اقتدار کی سیاست میں ہمیشہ غریب کا بچہ ہی ایندھن کیوں بنتا ہے؟

ملکی سیاست کا ایک تلخ اور بار بار دہرایا جانے والا سوال یہ ہے کہ اقتدار کی جنگ میں قربانی آخر کون دیتا ہے؟ نعرہ قیادت لگاتی ہے، کال قیادت دیتی ہے، احتجاج کا راستہ قیادت دکھاتی ہے، مگر جب سڑک پر لاٹھی چلتی ہے، آنسو گیس برستی ہے، مقدمات بنتے ہیں، گرفتاریاں ہوتی ہیں یا کسی نوجوان کا مستقبل داؤ پر لگتا ہے تو میدان میں اکثر عام کارکن ہی نظر آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن نوجوانوں کو ’’قربانی‘‘، ’’مزاحمت‘‘ اور ’’مارو یا مر جاؤ‘‘ جیسے جذباتی نعروں سے میدان میں اتارا جاتا ہے، کیا وہ ایک لمحے کے لیے اپنے بوڑھے ماں باپ کے چہروں کو دیکھتے ہیں؟ اور کیا سیاسی قیادت کے اپنے بچے بھی اسی خطرے میں شریک ہوتے ہیں؟ یہی وہ سوال ہے جو پاکستان کی سیاست میں جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر اٹھایا جانا چاہیے۔

اس وقت چونکہ تحریک انصاف کا 27 ستمبر کا مجوزہ لانگ مارچ سیاسی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے، اس لیے یہ سوال ایک بار پھر شدت سے سامنے آیا ہے۔ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے دونوں صاحبزادے قاسم اور سلیمان خان برطانیہ میں مقیم ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں نے اپنے والد کی سیاسی اور قانونی صورتحال پر عوامی سطح پر آواز بھی اٹھائی ہے، تاہم عمران خان نے اگست 2025 میں خود کہا تھا کہ ان کے بیٹے پاکستان آکر ان سے ملاقات کریں گے، لیکن سیاست یا احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے بحث صرف یہ نہیں رہتی کہ کسی رہنما کی اولاد احتجاج میں کیوں نہیں آتی، بلکہ اصل سوال یہ بنتا ہے کہ کیا کارکنوں سے ایسی قربانی کی توقع کرنا درست ہے جو قیادت اپنے خاندانوں سے نہیں کرتی؟

یہ سوال صرف تحریک انصاف تک محدود نہیں رہتا۔ پاکستان کی تقریباً ہر بڑی سیاسی جماعت میں قیادت اور کارکن کے درمیان قربانی کے معیار کا فرق مختلف شکلوں میں دکھائی دیتا رہا ہے۔ سیاسی تاریخ میں بارہا ایسا ہوا کہ عام کارکن نے جیلیں کاٹیں، مقدمات بھگتے، پولیس کارروائیوں کا سامنا کیا اور اپنے روزگار تک سے ہاتھ دھویا، جبکہ سیاسی خاندانوں کی اگلی نسل نسبتاً محفوظ ماحول میں تعلیم، کاروبار اور سیاسی تیاری کرتی رہی۔ یہی وہ تضاد ہے جو ’’عوام کی قربانی‘‘ اور ’’خاندان کی سیاست‘‘ کے درمیان سوالیہ نشان پیدا کرتا ہے۔

تحریک انصاف کے حوالے سے بھی بعض رہنماؤں کے اہلِ خانہ کی بیرونِ ملک تعلیم یا رہائش کا ذکر سامنے آتا رہا ہے، لیکن ہر رہنما کے بچوں کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ لازماً احتجاج سے جان بوجھ کر دور رکھے گئے، ایک الگ دعویٰ ہے جس کے لیے الگ شواہد درکار ہیں۔ اسی طرح کسی رہنما کے بچے کا بیرونِ ملک رہنا یا تعلیم حاصل کرنا بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ والد نے کارکنوں کو سیاسی جدوجہد پر مجبور کیا اور اپنے بچوں کو شعوری طور پر محفوظ رکھا۔ اصل بحث اس وسیع تر سیاسی کلچر کی ہے جہاں کارکن سے جسمانی اور مالی قربانی کی توقع بہت زیادہ ہوتی ہے، جبکہ قیادت کے خاندان عموماً مختلف سماجی اور معاشی تحفظات رکھتے ہیں۔

البتہ بعض واقعات اس بحث کو ضرور تقویت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے بیٹے کے اٹلی میں سیاسی پناہ لینے کا معاملہ 2026 میں پارلیمانی سطح پر زیر بحث آیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ وہ سرکاری بلیو پاسپورٹ کے ذریعے یورپ گئے اور بعد ازاں اٹلی میں سیاسی پناہ حاصل کی۔ اقبال آفریدی نے اپنے بیٹے کے بیرونِ ملک جانے اور سیاسی پناہ لینے کی تصدیق کرتے ہوئے اس کا دفاع کیا اور ملک کی سیاسی و امن و امان کی صورتحال پر سوالات اٹھائے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے بلیو پاسپورٹ سے متعلق حکومتی دعوے پر اختلاف کیا۔ یہ واقعہ اس وسیع تر بحث کی ایک مثال ہے کہ سیاسی قیادت اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے کیا فیصلے کرتی ہے اور عام کارکن سے کس نوعیت کی سیاسی قربانی کی توقع کی جاتی ہے۔

مسلم لیگ ن کے سیاسی خاندان پر بھی یہی سوال مختلف ادوار میں اٹھتا رہا ہے۔ نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز اور حسین نواز طویل عرصے سے لندن میں کاروباری زندگی سے وابستہ رہے ہیں، جبکہ 2024 میں حسین نواز نے خود کہا تھا کہ وہ پاکستانی شہری ہیں۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن کی سیاست میں مریم نواز اور حمزہ شہباز جیسی اگلی نسل براہ راست سیاسی میدان میں داخل ہوئی اور اہم حکومتی مناصب تک پہنچی۔ یہاں بھی بنیادی سوال کسی ایک فرد کی ذات نہیں بلکہ موروثی یا خاندانی سیاست کے اس رجحان کا ہے جس میں سیاسی خاندانوں کی اولاد کے لیے سیاست میں داخلے کے راستے عام کارکن کی نسبت کہیں زیادہ ہموار دکھائی دیتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے بھٹو زرداری خاندان کے بارے میں بھی یہی بحث اپنی ایک الگ شکل میں موجود ہے۔ بلاول بھٹو زرداری، بختاور بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری نے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کی اور بعد میں پارٹی سیاست میں نمایاں کردار ادا کیا۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے عام کارکن دہائیوں سے جلسوں، احتجاجوں اور سیاسی مہمات میں پارٹی کے لیے سرگرم رہے ہیں۔ اس معاملے میں بھی اصل سوال یہ نہیں کہ کسی سیاسی رہنما کے بچے بیرونِ ملک کیوں پڑھتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے اندر عام کارکن کے لیے بھی وہی مواقع موجود ہیں جو بڑے سیاسی خاندانوں کے بچوں کو حاصل ہوتے ہیں؟

یہ تضاد اس وقت مزید نمایاں ہو جاتا ہے جب کسی احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والا عام نوجوان مقدمات، ضمانتوں، روزگار کے نقصان اور خاندان کی معاشی مشکلات سے دوچار ہوتا ہے۔ ایک مزدور، دکاندار، ڈرائیور، چوکیدار یا متوسط طبقے کا طالب علم اگر کسی سیاسی احتجاج میں گرفتار ہو جائے تو اس کے گھر کا معاشی نظام بھی متاثر ہوسکتا ہے۔ اس کے بوڑھے والدین عدالتوں کے چکر کاٹ سکتے ہیں، اس کی تعلیم رک سکتی ہے اور اس کے روزگار پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے برعکس سیاسی خاندانوں کے پاس مالی وسائل، قانونی معاونت اور سماجی روابط کے ایسے ذرائع موجود ہوتے ہیں جو عام کارکن کو میسر نہیں ہوتے۔ یہی عدم مساوات اس بحث کو محض سیاسی اختلاف کے بجائے سماجی مسئلہ بنا دیتی ہے۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو صرف ہجوم سمجھتی ہیں یا ان کی زندگیوں کی ذمہ داری بھی محسوس کرتی ہیں؟ اگر احتجاج آئینی حق ہے تو اسے قانون کے دائرے میں رہ کر استعمال ہونا چاہیے، اور اگر کسی سیاسی جماعت کو کارکنوں سے احتجاج کی توقع ہے تو اسے اپنے کارکنوں کے قانونی، معاشی اور خاندانی مسائل کا بھی احساس ہونا چاہیے۔ کسی نوجوان کو جذباتی نعروں کے ذریعے ایسی صورتحال میں دھکیل دینا جہاں اس کی گرفتاری، زخمی ہونے یا مستقبل متاثر ہونے کا حقیقی خطرہ ہو، ایک سنگین معاملہ ہے جس پر سیاسی قیادت اور کارکن دونوں کو غور کرنا چاہیے۔

کارکن کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی جماعتیں اور رہنما بدل سکتے ہیں، مگر اس کے اپنے والدین، بچے، تعلیم، روزگار اور مستقبل واپس نہیں آتے۔ کسی سیاسی مقصد کے لیے سڑک پر نکلنا ایک آئینی حق ہوسکتا ہے، لیکن اس حق کا استعمال شعور، قانون اور ذاتی ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔ نعرہ لگانے سے پہلے یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ اگر میں گرفتار ہوگیا، زخمی ہوگیا یا میرا روزگار چلا گیا تو میرے گھر کا نظام کون سنبھالے گا؟

پاکستانی سیاست کو شاید اب ایک ایسے سیاسی کلچر کی ضرورت ہے جہاں کارکن کو صرف تعداد، طاقت یا سڑکوں پر موجود ہجوم کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ قیادت اگر واقعی عوامی سیاست کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے اپنے کارکن کے مستقبل، خاندان اور معاشی مشکلات کو بھی اپنی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔ کیونکہ سیاسی تحریکوں میں کامیابی یا ناکامی کا حساب بعد میں ہوتا ہے، لیکن ایک عام گھر کے لیے ایک گرفتاری، ایک مقدمہ یا ایک نوجوان کی زندگی کا نقصان کبھی معمولی واقعہ نہیں ہوتا۔

آخر میں فیصلہ سیاسی قیادتوں نے نہیں بلکہ عوام نے اپنے شعور سے کرنا ہے۔ کسی بھی جماعت، کسی بھی رہنما اور کسی بھی نعرے سے وابستگی اپنی جگہ، لیکن سڑک پر نکلنے سے پہلے ہر نوجوان کو اپنے بوڑھے ماں باپ کا چہرہ ضرور دیکھنا چاہیے۔ سیاسی لیڈر کا ایک بیان، ایک ٹویٹ یا ایک تعزیتی پیغام شاید بعد میں آ جائے، مگر اگر گھر کا کفیل جیل چلا جائے یا اس کی زندگی کسی تصادم کی نذر ہوجائے تو اس گھر کا چولہا صرف ایک ٹویٹ سے نہیں جلتا۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جسے پاکستان کی سیاست میں ’’قربانی‘‘ کے ہر نعرے سے پہلے یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔

Back to top button