خیبرپختونخوا میں کرپشن کی انتہا،خواتین کی پوسٹوں پر مرد تعینات

پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت میں الٹی گنگا بہنے لگی،صوبائی محکمہ صحت نے بے قاعدگیوں کی انتہا کرتے ہوئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کے کوٹے پر کئی نوجوانوں کو بھرتی کر لیا۔ ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع مردان میں محکمہ صحت کی بھرتیوں میں ایسی بدانتظامی سامنے آئی ہے جس نے پورے بھرتی کے نظام پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ محکمہ صحت کی انکوائری کے مطابق خواتین کے لیے مخصوص لیڈی ہیلتھ ورکرز کی اسامیوں پر بھی مرد امیدواروں کو بھرتی کیا گیا، جبکہ 66 منظور شدہ اسامیوں پر 173 افراد کی تقرری بھی تحقیقات کی زد میں آگئی۔
محکمہ صحت کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کے بعد جنوری 2023 میں تحقیقات شروع کی گئیں۔ دو اعلیٰ افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی کے مطابق 2021-22 میں مردان کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس کو درجہ چہارم کی 66 اسامیوں پر اہل امیدوار بھرتی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی، جبکہ ڈسٹرکٹ ایمپلائمنٹ ایکسچینج کی جانب سے بھی دو مرتبہ اہل امیدواروں کی فہرست فراہم کی گئی، لیکن رپورٹ کے مطابق ان فہرستوں کو نظرانداز کرتے ہوئے 173 افراد کو بھرتی کیا گیا۔
ان 173 بھرتیوں میں 31 افراد کو لیڈی ہیلتھ ورکرز کی ان اسامیوں پر تعینات کیا گیا جو خصوصی طور پر خواتین کے لیے مختص تھیں۔ انکوائری میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ بعض بھرتیوں میں ریٹائرڈ یا فوت شدہ سرکاری ملازمین کے بچوں کے مخصوص کوٹے کا بھی مبینہ طور پر غلط استعمال کیا گیا، جبکہ حالیہ بھرتی ہونے والے 20 سے زائد ملازمین کی عمریں 40 سال سے زیادہ بتائی گئی ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت مزید سنگین ہوگیا جب رکن صوبائی اسمبلی عبدالسلام آفریدی نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں الزام عائد کیا کہ غیر متعلقہ افراد کو بھرتی کرنے کے لیے مبینہ طور پر لاکھوں روپے وصول کیے گئے۔ ان الزامات کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا گیا اور انکوائری رپورٹ میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر مردان ڈاکٹر کچکول خان اور تین کلرکوں کو معاملے میں ملوث قرار دیا گیا۔
محکمہ صحت کے مطابق مختلف کمیٹیوں کی رپورٹس اور انکوائری کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈاکٹر کچکول خان کے خلاف کارروائی کی گئی اور جرم ثابت ہونے کے بعد انہیں ملازمت سے برخاست کردیا گیا۔ تاہم یہ معاملہ صرف ایک افسر کی برطرفی تک محدود نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس میں بھرتی کے پورے طریقہ کار، اہل امیدواروں کی فہرستوں کو نظرانداز کرنے اور مخصوص کوٹے کے ممکنہ غلط استعمال جیسے اہم سوالات سامنے آتے ہیں۔
یہ واقعہ خیبرپختونخوا میں سرکاری بھرتیوں کے نظام کی نگرانی اور شفافیت پر بھی سنجیدہ سوال اٹھاتا ہے۔ اگر مخصوص اسامیوں پر غیر متعلقہ افراد کی تقرری اور منظور شدہ اسامیوں سے کہیں زیادہ بھرتیاں ثابت ہوتی ہیں تو ذمہ داری صرف ایک افسر تک محدود رکھنے کے بجائے پورے عمل کا جائزہ لینا ضروری ہوگا، تاکہ اہل امیدواروں کے حق کا تحفظ اور مستقبل میں ایسی بے قاعدگیوں کی روک تھام یقینی بنائی جاسکے۔
