے، جبکہ اگلے پانچ ماہ تک مسلسل زیادہ نرخ ادا کرنے کی موجودہ صورتِ حال ختم ہوسکتی ہے۔
موجودہ طریقہ کار میں 200 یونٹ کی حد اہم حیثیت رکھتی ہے۔ جو گھریلو صارف مسلسل چھ ماہ تک 200 یونٹ یا اس سے کم بجلی استعمال کرے، اسے پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں شمار کیا جاتا ہے اور اسے نسبتاً کم نرخوں کا فائدہ ملتا ہے۔ تاہم 200 یونٹ کی حد عبور ہونے سے صارف کی پروٹیکٹڈ حیثیت متاثر ہوسکتی ہے اور اس کے بعد کئی ماہ تک زیادہ نرخوں کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
نئی تجویز کا بنیادی مقصد اسی مسئلے کو ختم کرنا ہے۔ اگر کسی گھر میں گرمیوں، شدید موسم یا کسی عارضی ضرورت کے باعث کسی ایک ماہ بجلی کا استعمال 200 یونٹ سے بڑھ جاتا ہے تو اس صارف کو مستقل طور پر زیادہ بلوں کے دائرے میں رکھنے کے بجائے اسی ماہ اضافی استعمال پر متعلقہ زیادہ نرخ وصول کیے جائیں۔ اگر اگلے ماہ استعمال دوبارہ کم ہوجائے تو صارف کو بھی نسبتاً کم نرخوں کا فائدہ مل سکے گا۔ تاہم یہ ابھی زیرِ غور تجویز ہے اور حتمی منظوری کے بعد ہی اس پر عمل درآمد ہوسکے گا۔
یہ تبدیلی ان گھریلو صارفین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے جن کا عام ماہانہ استعمال 200 یونٹ کے آس پاس رہتا ہے، لیکن کسی ایک ماہ میں معمولی اضافے کے باعث ان کے بجلی کے بل کئی ماہ تک زیادہ ہوجاتے ہیں۔ صارفین کا ایک دیرینہ مطالبہ بھی یہی رہا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں ایسا نظام بنایا جائے جس میں کسی ایک ماہ کے اضافی استعمال کی سزا مسلسل کئی ماہ تک نہ بھگتنا پڑے۔
دوسری جانب بجلی کے شعبے میں ایک اور اہم معاملہ بھی حکومت اور عالمی مالیاتی ادارے کے درمیان زیر بحث ہے۔ بٹ کوائن مائننگ اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے کم نرخ پر بجلی فراہم کرنے کی تجویز پر حکومت اب تک آئی ایم ایف کو قائل نہیں کرسکی۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ معاملہ آئندہ مذاکرات میں دوبارہ آئی ایم ایف کے سامنے رکھا جائے گا۔
یوں ایک طرف حکومت صنعتی اور ڈیجیٹل شعبے کے لیے بجلی کے نرخوں اور توانائی پالیسی پر مذاکرات کررہی ہے، تو دوسری طرف گھریلو صارفین کے لیے 200 یونٹ کی حد سے جڑے موجودہ فارمولے میں نرمی کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اگر یہ تبدیلی منظور ہوجاتی ہے تو ان صارفین کے لیے اہم ریلیف ہوسکتا ہے جو صرف ایک ماہ زیادہ بجلی استعمال کرنے کے باعث کئی ماہ تک نسبتاً زیادہ نرخ ادا کرتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پاور ڈویژن کی یہ تجویز کب تک حتمی شکل اختیار کرتی ہے اور کیا حکومت واقعی 200 یونٹ کی حد عبور کرنے والے صارفین کو صرف اسی ماہ اضافی نرخ وصول کرکے دوبارہ پروٹیکٹڈ سہولت برقرار رکھنے کا راستہ فراہم کرتی ہے۔ فی الحال حتمی منظوری سامنے نہیں آئی، تاہم اس تجویز نے بجلی کے بلوں سے متاثرہ گھریلو صارفین کے لیے ریلیف کی ایک نئی امید ضرور پیدا کردی ہے۔
