انڈین اور افغان ایجنسیز کا TTP اور BLA کے ساتھ گٹھ جوڑ

 

 

 

 

ایک خفیہ تحقیقاتی رپورٹ نے بھارتی اور افغان انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ساتھ پاکستان مخالف بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کردیا ہے۔ اس خفیہ رپورٹ کے مطابق را، افغان طالبان کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اور مختلف دہشتگرد تنظیموں پر مشتمل ایک نیٹ ورک 2025 میں قائم کیا گیا، جس کا مقصد پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں کو منظم، مؤثر اور وسیع بنانا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اس نیٹ ورک کو پاکستان میں کارروائیوں کیلئے بھارتی خفیہ ایجنسی را کی جانب سے 7.8 ملین ڈالر سے زائد رقم بھی فراہم کی گئی۔

 

خفیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی انٹیلی جنس نے تحریک طالبان افغانستان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی ہدایت پر فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج، القاعدہ اور دیگر پاکستان مخالف دہشتگرد گروہوں کے درمیان رابطے قائم کرائے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قندھار کے گورنر ملا شیرین نے القاعدہ اور فتنہ الخوارج سے وابستہ عناصر کے ساتھ ملاقات کی، جس میں بلوچستان میں دہشتگرد کارروائیوں کیلئے بی ایل اے کی معاونت اور مختلف گروہوں کے درمیان تعاون کی منصوبہ بندی کی گئی۔

 

رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں افغان انٹیلیجنس ایجنسی جی ڈی آئی نے تین اہم ملاقاتوں کا اہتمام کیا جن کا مقصد پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں مختلف دہشتگرد گروہوں کے درمیان رابطہ کاری کو مزید مضبوط اور مربوط بنانا تھا۔ ایک ملاقات میں پاکستان کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کیلئے فتنہ الہندوستان کو تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی، جبکہ دوسری ملاقات قندھار میں فتنہ الخوارج، بی ایل اے اور دیگر عناصر کے درمیان ہوئی، جہاں بلوچستان میں کارروائیوں کیلئے مالی اور افرادی تعاون پر بات چیت کی گئی۔

 

خفیہ دستاویزات کے مطابق قندھار میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران بی ایل اے کو جماعت الاحرار کے ذریعے 3.5 ملین افغانی فراہم کیے گئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ رقم بلوچستان میں دہشتگرد سرگرمیوں، افرادی قوت کے انتظام اور دیگر ضروریات کیلئے استعمال کی جانی تھی۔ دستاویز میں مختلف گروہوں کے درمیان مالی وسائل کی منتقلی کیلئے ایسے رابطہ کاروں کے استعمال کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو بظاہر ایک تنظیم سے وابستہ دکھائی دیتے ہیں لیکن دوسری تنظیموں کیلئے بھی سہولت کاری کرتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان سے باہر را اور افغان جی ڈی آئی کے درمیان بھی ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں بلوچستان میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کی مشترکہ کارروائیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دستاویز کے مطابق را کی جانب سے پاکستان میں دہشتگرد سرگرمیوں کیلئے 7.8 ملین ڈالر سے زائد رقم فراہم کی گئی، جسے دہشتگرد کارروائیوں، افرادی قوت، اسلحے، نقل و حرکت اور لاجسٹک معاونت کیلئے استعمال کیا جانا تھا۔

 

خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی حالیہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مخالف کارروائیوں کے بعد اس پاکستان مخالف نیٹ ورک کی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی گئی ہے۔ اسی سلسلے میں 26 اگست 2026 کو قندھار میں افغان طالبان کی سرپرستی میں ایک ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں فتنہ الہندوستان سے وابستہ بشیر زیب، خلیل بلوچ، صفت اللہ مینگل، انور نظامی اور مجید بلوچ سمیت اہم عناصر کی شرکت کا دعویٰ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس اجلاس میں بی ایل اے کی جانب سے افرادی قوت اور وسائل سے متعلق مشکلات کا معاملہ اٹھایا گیا، جس کے بعد افغان طالبان کی جانب سے فتنہ الخوارج اور القاعدہ کے عناصر کے ذریعے بلوچستان میں دہشتگرد کارروائیوں کیلئے افرادی قوت، ہتھیار اور لاجسٹک معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔

 

خفیہ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جانب سے فتنہ الہندوستان کو ایک خط لکھا گیا جس میں اسلحہ فراہم کرنے اور اس کی منتقلی کیلئے ہدایات دی گئیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی ایجنسیوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اسلحے میں کلاشنکوف رائفلز، راکٹ لانچرز اور گولہ بارود شامل تھا۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کے سابق رکن ملا معراج الدین فراہی کو بی ایل اے تک افرادی قوت، اسلحہ اور مالی وسائل پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس رابطہ کاری کا بنیادی مقصد مختلف دہشتگرد تنظیموں کی صلاحیتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں حملوں کا دائرہ وسیع کرنا تھا۔

 

اس خفیہ دستاویز میں اہم ترین دعویٰ بلوچستان میں ہونے والے بڑے دہشتگرد حملوں کے طریقہ کار کے بارے میں ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض کارروائیاں فتنہ الخوارج اور القاعدہ سے وابستہ عناصر انجام دیتے ہیں جبکہ ان حملوں کی ذمہ داری فتنہ الہندوستان قبول کرتا ہے۔ اس سے یہ امکان ابھرتا ہے کہ بعض دہشتگرد کارروائیوں میں حملہ آور، سہولت کار اور ذمہ داری قبول کرنے والا گروہ الگ الگ ہیں اور مختلف تنظیموں کو ایک مشترکہ نیٹ ورک کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

 

یہ انکشافات ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان مسلسل افغان سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہوں اور ان کی سرحد پار سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کو اس کے خلاف دہشتگرد کارروائیوں کیلئے استعمال نہیں ہونا چاہیے، جبکہ افغان طالبان ماضی میں پاکستان کے ایسے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ اسی طرح پاکستان بھارت پر بھی ملک میں دہشتگردی کی معاونت کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، جنہیں بھارت مسترد کرتا ہے۔

 

 

Back to top button