سرکاری طیارے اور ہیلی کاپٹر، چاروں صوبوں کے فضائی اثاثوں میں اصل فرق کیا؟

ملک کے چاروں صوبوں کے سرکاری فضائی اثاثوں کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ایک اہم بحث نے جنم لیا ہے کہ کیا واقعی تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو فضائی سفر کے لیے یکساں نوعیت کی سہولت میسر ہے؟ یہ سوال پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز شریف کے حالیہ لندن دورے کے بعد زیادہ نمایاں ہوا، جب انہوں نے اپنی بیٹی کی گریجویشن میں شرکت کے لیے پنجاب حکومت کے گلف اسٹریم جی 500 طیارے کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ وزیرِ اعلیٰ کے منصب سے وابستہ سرکاری طیارہ ہے اور دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی فضائی سہولت حاصل ہے۔ تاہم چاروں صوبوں کے حکام کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات بتاتی ہیں کہ فضائی اثاثوں کی نوعیت، تعداد، گنجائش اور صلاحیت میں واضح فرق موجود ہے۔

پنجاب اس معاملے میں سب سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جہاں صوبائی حکومت کے پاس جدید گلف اسٹریم جی 500 موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ طیارہ 2025 میں پاکستان پہنچا تھا اور مریم نواز نے اس کی قیمت تقریباً 9 ارب روپے بتائی ہے۔ پنجاب حکومت کے پاس پہلے سے ایک ہاکر 400 ایکس پی طیارہ بھی موجود تھا، جو ایک حکومتی عہدیدار کے مطابق اب بھی استعمال میں ہے۔ یوں پنجاب کے فضائی بیڑے میں کم از کم دو فکسڈ وِنگ طیاروں کی موجودگی سامنے آتی ہے۔

گلف اسٹریم جی 500 کا معاملہ اس وقت قومی بحث کا موضوع بنا جب مریم نواز شریف نے ستمبر کے آغاز میں اپنی بیٹی کی لندن میں گریجویشن تقریب میں شرکت کے لیے اسی سرکاری طیارے پر سفر کیا۔ بعد میں پنجاب حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ اس نجی دورے کے فضائی اخراجات وزیرِ اعلیٰ نے ذاتی طور پر ادا کیے، اور 17 ستمبر کو 2 کروڑ 71 لاکھ 94 ہزار 4 روپے کی رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی گئی۔ یوں بحث کا ایک حصہ طیارے کے استعمال سے نکل کر اس سوال تک پہنچ گیا کہ سرکاری اثاثے کے نجی استعمال کی صورت میں اخراجات کی ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہونا چاہیے۔

مریم نواز کا مؤقف یہ ہے کہ تنقید صرف پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کے طیارے پر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ دیگر صوبائی سربراہان کو بھی سرکاری فضائی سہولت حاصل ہے۔ پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی اسی مؤقف کو دہرایا اور کہا کہ ہر وزیرِ اعلیٰ کو سرکاری طیارہ استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔ تاہم دستیاب سرکاری تفصیلات سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ چاروں صوبوں کے فضائی وسائل ایک جیسے نہیں۔ اس لیے “فضائی سہولت” اور “یکساں نوعیت کے طیارے کی دستیابی” دو الگ باتیں ہیں۔

خیبر پختونخوا کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ صوبائی حکام کے مطابق خیبر پختونخوا کے پاس کوئی فکسڈ وِنگ طیارہ نہیں بلکہ ایک سنگل انجن یوروکاپٹر موجود ہے، جو 2010 میں خریدا گیا تھا۔ یہ ہیلی کاپٹر تقریباً 700 گھنٹے پرواز کر چکا ہے اور اس ماڈل کو اب ایئربس ایچ 125 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ صوبائی چیف سیکریٹری کے مطابق وزیرِ اعلیٰ کے پاس اپنا کوئی طیارہ نہیں، البتہ صوبائی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی سہولت موجود ہے۔ ایک دوسرا ہیلی کاپٹر ماضی میں سیلاب سے بچاؤ کی کارروائی کے دوران حادثے کا شکار ہو چکا ہے۔

بلوچستان کا فضائی بیڑا خیبر پختونخوا سے بڑا ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق اس کے پاس ایک لیئر جیٹ 45 ایکس آر اور دو ہیلی کاپٹر موجود ہیں۔ لیئر جیٹ 2012 سے زیرِ استعمال ہے اور اس میں تقریباً سات مسافروں کی گنجائش بتائی گئی ہے۔ صوبائی حکومت نے بلوچستان ایوی ایشن کے نام سے ایک کمپنی بھی قائم کی ہے، جس کے ذریعے فضائی اثاثوں کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ دو ہیلی کاپٹروں میں ایک ایم آئی 171 ہے، جو 2016 میں خریدا گیا تھا لیکن اس وقت گراؤنڈ ہے، جبکہ دوسرا سیسنا کاروان ہے جس میں تقریباً آٹھ افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

سندھ کے پاس بھی ایک فکسڈ وِنگ طیارہ اور دو ہیلی کاپٹر ہیں۔ صوبائی حکام کے مطابق سندھ حکومت کے پاس 2006 میں تیار کیا گیا لیئر جیٹ 45 موجود ہے، جبکہ دونوں ہیلی کاپٹر 1992 میں صوبائی بیڑے کا حصہ بنے تھے۔ ان ہیلی کاپٹروں میں سے ایک میں تقریباً تین سے چار جبکہ دوسرے میں چھ سے سات مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش بتائی گئی ہے۔ سندھ کے طیارے کو فی الحال دبئی تک بین الاقوامی پرواز کی اجازت حاصل ہونے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔

یوں اگر چاروں صوبوں کے فضائی اثاثوں کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو تصویر خاصی مختلف نظر آتی ہے۔ پنجاب کے پاس جدید گلف اسٹریم جی 500 سمیت دو فکسڈ وِنگ طیارے ہیں، سندھ کے پاس ایک لیئر جیٹ اور دو ہیلی کاپٹر، بلوچستان کے پاس ایک لیئر جیٹ اور دو ہیلی کاپٹر جبکہ خیبر پختونخوا کے پاس ایک ہیلی کاپٹر اور کوئی فکسڈ وِنگ طیارہ نہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو فضائی سفر کی سہولت حاصل ہے، ایک عمومی انتظامی حقیقت ہو سکتی ہے، لیکن یہ تاثر دینا کہ تمام صوبوں کے پاس ایک جیسی فضائی مشینری یا ایک جیسے سفری وسائل موجود ہیں، دستیاب تفصیلات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

اس بحث کا ایک اہم پہلو سرکاری وسائل کے استعمال کا اصول بھی ہے۔ ایک طرف صوبائی حکومتیں یہ مؤقف اختیار کرتی ہیں کہ وزرائے اعلیٰ کے منصب کی نوعیت ایسی ہے کہ انہیں فوری اور محفوظ فضائی سفر کی ضرورت پڑ سکتی ہے، خاص طور پر وسیع رقبے، دور دراز علاقوں، ہنگامی حالات، سیلاب، قدرتی آفات اور سکیورٹی کے معاملات میں۔ دوسری طرف اربوں روپے مالیت کے جدید طیارے کی خرید اور اس کے استعمال کے اخراجات پر عوامی سطح پر سوال اٹھنا بھی اسی وجہ سے فطری ہے کہ یہ وسائل بالآخر سرکاری خزانے سے وابستہ ہوتے ہیں۔

مریم نواز کے لندن سفر کے معاملے میں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ حکومت کے مطابق نجی دورے کے فضائی اخراجات بعد میں سرکاری خزانے میں واپس جمع کرا دیے گئے۔ اس سے سفر کے براہِ راست اخراجات کی ادائیگی کا سوال تو ایک حد تک واضح ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ بڑے سرکاری طیارے کی خرید، ملکیت، دیکھ بھال، عملے، ہینگر، انشورنس اور دیگر مستقل اخراجات کے بارے میں بھی شفاف معلومات کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ 17 ستمبر کو جمع کرائی گئی رقم صرف اسی مخصوص لندن سفر کے اخراجات سے متعلق تھی۔

اصل سوال اس لیے محض یہ نہیں کہ وزیرِ اعلیٰ طیارہ استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں فضائی اثاثوں کی خریداری، استعمال اور دیکھ بھال کے لیے کیا پالیسی اختیار کرتی ہیں، ان کے استعمال کا حساب کیسے رکھا جاتا ہے اور کیا عوام کو ان اخراجات کی مکمل معلومات دستیاب ہوتی ہیں۔ اگر ایک طیارہ عوامی خزانے سے خریدا گیا ہے تو اس کے استعمال کے قواعد، سرکاری اور نجی سفر میں فرق، اخراجات کی وصولی اور سالانہ دیکھ بھال کے اخراجات واضح ہونا شفافیت کے لیے اہم ہیں۔

چاروں صوبوں کے اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ پاکستان میں صوبائی حکومتوں کی فضائی ضروریات ایک جیسی نہیں۔ بلوچستان جیسے وسیع رقبے والے صوبے میں دور دراز اور دشوار گزار علاقوں تک رسائی کے لیے ہیلی کاپٹر کی ضرورت مختلف نوعیت کی ہو سکتی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں پہاڑی علاقوں، قدرتی آفات اور سکیورٹی حالات کے باعث ہیلی کاپٹر ایک عملی ضرورت بن سکتا ہے۔ اسی طرح پنجاب کی آبادی، انتظامی وسعت اور سیاسی و سرکاری سرگرمیوں کا حجم اسے مختلف نوعیت کے سفری وسائل رکھنے کی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ تاہم ضرورت اور اخراجات کے درمیان توازن کا تعین شفاف اعداد و شمار اور واضح سرکاری پالیسی ہی سے کیا جا سکتا ہے۔

یہ تنازع اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ سرکاری اثاثوں کو صرف سیاسی بحث کا موضوع بنانے کے بجائے ان کے استعمال کے لیے ایک واضح اور یکساں اصول وضع کرنے کی ضرورت سامنے آتی ہے۔ اگر تمام صوبائی حکومتیں طیارے یا ہیلی کاپٹر استعمال کرتی ہیں تو ان کے لیے بھی ایک واضح نظام ہونا چاہیے جس میں سرکاری سفر، ہنگامی سفر اور نجی سفر کے قواعد الگ الگ ہوں۔ اس سے نہ صرف حکومتوں پر ہونے والی تنقید کا جواب اعداد و شمار کے ساتھ دیا جا سکے گا بلکہ عوام کو بھی یہ معلوم ہوگا کہ ان کے ٹیکس سے خریدے گئے فضائی اثاثے کس مقصد کے لیے اور کتنے اخراجات پر استعمال ہو رہے ہیں۔

چنانچہ چاروں صوبوں کے فضائی بیڑے کی سامنے آنے والی تفصیلات نے صرف مریم نواز کے گلف اسٹریم کے استعمال کا تنازع واضح نہیں کیا بلکہ صوبائی حکومتوں کے سرکاری فضائی وسائل کے پورے نظام پر بحث کا دروازہ کھول دیا ہے۔ ایک طرف پنجاب کا جدید اور انتہائی مہنگا گلف اسٹریم جی 500 ہے، دوسری طرف خیبر پختونخوا کا واحد ہیلی کاپٹر؛ سندھ اور بلوچستان اپنے اپنے پرانے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ساتھ موجود ہیں۔ اصل بحث اب یہ ہونی چاہیے کہ ان اثاثوں کی ضرورت، خریداری، استعمال اور اخراجات کے لیے عوام کے سامنے کتنی شفاف اور قابلِ جانچ پالیسی موجود ہے۔

Back to top button