مریم کے دور حکومت میں 12 ہزار بچوں سے جنسی زیادتی

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے صوبے میں بچوں سے زیادتی اور جنسی جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی اور انہیں نشانِ عبرت بنانے کے اعلانات کے باوجود گزشتہ ایک برس کے دوران پنجاب میں بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے 12 ہزار 800 مقدمات درج ہوئے، جبکہ پورے ملک میں ایسے کیسز کی تعداد 17 ہزار 348 رہی، ایسے میں ہنجاب میں بچوں کے تحفظ کے موجودہ نظام کی مؤثریت پر اہم سوالات اٹھ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ مریم نواز نے جولائی 2026 میں بھی بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم کو اپنی ’’ریڈ لائن‘‘ قرار دیتے ہوئے ریپ اور بچوں سے زیادتی کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنانے کی ہدایت کی تھی۔
قومی کمیشن برائے حقوق اطفال کے مطابق 2025 کے دوران درج ہونے والے مجموعی مقدمات میں پنجاب کا حصہ تقریباً 74 فیصد رہا، تاہم یہ اعداد صرف پولیس کے پاس درج ہونے والے مقدمات کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ملک میں پیش آنے والے تمام واقعات رپورٹ بھی ہو گئے۔ قومی کمیشن برائے حقوق اطفال کی ’’سٹیٹ آف چلڈرن اِن پاکستان 2025‘‘ رپورٹ کے مطابق یکم جنوری سے 31 دسمبر 2025 تک ملک کے مختلف حصوں میں 18 سال سے کم عمر بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے 17,348 مقدمات درج ہوئے۔ پنجاب 12,800 مقدمات کے ساتھ سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا، سندھ میں 3,187، خیبرپختونخوا میں 855، اسلام آباد میں 431 جبکہ بلوچستان میں 75 مقدمات درج ہوئے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ اعداد پولیس ریکارڈ پر مبنی ہیں، اس لیے کم رپورٹنگ، مقدمات کے اندراج تک رسائی اور مختلف علاقوں میں رپورٹنگ کے فرق کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جنسی جرائم کا شکار ہونے والوں میں 65 فیصد لڑکیاں اور 35 فیصد لڑکے شامل تھے، جبکہ 11 سے 17 سال کی عمر کے بچوں سے متعلق مقدمات مجموعی تعداد کا 86 فیصد رہے۔ دس سال یا اس سے کم عمر بچوں کے خلاف 2,378 مقدمات درج ہوئے، جو مجموعی تعداد کا تقریباً 13 فیصد بنتے ہیں۔ یہ اعداد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بچوں کے خلاف جنسی جرائم کا خطرہ مختلف عمروں کے بچوں کو لاحق ہے اور کم عمر بچوں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے بڑی کیٹیگری بچوں کے اغوا اور زبردستی لے جانے کے ان واقعات کی رہی جن میں جبری شادی یا جنسی استحصال کا عنصر شامل تھا، ایسے مقدمات کی تعداد 8,205 رہی۔ اس کے علاوہ کم عمر افراد کے ریپ اور جنسی زیادتی کے 5,024 مقدمات، غیر اختراقی جنسی زیادتی کے 3,163 مقدمات جبکہ بہلا پھسلا کر یا لالچ دے کر جنسی استحصال کے 2,847 مقدمات درج ہوئے۔ مزید 281 مقدمات میں بچوں کو نشہ آور یا منشیات فراہم کیے جانے سے متعلق واقعات شامل تھے۔
رپورٹ میں بچوں کے آن لائن استحصال کو بھی ایک ابھرتا ہوا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ قومی کمیشن کے مطابق ڈیجیٹل دنیا میں آن لائن گرومنگ، بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد، جنسی بلیک میلنگ، لائیو اسٹریمنگ، جنسی نوعیت کی ہراسانی اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے بچوں کی جعلی جنسی تصاویر سمیت مختلف جرائم کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ کمیشن نے اس صورتحال کے تناظر میں آن لائن تحفظ، سائبر جرائم کی تحقیقات، ڈیجیٹل فرانزک اور بچوں و والدین میں ڈیجیٹل آگاہی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
قومی کمیشن برائے حقوق اطفال نے بچوں کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ضلع میں مکمل عملے کے ساتھ ضلعی چائلڈ پروٹیکشن یونٹس قائم کرنے اور تربیت یافتہ کیس مینیجرز تعینات کرنے کی سفارش کی ہے۔ کمیشن نے ہسپتالوں میں چائلڈ پروٹیکشن کمیٹیاں قائم کرنے کی تجویز بھی دی ہے تاکہ جنسی تشدد کا شکار بچوں اور ان کے خاندانوں کو طبی، فرانزک، قانونی اور نفسیاتی سہولیات ایک مربوط نظام کے تحت فراہم کی جا سکیں۔
رپورٹ میں صوبائی سطح پر متاثرین کی معاونت کے لیے4 خصوصی ’’سروائیور سپورٹ فنڈ‘‘ قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے، جس کے ذریعے متاثرہ بچوں کی فوری طبی اور قانونی ضروریات، محفوظ رہائش یا منتقلی اور طویل مدتی مشاورت کے اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ کمیشن نے مقدمے کے ٹرائل کے بعد بھی کم از کم 12 ماہ تک متاثرہ بچے کی بحالی، نگرانی اور فالو اَپ کا نظام برقرار رکھنے پر زور دیا ہے تاکہ انصاف کے عمل کے بعد بچے کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔
پنجابی سیاستدان نئے صوبوں کی تجویز پر خاموش کیوں؟
قومی کمیشن نے تحقیقات، عدالتی کارروائی اور میڈیا کوریج کے دوران متاثرہ بچوں کی شناخت اور ان سے متعلق ڈیجیٹل معلومات کی مکمل رازداری یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جنسی تشدد کا شکار بچوں کی شناخت ظاہر ہونے سے انہیں مزید سماجی دباؤ، بدنامی اور نفسیاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے ایسے مقدمات کی رپورٹنگ اور تفتیش میں بچوں کے تحفظ پر مبنی طریقہ کار اختیار کرنا ضروری ہے۔
رپورٹ میں بچوں سے جنسی زیادتی کے خاتمے کے لیے قومی ایکشن پلان تیار کرنے اور اینٹی ریپ ایکٹ 2021 پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق اصل چیلنج صرف قوانین وضع کرنے کا نہیں بلکہ ان کے مؤثر نفاذ، مقدمات کی بروقت اور شفاف تحقیقات، متاثرہ بچوں کے تحفظ اور مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کا ہے۔ اس مقصد کے لیے پولیس، عدلیہ، صحت کے شعبے، چائلڈ پروٹیکشن اداروں اور سماجی تنظیموں کے درمیان مربوط نظام ناگزیر ہے۔
پنجاب میں 12,800 مقدمات کا اندراج صوبائی سطح پر بچوں کے تحفظ کے نظام، پولیسنگ، تعلیمی اداروں میں حفاظتی اقدامات، عوامی آگاہی اور عدالتی کارروائی کے طریقہ کار کا جامع جائزہ لینے کی ضرورت کو نمایاں کرتا ہے۔
