صدر زرداری نے انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل 2025 پر دستخط کر دیے

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اتوار کے روز انسدادِ دہشت گردی (ترمیمی) بل 2025 پر دستخط کر دیے، جس کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کو مشتبہ افراد کو تین ماہ تک حراست میں رکھنے کا قانونی اختیار حاصل ہو گیا ہے۔

یہ ترمیم انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 میں کی گئی ہے، جسے حالیہ ہفتوں میں قومی اسمبلی اور سینیٹ نے منظور کیا تھا۔

ایوانِ صدر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ "یہ قانون ملک کے سیکیورٹی اداروں کی دہشت گردی کے خلاف صلاحیت کو مضبوط بناتا ہے، اور ساتھ ہی عدالتی نگرانی و حفاظتی اقدامات کو بھی یقینی بناتا ہے تاکہ ماضی کی طرح اختیارات کا غلط استعمال نہ ہو۔”

ترمیمی بل کے مطابق حکومت، مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کو اختیار ہوگا کہ وہ قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے شبے میں کسی بھی شخص کو تین ماہ تک حراست میں رکھ سکیں گے۔

یہ حراست آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت موجود ضمانتوں کے تابع ہوگی۔

اگر حراست کا حکم مسلح افواج یا سول آرمڈ فورسز کی جانب سے جاری ہو تو تفتیش مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) کرے گی، جس میں پولیس، انٹیلی جنس ادارے اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے شامل ہوں گے۔

بل کے دیباچے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو درپیش موجودہ سیکیورٹی چیلنجز ایک مضبوط اور فوری قانونی ردِعمل کا تقاضا کرتے ہیں، جو موجودہ قانونی دائرہ اختیار سے آگے ہو۔

مزید یہ کہ، مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں کی تشکیل سے مربوط انٹیلی جنس شیئرنگ اور اداروں کے درمیان تعاون بہتر ہو گا، جس سے دہشت گردی کے منصوبوں کو قبل از وقت ناکام بنایا جا سکے گا۔

Back to top button