پنجابی سیاستدان نئے صوبوں کی تجویز پر خاموش کیوں؟

 

 

 

سینیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ طاقتور فیصلہ سازوں کی نئے صوبے بنانے کی تجویز کو سندھ نے تو مزاحمت دکھاتے ہوئے سختی سے رد کر دیا ہے لیکن پنجاب کے سیاستدان ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر خاموش ہیں۔ روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ نے پنجاب کے تاریخی، جغرافیائی اور سیاسی تشخص کا مقدمہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجابی سیاستدان 1947ء کی طرح آج بھی تقسیم در تقسیم ہونے پر نہ چیخیں گے اور نہ چلائیں گے، اگر انہیں یقین ہو کہ نئے صوبوں میں پاکستان کا فائدہ ہے تو وہ قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے، تاہم اگر اس سے ملکی دفاع، استحکام اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہو جائے تو ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔

 

ان کے مطابق تاریخی پنجاب کی حدود موجودہ پنجاب سے کہیں زیادہ وسیع تھیں اور کشمیر، پشاور اور خیبرپختونخوا کے بڑے علاقے بھی اس سیاسی وحدت کا حصہ رہے۔ برطانوی دور میں پنجاب کے جغرافیے میں تبدیلیاں ہوئیں، پہلے صوبہ سرحد اور کشمیر کو الگ کیا گیا اور قیام پاکستان کے موقع پر پنجاب کو بھی دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔

 

سہیل وڑائچ کا استدلال ہے کہ اس تاریخی پس منظر کو نظرانداز کرکے آج پنجاب کی مزید تقسیم پر فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہوگا بلکہ اس کے تاریخی اور سیاسی اثرات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ سہیل وڑائچ واضح کرتے ہیں کہ وہ پنجابیوں کو کسی برتر نسل یا قوم کے طور پر پیش نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق پنجابی بھی پٹھان، سندھی اور بلوچوں کی طرح کبھی جنگیں ہارے اور کبھی جیتے ہیں اور پنجاب کی تاریخ میں مزاحمت، بہادری، مصلحت اور مفاد پرستی، ہر طرح کے کردار موجود رہے ہیں۔ راجہ پورس، احمد خان کھرل اور نواب مظفر خان مزاحمت کی علامت ہیں تو راجہ امبھی آف ٹیکسلا جیسے کردار بھی تاریخ کا حصہ ہیں، اس لیے پنجاب کی تاریخ کو یک طرفہ انداز میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔

 

قیام پاکستان کے حوالے سے سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ مسلم اکثریتی صوبوں نے پاکستان کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا اور پنجاب و سندھ کی صوبائی اسمبلیوں اور سیاسی رہنماؤں نے پاکستان کے حق میں فیصلے کیے، جبکہ صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کے ذریعے فیصلہ ہوا۔ ان کے مطابق پاکستان بننے سے پہلے صوبے اپنی الگ تاریخی اور ثقافتی شناخت رکھتے تھے، اس لیے پاکستانی شناخت پر فخر کے ساتھ اپنی علاقائی شناخت اور ثقافت سے محبت کو بھی سمجھنا چاہیے، کیونکہ کسی خطے سے وابستگی اس وقت تعصب بنتی ہے جب وہ دوسروں کی مخالفت یا نفرت میں تبدیل ہوجائے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق قیام پاکستان کے وقت پنجاب وہ واحد صوبہ تھا جو دو حصوں میں تقسیم ہوا اور اس تقسیم کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت اور انسانی المیہ سامنے آیا۔ وہ اس المیے کو امرتا پریتم کی شہرۂ آفاق نظم ’’اج آکھاں وارث شاہ نوں‘‘ سے جوڑتے ہیں، جس میں پنجاب کی بیٹیوں کے دکھ اور تقسیم کے زخم کو وارث شاہ کے ذریعے بیان کیا گیا۔

 

ان کے نزدیک یہ تاریخ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پنجاب کی جغرافیائی تقسیم محض نقشے پر ایک لکیر کھینچنے کا نام نہیں بلکہ اس کے انسانی اور سماجی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ سہیل وڑائچ نے اس تاثر پر سوال اٹھایا ہے کہ پنجاب نے پاکستان کے قیام کے دوران دوسروں کا استحصال کیا۔ ان کے مطابق پنجاب نے فوج میں بڑی تعداد میں جانیں قربان کرنے کے ساتھ اپنی زبان اور ثقافتی شناخت کے کئی پہلو بھی قربان کیے۔ وہ پنجابی زبان کے بجائے گھروں میں اردو کے فروغ اور پنجاب کے روایتی ثقافتی تشخص میں آنے والی تبدیلیوں کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاکستان سے وابستگی کے عمل میں پنجاب نے اپنی علاقائی شناخت کو بھی بڑی حد تک پس پشت ڈال دیا۔

 

ان کے مطابق نئے صوبوں کی بحث سامنے آنے پر سندھ سے شدید ردعمل سامنے آیا، کراچی کے مہاجر حلقوں نے بھی آواز اٹھائی، خیبر پختونخوا سے مولانا فضل الرحمن نے اپنی رائے دی اور بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی بھی اس بحث میں نمایاں رہے، لیکن پنجاب کے حکمران، سیاستدان اور دانشور خاموش دکھائی دیے۔ سہیل وڑائچ اسی خاموشی کے حوالے سے سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر پنجاب کے مفادات، اس کی شناخت اور جغرافیے سے متعلق اتنا بڑا فیصلہ زیر بحث ہو تو پنجاب کی اپنی سیاسی اور فکری قیادت کو بھی اس پر کھل کر بات کرنی چاہیے۔

 

ان کا کہنا ہے کہ 1947ء میں پنجاب کی تقسیم کے وقت بھی مؤثر آواز بلند نہیں ہوئی اور آج نئے صوبوں کی بحث میں بھی پنجاب کی جانب سے ایسی واضح آواز سنائی نہیں دے رہی۔ یوں اصل سوال پنجاب کی تقسیم سے زیادہ پنجاب کی سیاسی خاموشی کا بن جاتا ہے۔ سہیل وڑائچ پنجاب کے بارے میں عمومی منفی تصورات کو چیلنج کرتے ہیں اور یاد دلاتے ہیں کہ پنجاب کی تاریخ میں حکمرانی، جنگ، معیشت اور سیاسی اثرورسوخ کے مختلف ادوار گزرے ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب کے لوگوں نے برطانوی دور کی مختلف جنگوں سمیت کئی تاریخی مراحل میں بڑی جانی قربانیاں دیں اور قیام پاکستان کے لیے بھی اس خطے نے بھاری قیمت ادا کی۔ ان کا مقصد پنجاب کو دوسری قومیتوں سے برتر ثابت کرنا نہیں بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ پنجاب کی تاریخ کو اسکی قربانیوں، کامیابیوں، ناکامیوں اور پیچیدگیوں سمیت دیکھا جانا چاہیے۔

خیبرپختونخوا میں کرپشن کی انتہا،خواتین کی پوسٹوں پر مرد تعینات

سہیل وڑائچ نئے صوبوں کے قیام کی بحث کو قومی مفاد سے جوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ پنجاب پاکستان کے مفاد میں قربانی دینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا، لیکن کسی بھی نئی تقسیم کے ممکنہ اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے مطابق اگر نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی بہتری، عوامی سہولت اور ملکی استحکام حاصل ہوتا ہے تو اس پر سنجیدہ غور ہوسکتا ہے، لیکن اگر اس کے نتیجے میں دفاع، سلامتی، سیاسی استحکام یا معاشی توازن متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو فیصلہ انتہائی احتیاط سے ہونا چاہیے۔

 

 

Back to top button