بلوچستان میں بڑے آپریشن کی تیاری؟علاقہ مکینوں کو نوٹس جاری

بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں ریاست نے صرف عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرنے کے بجائے بعض حساس علاقوں کی شہری آبادی کو بھی عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قلات، خضدار، سوراب اور مستونگ کے پہاڑی سلسلوں سے متصل بعض علاقوں کے مکینوں کو 28 ستمبر تک علاقہ خالی کرنے کے نوٹس جاری ہونا معمول کی سکیورٹی کارروائی سے کہیں زیادہ اہم پیش رفت ہے، کیونکہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انتظامیہ کو ان علاقوں میں مسلح گروہوں کی موجودگی یا ممکنہ کارروائیوں کے حوالے سے ایسے سکیورٹی خدشات لاحق ہیں جن کے باعث شہری آبادی کو آپریشنل علاقے سے دور رکھنا ضروری سمجھا گیا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو کے مطابق قلات کے پارود، شور اور گزگ سمیت بعض علاقوں کے مکینوں کو عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ انتظامیہ نے متبادل رہائش، خیموں، خوراک اور بنیادی ضروریات فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔
اس صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ریاست ایک طرف عسکریت پسندوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی تیاری کر رہی ہے اور دوسری طرف اسے اس بات کا بھی سامنا ہے کہ سکیورٹی آپریشن کی قیمت عام شہریوں کو نہ چکانی پڑے۔ کسی علاقے میں آپریشن سے پہلے آبادی کا انخلا بظاہر شہری جانوں کے تحفظ کے لیے ایک حفاظتی اقدام ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ عارضی نقل مکانی کتنے عرصے تک جاری رہے گی، متاثرہ خاندانوں کی معاشی مشکلات کا ازالہ کیسے ہوگا اور انہیں اپنے گھروں اور روزگار پر واپس کب بھیجا جائے گا۔ صرف محفوظ مقام تک منتقل کرنا کافی نہیں؛ اصل امتحان یہ ہوگا کہ ریاست ان خاندانوں کی مکمل ذمہ داری کس حد تک اٹھاتی ہے۔
بلوچستان حکومت پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ صوبے کے بعض پہاڑی علاقوں میں عسکریت پسند طویل عرصے سے موجود ہیں اور سکیورٹی فورسز کے لیے دشوار گزار علاقوں میں کارروائی ایک پیچیدہ چیلنج ہے۔ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف کارروائی جاری رکھے گی اور مسلح ہوکر ریاست کے خلاف لڑنے والوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔ اسی تناظر میں شور پارود کے علاقے سے تقریباً ایک ہزار افراد کی عارضی منتقلی کا منصوبہ بھی سامنے آچکا ہے، جسے حکومت نے سکیورٹی آپریشن کے لیے ضروری ماحول پیدا کرنے سے جوڑا ہے۔
لیکن بلوچستان کی موجودہ صورتحال صرف ایک سکیورٹی آپریشن کا معاملہ نہیں۔ یہ ریاست اور مقامی آبادی کے درمیان اعتماد، شہری حقوق، روزگار، نجی املاک کے تحفظ اور طویل المدت امن کی حکمت عملی کا بھی امتحان ہے۔ اگر کسی علاقے میں عسکریت پسند شہری آبادی یا نجی املاک کو اپنے ٹھکانوں یا حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں تو ریاست کے لیے اس خطرے کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں، لیکن اسی کے ساتھ پوری آبادی کو مشتبہ سمجھ لینا بھی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہوسکتا۔ حکومت کو یہ فرق واضح طور پر برقرار رکھنا ہوگا کہ کارروائی مسلح عناصر اور ان کے ثابت شدہ سہولت کاروں کے خلاف ہے، عام شہریوں کے خلاف نہیں۔
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس سے قبل نجی املاک، خصوصاً باغات کو عسکریت پسندوں کی جانب سے مبینہ طور پر استعمال کیے جانے پر سخت مؤقف اختیار کیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر نجی زمین یا باغات سے سکیورٹی فورسز پر حملے کیے گئے تو مالکان کو سہولت کار سمجھا جاسکتا ہے۔ تاہم اس مؤقف پر سیاسی اور قبائلی حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی اور یہ سوال اٹھایا گیا کہ چند افراد کی مبینہ سرگرمیوں کی سزا پوری آبادی یا زمینداروں کو نہیں دی جانی چاہیے۔
دوسری طرف صوبے میں حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد سکیورٹی کارروائیوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ریاست نے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں شدت پیدا کی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے خاران اور واشک میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیوں میں عسکریت پسندوں کی ہلاکت اور بڑی مقدار میں دھماکہ خیز مواد برآمد کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ مستونگ، قلات اور دیگر علاقوں میں بھی سکیورٹی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔
اس پس منظر میں 28 ستمبر کی ڈیڈ لائن خاص اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اگر مقررہ تاریخ کے بعد بڑے پیمانے پر سکیورٹی آپریشن شروع ہوتا ہے تو حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ کارروائی کو انٹیلی جنس کی بنیاد پر، محدود اور ہدفی رکھا جائے تاکہ عسکریت پسندوں اور عام شہریوں کے درمیان واضح فرق برقرار رہے۔ بلوچستان جیسے وسیع اور دشوار گزار صوبے میں محض طاقت کا استعمال مستقل امن کی ضمانت نہیں بن سکتا؛ اس کے ساتھ مقامی آبادی کا اعتماد، مؤثر انتظامیہ، روزگار، تعلیم، بنیادی سہولیات اور سیاسی شمولیت بھی ضروری ہوں گے۔
ریاستی مؤقف کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مسلح گروہوں کا خطرہ ختم نہیں ہوجاتا، لیکن اس حکمت عملی کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف کتنے عسکریت پسند مارے گئے یا کتنے ٹھکانے تباہ ہوئے، نہیں ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ بھی ہوگا کہ کیا عام شہری محفوظ ہوئے، کیا نقل مکانی کرنے والے خاندان باعزت اور محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جاسکے، کیا مقامی معیشت کو نقصان سے بچایا گیا اور کیا کارروائی کے بعد ان علاقوں میں ریاستی اداروں کی مستقل موجودگی قائم ہوئی؟
بلوچستان اس وقت ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف مسلح گروہوں کے خلاف ریاستی کارروائی میں شدت آ رہی ہے، دوسری طرف عام آبادی کو اس کارروائی کے ممکنہ اثرات سے بچانے کے لیے عارضی انخلا جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اگر حکومت واقعی ان علاقوں میں دیرپا امن چاہتی ہے تو سکیورٹی آپریشن کے ساتھ ایک جامع سیاسی، انتظامی اور معاشی حکمت عملی بھی ضروری ہوگی۔ 28 ستمبر کے بعد ہونے والی پیش رفت یہ طے کرے گی کہ موجودہ اقدامات محض ایک عارضی سکیورٹی مہم ثابت ہوتے ہیں یا بلوچستان میں ریاستی رٹ، شہری تحفظ اور مستقل امن کے لیے کسی طویل المدت حکمت عملی کا آغاز بنتے ہیں۔
