ڈھاکہ یونیورسٹی میں جناح کی تصاویر پر ہنگامہ،اصل تنازع کیا؟

ڈھاکہ یونیورسٹی میں قائد اعظم محمد علی جناح کی تصاویر آویزاں کیے جانے، پھر ایک سابق طالب علم کی جانب سے انہیں پھاڑنے اور اس کے بعد طلبہ کے درمیان احتجاج اور جوابی ردعمل نے بنگلہ دیش میں تاریخ کے ایک ایسے باب کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے جسے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بند نہیں کیا جا سکا۔ یہ تنازع بظاہر ایک یونیورسٹی کے تاریخی آرکائیو میں چند تصاویر کی نمائش کا معاملہ ہے، لیکن اس کے پیچھے پاکستان، بنگلہ دیش، زبان کی تحریک، 1971 کی جنگ، قوم پرستی اور بدلتے سیاسی بیانیوں کی پوری تاریخ موجود ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں قائم کی ہیں، جبکہ مختلف طلبہ اور اساتذہ تنظیموں کے مؤقف نے واضح کر دیا ہے کہ یہ صرف تصاویر کا نہیں بلکہ اس بات کا سوال بھی ہے کہ آنے والی نسلوں کو اپنی تاریخ کس زاویے سے دکھائی جائے گی۔

واقعے کے مطابق ڈھاکہ یونیورسٹی کی مرکزی طلبہ یونین کے تاریخی آرکائیو کی گیلری کو تزئین و آرائش کے بعد دوبارہ کھولا گیا تو وہاں محمد علی جناح سے متعلق تین تصاویر اور تاریخی مواد بھی شامل کیا گیا۔ ان میں 21 مارچ 1948 کو ڈھاکہ میں جناح کی جانب سے اردو کو پاکستان کی واحد ریاستی زبان قرار دینے سے متعلق تصویر، 1940 میں لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس کی تصویر اور 1970 کے انتخابات سے متعلق ایک اخباری تراشہ شامل تھا۔ طلبہ یونین کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ان تصاویر کا مقصد جناح کو بطور ہیرو پیش کرنا نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی تاریخ میں ان کے کردار اور ان کے متنازع زبان سے متعلق مؤقف کو تاریخی تناظر میں دکھانا تھا۔

لیکن گیلری دوبارہ کھلنے کے فوراً بعد ایک سابق طالب علم محمد ابو طیب نے جناح کی تصویر کا فریم توڑا، تصویر نکالی اور اسے پھاڑ دیا۔ بعد میں ایک اور اخباری تراشے کو بھی پھاڑا گیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ بنگلہ دیش کے عوام 1971 اور زبان کی تحریک کو نہیں بھولے اور جناح کی تصویر کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے تاریخی آرکائیو میں نمایاں کرنا قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق جناح پاکستان کے بانی تھے، بنگلہ دیش کے قومی رہنما نہیں۔

اس واقعے کے بعد تنازع مزید بڑھ گیا اور بعض طلبہ نے جناح اور جماعت اسلامی کے سابق رہنما غلام اعظم کی تصاویر زمین پر رکھ کر ان پر قدم رکھے۔ دوسری جانب ڈھاکہ یونیورسٹی کی مرکزی طلبہ یونین کے جنرل سیکرٹری ایس ایم فرہاد نے جناح کی تصاویر پھاڑے جانے کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ تاریخی مواد کو ختم کرنا تاریخ کو مٹانے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق جناح کی 1948 کی زبان سے متعلق تقریر اس لیے دکھائی گئی تھی تاکہ طلبہ اس دور کے واقعات اور جناح کے موقف کو سمجھ سکیں، نہ کہ انہیں بطور ہیرو پیش کیا جائے۔

یہاں اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی تاریخی شخصیت کی تصویر کسی عجائب گھر یا آرکائیو میں موجود ہونا کیا لازماً اس شخصیت کی حمایت کے مترادف ہے؟ تاریخ کے ماہرین کے درمیان عمومی طور پر تاریخی مواد کو محفوظ رکھنے اور اس کی تشریح کرنے کے دو الگ تصورات پائے جاتے ہیں۔ ایک مؤقف یہ ہے کہ متنازع شخصیات اور واقعات کو بھی تاریخ کا حصہ سمجھ کر محفوظ رکھا جائے تاکہ نئی نسل مکمل پس منظر جان سکے، جبکہ دوسرا مؤقف یہ ہے کہ کسی قومی یادگار یا مخصوص تاریخی مقام پر کسی شخصیت کو نمایاں کرنا بذاتِ خود ایک سیاسی اور علامتی پیغام بن سکتا ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کا موجودہ تنازع اسی بنیادی سوال کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے۔

محمد علی جناح اور بنگالی قوم پرستی کے درمیان سب سے حساس رشتہ زبان کے مسئلے سے جڑا ہوا ہے۔ 1948 میں ڈھاکہ کے دورے کے دوران جناح نے اردو کو پاکستان کی واحد ریاستی زبان قرار دینے کا مؤقف اختیار کیا، جس پر بنگالی طلبہ اور سیاسی حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ بعد کے برسوں میں زبان کا مسئلہ مشرقی پاکستان کی سیاسی شناخت کی تحریک کا اہم حصہ بن گیا اور 1952 کی زبان کی تحریک نے بنگالی قومی شعور پر گہرا اثر ڈالا۔ آج بنگلہ دیش میں جناح کی یاد کا بڑا حصہ اسی تاریخی تنازع کے ذریعے دیکھا جاتا ہے۔

تاہم اس تاریخ کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جسے موجودہ تنازع میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 1940 کی قراردادِ لاہور، مسلم لیگ کی سیاست، برصغیر کی تقسیم اور 1947 میں پاکستان کا قیام جنوبی ایشیا کی جدید سیاسی تاریخ کے بنیادی واقعات ہیں۔ جناح ان تمام واقعات کے مرکزی کرداروں میں شامل تھے۔ اسی لیے بنگلہ دیش کے ایک تاریخی آرکائیو میں ان سے متعلق مواد موجود ہونا بذاتِ خود ایک تاریخی حقیقت کی نمائندگی کر سکتا ہے، خواہ نئی نسل ان کے سیاسی فیصلوں سے اتفاق کرے یا اختلاف۔

دوسری جانب ڈھاکہ یونیورسٹی کے بعض اساتذہ اور طلبہ تنظیموں نے اس نمائش پر شدید اعتراض کیا ہے۔ یونیورسٹی ٹیچرز نیٹ ورک نے دعویٰ کیا کہ گیلری سے شیخ مجیب الرحمن کی نمایاں تصویر اور 1971 سے متعلق بعض تاریخی مواد ہٹایا گیا اور جناح کی تصویر شامل کی گئی۔ اس تنظیم نے اسے بنگلہ دیش کی آزادی کی تاریخ کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ تاہم یہ بھی واضح ہے کہ اس معاملے میں مختلف فریق تاریخی مواد کی تبدیلی اور اس کی تشریح کو بالکل مختلف زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔

یہ تنازع اس لیے بھی اہم ہے کہ بنگلہ دیش میں 2024 کے بعد سیاسی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ماضی کے کئی سرکاری اور سیاسی بیانیوں پر دوبارہ بحث شروع ہوئی ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے آرکائیو میں شیخ مجیب الرحمن کی نمایاں تصویر کی عدم موجودگی اور جناح سے متعلق مواد کی شمولیت کو بھی اسی وسیع تر سیاسی تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، اگرچہ مختلف گروہ اس تبدیلی کی مختلف وجوہ بیان کرتے ہیں۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کو محض سیاسی بحث تک محدود رکھنے کے بجائے تحقیقات کا راستہ اختیار کیا ہے۔ انتظامیہ نے جناح اور سابق طلبہ رہنما عبد المالک کی تصاویر کی نمائش سمیت دیگر معاملات کی تحقیقات کے لیے الگ کمیٹیاں قائم کی ہیں اور کہا گیا ہے کہ رپورٹس کی بنیاد پر کارروائی کی جائے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونیورسٹی خود بھی اس معاملے کو حساس سمجھتی ہے اور تاریخی آرکائیو میں تبدیلیوں کے طریقۂ کار اور اجازت کے معاملے کو اہمیت دے رہی ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ جناح کی تصاویر پھاڑنے والے سابق طالب علم کا مؤقف بھی محض کسی ذاتی اختلاف تک محدود نہیں بلکہ وہ زبان کی تحریک اور 1971 کو اپنی شناخت کے بنیادی حصے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ دوسری طرف تصاویر لگانے والے طلبہ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تاریخ کو پسند یا ناپسند کی بنیاد پر حذف نہیں کیا جا سکتا۔ یوں ایک ہی واقعے کے دو بالکل مختلف بیانیے سامنے آ گئے ہیں: ایک طرف اسے بنگلہ دیشی قومی تاریخ کے خلاف اقدام سمجھا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اسے تاریخ کے ان حصوں کو دوبارہ سامنے لانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے جو ایک مخصوص سیاسی دور میں دب گئے تھے۔

اصل امتحان شاید یہی ہے کہ بنگلہ دیش اپنے ماضی کو سیاسی ضرورت کے مطابق دوبارہ ترتیب دیتا ہے یا تمام متنازع کرداروں، واقعات اور دستاویزات کو ایک ایسے تاریخی تناظر میں محفوظ کرتا ہے جہاں نئی نسل کو مختلف مؤقف پڑھنے اور سمجھنے کا موقع مل سکے۔ کسی تصویر کو پھاڑ دینا یا کسی تصویر کو نمایاں جگہ پر لگا دینا دونوں اپنے اپنے طور پر علامتی اقدامات ہیں، لیکن تاریخ کی پیچیدگی ان دونوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

ڈھاکہ یونیورسٹی کا یہ واقعہ اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 1971 کے بعد سیاسی فاصلے چاہے بہت بڑھ گئے ہوں، لیکن مشترکہ تاریخ کے کئی کردار اور واقعات آج بھی دونوں معاشروں کے اجتماعی شعور میں موجود ہیں۔ محمد علی جناح بنگلہ دیش کے قومی بانی نہیں، لیکن برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کی تاریخ میں ان کا مرکزی کردار ایک تاریخی حقیقت ہے۔ اسی طرح بنگالی زبان کی تحریک اور 1971 کی جنگ بھی بنگلہ دیش کی قومی شناخت کے بنیادی واقعات ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تاریخ کو سمجھنے کے بجائے اسے صرف اپنے موجودہ سیاسی مؤقف کی تائید یا مخالفت کے لیے استعمال کیا جائے۔

اسی لیے ڈھاکہ یونیورسٹی کے اس تنازع کا اصل نتیجہ صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جناح کی تصویر دوبارہ لگائی جائے یا ہٹا دی جائے۔ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایک تاریخی آرکائیو اپنے تمام متنازع اور اہم واقعات کو ان کے مکمل پس منظر کے ساتھ پیش کر سکتا ہے؟ اگر جناح کی 1948 کی تقریر دکھائی جائے تو اس کے ساتھ بنگالی طلبہ کے احتجاج، زبان کی تحریک اور اس کے بعد کے واقعات بھی دکھائے جائیں، اور اگر 1971 کی تاریخ بیان کی جائے تو اس سے پہلے کے سیاسی واقعات اور پاکستان کی تشکیل کا پس منظر بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔ شاید یہی طریقہ تاریخ کو سیاسی ہتھیار بنانے کے بجائے علمی مطالعے کا موضوع بنا سکتا ہے۔

Back to top button