حکومتی ترجیحات بدل گئیں،KPK میں بدامنی،بدانتظامی اور دہشتگردی عروج پر

خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور انتظامی مسائل نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ جنوبی اضلاع بنوں، لکی مروت، شمالی وزیرستان، کرم، ہنگو، کوہاٹ، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردی کے مسلسل واقعات کے باعث شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو شدید خطرات کا سامنا ہے، جبکہ حالیہ کوہاٹ حملے نے اس بحران کی شدت مزید نمایاں کر دی ہے۔ تاہم وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے ذمہ داران عوامی مسائل حل کرنے یا دہشتگردی پر قابو پانے کیلئے اقدامات کرنے کی بجائے وفاق پر دھاوا بولنے کی سازشوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق جنوبی اضلاع میں تعینات ایک اعلیٰ پولیس افسر نے دعویٰ کیا ہے کہ دہشتگردی کے بڑھتے واقعات اور پولیس کو درپیش وسائل کی کمی کے بارے میں صوبائی حکومت کو متعدد بار آگاہ کیا گیا، لیکن مؤثر شنوائی نہیں ہوئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض پولیس افسران کے مطابق صوبائی قیادت شہدا کے جنازوں میں بھی خاطر خواہ موجودگی نہیں دکھا رہی اور امن و امان کے معاملے پر مطلوبہ سطح کے اجلاس نہیں کیے جا رہے۔
مسئلہ صرف امن و امان تک محدود نہیں۔ رپورٹ کے مطابق صوبے کے متعدد بورڈز اور اتھارٹیز کے اجلاس کئی ماہ سے زیر التوا ہیں کیونکہ ان کے چیئرمین کا عہدہ وزیراعلیٰ کے پاس ہے۔ ایک انتظامی سیکریٹری نے الزام عائد کیا کہ اہم فیصلوں میں تاخیر کے باعث مختلف محکموں کی پالیسی سازی اور انتظامی معاملات متاثر ہو رہے ہیں۔ اسی طرح بعض حکومتی ارکان کی جانب سے وزیراعلیٰ تک رسائی نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب صوبے کو غیر معمولی سکیورٹی چیلنجز درپیش ہیں۔ وفاقی حکومت نے حال ہی میں خیبرپختونخوا کے 26 اضلاع کو ’’ہارڈ ایریاز‘‘ قرار دے کر وہاں تعینات پولیس اور انتظامی افسران کے لیے خصوصی سکیورٹی الاؤنس کی منظوری دی ہے۔ دوسری جانب کوہاٹ اور ہنگو میں حالیہ کارروائیوں کے بعد حکومت نے دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن اور افغانستان سے ملحقہ علاقوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی اطلاع بھی دی ہے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے بھی دہشتگردی کی ذمہ داری اور اس کے بنیادی اسباب کے حوالے سے اپنا مؤقف سامنے آیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبرپختونخوا میں بڑھتی دہشتگردی کو وفاقی خارجہ پالیسی کی ناکامی سے جوڑا ہے اور کہا ہے کہ ان کی تجویز کردہ پالیسی پر عمل کیا جائے تو امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
یوں اصل سوال یہ نہیں کہ خیبرپختونخوا کو درپیش بحران صرف صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے یا وفاق کی، بلکہ یہ ہے کہ دونوں حکومتیں اپنے اپنے آئینی اور انتظامی دائرۂ کار میں مؤثر طور پر کیا کر رہی ہیں۔ دہشتگردی، پولیس کے وسائل، سرحدی سلامتی، صحت، تعلیم اور انتظامی فیصلوں میں تاخیر جیسے مسائل کسی ایک سیاسی جماعت یا ادارے کے بیانیے سے حل نہیں ہو سکتے۔ صوبے کے عوام کو سیاسی بیانات کے بجائے واضح فیصلوں، فعال انتظامیہ، مؤثر پولیسنگ اور مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے۔
حالیہ حالات میں صوبائی حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ یہ ثابت کرے کہ اس کی ترجیح صوبے کے روزمرہ انتظامی مسائل اور شہریوں کا تحفظ ہے۔ اگر انتظامی فیصلے تاخیر کا شکار رہیں، پولیس وسائل کی شکایات برقرار رہیں اور سکیورٹی بحران مزید پھیلتا رہے تو لازماً یہ سوال اٹھے گا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت صوبے کے مسائل سے واقعی کتنی سنجیدگی سے نمٹ رہی ہے۔
