PTIکے اراکین پنجاب اسمبلی منظر نامے سے غائب کیوں؟

27 ستمبر کے مجوزہ احتجاج اور اسلام آباد لانگ مارچ میں اب محض چند دن باقی رہ گئے ہیں، لیکن اس سے پہلے ہی تحریک انصاف کے گرد سیاسی اور انتظامی دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ عمران خان کی تینوں بہنیں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی 30، 30 روز کے لیے نظربند کی جاچکی ہیں، متعدد کارکنوں اور پارٹی عہدیداروں کی گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں، جبکہ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ گرفتار کیے جانے والوں میں اس کے ارکان پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف ایک سوال تیزی سے اہم ہوتا جارہا ہے کہ جب پارٹی کے کارکن گرفتاریوں کا سامنا کر رہے ہیں تو پنجاب اسمبلی کے بیشتر ارکان خود احتجاجی میدان میں کیوں دکھائی نہیں دے رہے؟
لاہور میں ڈپٹی کمشنر کے احکامات کے تحت پہلے علیمہ خان کو 30 روز کے لیے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت نظربند کیا گیا، جس کے ایک روز بعد ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کے خلاف بھی اسی نوعیت کے احکامات جاری کیے گئے۔ سرکاری احکامات میں ماضی کے 9 مئی کے واقعات، امن و امان کے خدشات اور کارکنوں کو احتجاج پر اکسانے جیسے الزامات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تحریک انصاف نے ان کارروائیوں کو سیاسی انتقام اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ ان نظربندیوں کو لاہور ہائیکورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
یوں ایک غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی ہے کہ عمران خان کی تینوں بہنیں ایک ہی وقت میں جیل میں ہیں۔ علیمہ خان کی نظربندی کے بعد عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی گرفتاری نے سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی حکومت کے اس طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو مزید محاذ آرائی کے بجائے کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ 27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں امن و امان برقرار رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اس دوران پنجاب اور راولپنڈی کے مختلف اضلاع سے بھی پی ٹی آئی کارکنوں اور عہدیداروں کی گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تحریک انصاف کے مطابق گرفتار کارکنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے بعض گرفتاریوں اور کارروائیوں کو امن و امان کے پیشگی انتظامات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ڈان کے مطابق پی ٹی آئی نے تقریباً 1500 کارکنوں کی گرفتاری کا دعویٰ کیا ہے، تاہم یہ تعداد آزادانہ طور پر مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے۔
لیکن اسی صورتحال میں پنجاب اسمبلی کے ارکان کا کردار سب سے زیادہ سوالات اٹھا رہا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق بعض پی ٹی آئی ارکان اسمبلی نے 27 ستمبر کے احتجاج کی تیاریوں، تنظیمی حکمت عملی اور وسائل کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بعض ارکان کا مؤقف بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے نمائندوں سے احتجاج کی تاریخ کے اعلان سے پہلے مناسب مشاورت نہیں کی گئی، جبکہ کارکنوں کو متحرک کرنے، سفری اخراجات اور انتظامی تیاریوں کے حوالے سے بھی واضح منصوبہ بندی موجود نہیں۔ ان دعووں کی پارٹی کے بعض ذرائع نے تصدیق کی ہے، اگرچہ تمام ارکان کی رائے یکساں نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کے بعض ارکان اسمبلی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ موجودہ مہنگائی میں کارکنوں کے لیے اپنی جیب سے سفر، پٹرول اور کھانے پینے کے اخراجات برداشت کرنا آسان نہیں۔ بعض ارکان کا کہنا ہے کہ اگر احتجاج کے لیے واضح مالی اور تنظیمی منصوبہ نہ ہو تو عام کارکن کو سڑکوں پر لانا مشکل ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے اندر احتجاج کی حکمت عملی، قیادت کی مشاورت اور مختلف صوبوں کے کردار پر اختلافات کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔
یہ معاملہ صرف سیاسی اختلاف تک محدود نہیں بلکہ قانونی محاذ بھی کھل چکا ہے۔ تحریک انصاف کے پنجاب اسمبلی کے ارکان چوہدری اعجاز شفیع اور شیخ امتیاز محمود نے ایم پی او کی متعلقہ دفعات کو آئینی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔ عدالت نے اس درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان دفعات کے ذریعے آزادی، نقل و حرکت، اجتماع اور قانونی تحفظات سے متعلق بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اب بھی 27 ستمبر کے احتجاج کے فیصلے پر قائم ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پارٹی اپنا احتجاجی حق استعمال کرے گی اور دباؤ کے باوجود منصوبہ تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ بیرسٹر گوہر بھی کہہ چکے ہیں کہ احتجاج پرامن ہوگا اور پارٹی قانون ہاتھ میں نہیں لے گی۔ تحریک انصاف نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ احتجاج اور لانگ مارچ کی تفصیلی حکمت عملی 25 ستمبر کو سامنے لائی جائے گی۔
لیکن حکومتی موقف اس کے برعکس ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے 21 ستمبر کو تحریک انصاف کو 27 ستمبر کے احتجاج سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اس راستے پر نہیں جانا چاہیے۔ حکومت پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ اسلام آباد میں طویل مدتی خلل برداشت نہیں کیا جائے گا اور احتجاج کے دوران قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی ہوگی۔
اس کشیدہ ماحول میں ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب کے ارکان اسمبلی واقعی احتجاج سے الگ ہو رہے ہیں یا موجودہ گرفتاریوں اور حکومتی اقدامات کے باعث اپنی حکمت عملی تبدیل کر رہے ہیں؟ دستیاب معلومات سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی کے بعض ارکان نے احتجاج کے طریقہ کار اور تیاریوں پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، لیکن یہ کہنا کہ پنجاب کے تمام ارکان اسمبلی نے احتجاج سے لاتعلقی اختیار کرلی ہے، موجودہ شواہد سے ثابت نہیں ہوتا۔ اسی طرح بعض ارکان کے نامعلوم مقامات پر منتقل ہونے سے متعلق دعوے بھی ذرائع سے منسوب ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
یہاں ایک بنیادی سیاسی تضاد بھی سامنے آتا ہے۔ ایک طرف پارٹی قیادت کارکنوں کو احتجاج کے لیے تیار کررہی ہے اور اسے آئینی و سیاسی جدوجہد قرار دے رہی ہے، دوسری طرف گرفتاریاں، مقدمات اور حکومتی سخت پالیسی کارکنوں کے لیے حقیقی خطرات پیدا کررہی ہے۔ اس صورتحال میں منتخب نمائندوں سے یہ توقع بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ صرف بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے کارکنوں کے قانونی، سیاسی اور معاشی تحفظ کے لیے واضح حکمت عملی سامنے لائیں۔
دوسری طرف ریاستی اداروں کے لیے بھی یہ سوال اہم ہے کہ اگر کسی احتجاج کو ابھی شروع ہونے سے پہلے ہی سخت انتظامی کارروائیوں کے ذریعے روکنے کی کوشش کی جائے تو سیاسی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن اجتماع کے حق کا احترام کیا جانا چاہیے اور کسی احتجاج کو شروع ہونے سے پہلے ہی پُرتشدد قرار نہیں دیا جانا چاہیے۔ یہ ایک بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم کا مؤقف ہے، جبکہ حکومت اپنی کارروائیوں کو امن و امان کے تناظر میں دیکھتی ہے۔
یوں 27 ستمبر کا احتجاج اب صرف ایک سیاسی جلسے یا لانگ مارچ کا معاملہ نہیں رہا۔ اس کے ایک طرف عمران خان کی تینوں بہنوں کی نظربندی، کارکنوں کی گرفتاریوں اور ریاستی اقدامات کا معاملہ ہے، دوسری طرف تحریک انصاف کے اندر احتجاج کی تیاری، وسائل، قیادت اور منتخب نمائندوں کے کردار پر سوالات موجود ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پنجاب کے ارکان اسمبلی کی خاموشی کو ابھی حتمی سیاسی فیصلہ سمجھنا قبل از وقت ہوگا، کیونکہ پارٹی نے خود 25 ستمبر کو احتجاج کا تفصیلی منصوبہ سامنے لانے کا اعلان کیا ہے۔
اب اصل امتحان صرف حکومت اور تحریک انصاف کا نہیں بلکہ دونوں کے سیاسی طرزِ عمل کا ہے۔ حکومت کے لیے چیلنج یہ ہے کہ امن و امان برقرار رکھتے ہوئے احتجاج کے آئینی حق اور قانونی حدود میں توازن قائم رکھے، جبکہ تحریک انصاف کے لیے سوال یہ ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو کس حد تک منظم، پرامن اور قانونی دائرے میں رکھ پاتی ہے۔ 27 ستمبر سے پہلے ہونے والی گرفتاریاں اور اندرونی اختلافات اس سیاسی کشمکش کو پہلے ہی غیر معمولی طور پر حساس بنا چکے ہیں۔ اب 25 ستمبر کو سامنے آنے والی احتجاجی حکمت عملی اور اس کے بعد کے حالات یہ واضح کریں گے کہ پنجاب کی خاموشی محض عارضی حکمت عملی تھی یا پارٹی کے اندر موجود اختلافات کی ایک بڑی علامت۔
