پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سےحکومت اتنی پریشان کیوں؟

27 ستمبر کا دن قریب آتے ہی پاکستان کی سیاست ایک مرتبہ پھر احتجاج، گرفتاریوں، حکومتی وارننگز اور ممکنہ سیاسی تصادم کے خدشات کے گرد گھومنے لگی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے، جبکہ حکومت نے اس احتجاج کو روکنے کے لیے پہلے ہی سخت انتظامی اور قانونی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ عمران خان کی تین بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی گرفتاریوں سمیت متعدد پی ٹی آئی کارکنوں اور رہنماؤں کی حراست نے سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے۔ علیمہ خان کو 30 روز کے لیے امنِ عامہ کے قانون کے تحت حراست میں لیا گیا، جبکہ بعد میں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی حراست کے احکامات بھی جاری ہوئے۔

یہ صورتِ حال اس سوال کو اہم بنا رہی ہے کہ آخر 27 ستمبر کے احتجاج سے پہلے ہی حکومت نے اتنے سخت اقدامات کیوں شروع کر دیے ہیں؟ کیا حکومتی حلقے کسی بڑے عوامی اجتماع یا اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کو محض سیاسی احتجاج کے بجائے امن و امان کے لیے سنجیدہ خطرہ سمجھ رہے ہیں، یا پھر گرفتاریوں اور پابندیوں کے ذریعے احتجاج کی سیاسی قوت کو پہلے ہی کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ دوسری جانب پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ گرفتاریوں اور دباؤ کے باوجود احتجاج کا فیصلہ تبدیل نہیں کیا جائے گا اور اسے آئینی و سیاسی جدوجہد کے طور پر جاری رکھا جائے گا۔

حالیہ دنوں میں حکومتی اقدامات کی شدت اس لیے بھی نمایاں ہوئی ہے کہ کارروائی صرف کارکنوں تک محدود نہیں رہی۔ علیمہ خان کی حراست کے بعد ان کی دونوں بہنوں عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی 30 روز کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔ ان اقدامات کے لیے پنجاب کے امنِ عامہ کے قانون کا حوالہ دیا گیا ہے، جبکہ ان حراستوں کو عدالت میں چیلنج بھی کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی واضح الفاظ میں پی ٹی آئی کو 27 ستمبر کا احتجاج روکنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت احتجاج کے دوران کسی بھی خلل کو برداشت نہیں کرے گی اور اگر مارچ آگے بڑھا تو حکومت بھرپور ردعمل دے گی۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد میں عوامی سڑکوں اور دیگر مقامات پر ایسا احتجاج جس سے معمولات زندگی متاثر ہوں، قابل قبول نہیں ہوگا۔

اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں بھی سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے دوران عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا سرکاری عمارتوں پر قبضے کے قانونی حق سے متعلق اہم نکات سامنے آئے تھے۔ وفاقی حکومت نے اسی قانونی صورتِ حال کو بنیاد بناتے ہوئے پی ٹی آئی کو خبردار کیا ہے کہ احتجاج اگر عدالتی احکامات یا قانون کی خلاف ورزی کی شکل اختیار کرتا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ اس کا احتجاج پرامن اور آئینی ہوگا۔ پارٹی قیادت نے گرفتاریوں کو سیاسی دباؤ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ اور کارکنوں کو گرفتار کرکے عوامی احتجاج کو روکا نہیں جا سکتا۔ پی ٹی آئی کے مطابق 27 ستمبر کا احتجاج عمران خان کی رہائی اور آئینی و سیاسی حقوق کے مطالبے کے لیے کیا جا رہا ہے اور حکومتی کارروائیاں اس کے ارادے کو تبدیل نہیں کریں گی۔

یہاں ایک اہم پہلو حکومت اور جماعت اسلامی کے احتجاج کے درمیان سرکاری ردعمل کا تقابلی سوال بھی ہے۔ حالیہ رپورٹنگ کے مطابق سکیورٹی حکام نے دونوں احتجاجی سرگرمیوں کو الگ نوعیت کا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ فی الحال جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے احتجاج کے درمیان کوئی عملی رابطہ نہیں دیکھا جا رہا۔ ایک سکیورٹی اہلکار کے مطابق حکام پی ٹی آئی کے احتجاج کو اس کے ماضی کے احتجاجی طرزِعمل اور اسلام آباد میں ممکنہ اثرات کے باعث زیادہ حساس سمجھ رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کے معاملے میں بھی حکومت نے مکمل طور پر نرم رویہ اختیار نہیں کیا۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے ایک دور میں حکومتی وفد نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔

پی ٹی آئی کے معاملے میں حکومتی تشویش کی ایک بڑی وجہ یہ بھی معلوم ہوتی ہے کہ پارٹی نے احتجاج کو صرف اسلام آباد میں ایک محدود اجتماع تک رکھنے کے بجائے ملک گیر سیاسی سرگرمی میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے مختلف علاقوں سے قافلوں کو اسلام آباد کی طرف لانے کی حکمت عملی زیر بحث رہی ہے، جبکہ حکومت پہلے ہی صوبائی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کو ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کے لیے متحرک کر چکی ہے۔

یہاں حکومت کے لیے اصل چیلنج صرف یہ نہیں کہ احتجاج کو کیسے روکا جائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ احتجاج کے دوران سیاسی کشیدگی کو کسی بڑے تصادم میں تبدیل ہونے سے کیسے روکا جائے۔ اگر بڑے پیمانے پر گرفتاریاں جاری رہتی ہیں، راستے بند کیے جاتے ہیں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائی بڑھتی ہے تو پی ٹی آئی اسے سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائی کے بیانیے کے طور پر استعمال کرے گی۔ دوسری طرف اگر حکومت احتجاج کو مکمل آزادی دیتی ہے اور اس کے نتیجے میں سڑکیں بند ہوتی ہیں یا ریاستی و عوامی املاک کو نقصان پہنچتا ہے تو حکومت کو امن و امان کے حوالے سے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی لیے 27 ستمبر سے پہلے حکومت کے سامنے دو متوازی تقاضے نظر آ رہے ہیں: ایک طرف قانون اور امن و امان کو برقرار رکھنا اور دوسری طرف سیاسی کشیدگی کو اس حد تک بڑھنے سے روکنا کہ مذاکرات کے امکانات ہی ختم ہو جائیں۔ موجودہ صورتحال میں حکومتی سخت بیانات کے باوجود سیاسی رابطوں کی گنجائش مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ حکومت کی جانب سے مختلف احتجاجی جماعتوں سے مذاکرات کی کوششیں بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ سیاسی راستہ ابھی بند نہیں ہوا۔

پی ٹی آئی کے لیے بھی 27 ستمبر کا احتجاج ایک اہم سیاسی امتحان ہے۔ پارٹی ایک طرف اسے آئینی اور پرامن احتجاج قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف حکومت اور سکیورٹی ادارے ممکنہ بدنظمی اور عوامی زندگی متاثر ہونے کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں احتجاج کے منتظمین کے لیے سب سے اہم سوال یہی ہوگا کہ وہ اپنے کارکنوں کو کس حد تک منظم رکھتے ہیں اور احتجاج کو واقعی پرامن رکھتے ہوئے اپنے سیاسی مطالبات کس انداز میں سامنے لاتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ احتجاج کے نتیجے میں معیشت اور معمولات زندگی متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ حکومت سیاسی دباؤ کے ذریعے اس کی آئینی جدوجہد روکنا چاہتی ہے۔ یوں دونوں فریق ایک ہی صورتحال کو بالکل مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ حکومت اسے امن و امان اور قانون کی حکمرانی کا معاملہ قرار دے رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی اسے سیاسی اور آئینی حقوق کا مسئلہ سمجھتی ہے۔

اس پوری صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ 27 ستمبر کا احتجاج صرف ایک دن کی سیاسی سرگرمی نہیں رہے گا بلکہ اس کے بعد کے سیاسی ماحول پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر احتجاج پرامن رہتا ہے تو سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات اور سیاسی دباؤ کا راستہ کھلا رہ سکتا ہے، لیکن اگر تصادم، گرفتاریوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ مزید بڑھا تو سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے آنے والے دنوں میں حکومت کے فیصلے، پی ٹی آئی کی احتجاجی حکمت عملی، عدالتی احکامات اور دونوں جانب سے مذاکرات کے امکانات سب انتہائی اہم ہوں گے۔

فی الحال ایک بات واضح ہے کہ 27 ستمبر کا لانگ مارچ حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کے لیے ایک اہم سیاسی مرحلہ بن چکا ہے۔ حکومت سخت انتظامات کے ذریعے احتجاج کے ممکنہ اثرات کو محدود کرنا چاہتی ہے، جبکہ پی ٹی آئی گرفتاریوں اور دباؤ کے باوجود احتجاج جاری رکھنے پر قائم ہے۔ ایسے میں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد میں کیا ہوگا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس دن کے بعد پاکستان کی سیاست تصادم کے مزید قریب جائے گی یا سیاسی قوتیں مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کریں گی۔

Back to top button