تازہ دودھ کی قیمت میں 60 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان

عوام دشمن کپتان حکومت کے پٹرول حملوں سے تنگ پاکستانی عوام کے لئے ایک اور بری خبر یہ ہے کہ مارچ کے آخر تک تازہ دودھ کی قیمت میں 60 روپے فی لیٹر اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ پہلی قسط کے طور پر 25 فروری کو دودھ کی قیمت میں 30 روپے فی لیٹر اضافہ کیا جائے گا جب کہ دوسری قسط میں 25 مارچ کو اسکی قیمت مزید 30 روپے بڑھا دی جائے گی۔
حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکدم 12 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن نے عوام کو دو مراحل میں تازہ دودھ کی قیمت میں 60 روپے فی لیٹر کے ممکنہ اضافے بارے آگاہ کیا یے۔ ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کے صدر شاکر گجر کا کہنا ہے کہ مارچ کے آخر تک تازہ دودھ کی قیمت میں 60 روپے فی لیٹر اضافہ اس لیے ناگزیر ہے کہ حکومت نے دودھ سے تیار مصنوعات پر 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس نافذ کر دیا یے جس سے اس کی سے پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں تازہ دودھ کی قیمت میں 25 فروری کو 30 روپے فی لیٹر اور پھر ایک مہینے بعد 25 مارچ کو مزید 30 روپے فی لیٹر اضافے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، تاہم انہون نے بتایا کہ اس بارے حتمی فیصلہ 19 فروری کو تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول خوردہ فروشوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان جیسے ملک میں مہنگائی کا 70 فیصد سے زائد دارو مدار پیٹرول کی قیمتوں پر ہوتا ہے، جیسے ہی پیٹرول مہنگا ہوتا ہے، ضروریات زندگی کی ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے. کچھ ایسا ہی اب دودھ کے حوالے سے بھی ہونے جا رہا ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر پیٹرول سستا ہونے پر ان اشیا کی قیمتوں کبھی بھی کمی نہیں کی جاتی اور نہ ہی حکومت ایسا کروانے کے لیے کوئی اقدامات کرتی ہے۔ عوام دشمن کپتان حکومت کی جانب سے 15 فروری کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مہنگائی کی نئی لہر نے عوام کے بجٹ کو بُری طرح متاثر کیا ہے، اور کم اور متوسط آمدنی والے طبقوں پر دباؤ اور بھی بڑھ گیا ہے۔
دوسری جانب فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں تو پھر ہمیں بھی پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنی پڑتی ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ ورنہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کے لیے اپنا درآمدی بل پورا کرنا مشکل ہو جاتا۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں کیا گیا ہے۔
گوگل کا اینڈروئڈ آلات پر اشتہارات ٹریکنگ نظام کی تبدیلی کا اعلان
دوسری جانب پاکستان کسان اتحاد کے رہنما خالد کھوکھر کے مطابق کسانوں کو خدشہ ہے کہ پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافے کے سبب زراعت کا شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہو گا۔ انکا کہنا ہے کہ کھاد کی قیمت پہلے ہی کسانوں کی پہنچ سے باہر ہے، اب حالیہ اضافہ خوراک اور باغبانی کی مختلف اشیا کی پیداوار کو متاثر کر سکتا ہے، اگر اس وجہ سے خوراک، پھلوں اور سبزیوں کی قومی پیداوار کا 5 سے 10 فیصد حصہ ضائع ہو گیا تو بین الاقوامی قرضے بھی پاکستان کی کوئی مدد نہیں کرسکیں گے۔
لاہور میں ایک مشہور برانڈ کے آپریشنز کی دیکھ بھال کرنے والے رانا عبید اللہ کا کہنا ہے کہ گندم کی قیمتیں پچھلے 3 سالوں سے بڑھ رہی تھیں اور اب مزید بڑھیں گی، لاہور کے اطراف میں 250 کلومیٹر تک 300 تھیلے لے جانے والی ایک چھوٹی گاڑی کی سال 2020 میں قیمت 45 ہزار روپے تھی، 2021 میں یہ قیمت تقریباً 22 فیصد بڑھ کر 54 ہزار روپے ہوگئی اور اب 60 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔
انکے مطابق گندم کی قیمت اس وقت کم ہے اور اثرات لوگوں کو فوری طور پر محسوس نہیں ہوں گے، لیکن آنے والے دنوں میں اس کی قیمت پر ضرور فرق پڑے گا، اسی طرح اپریل کے پہلے ہفتے سے شروع ہونے والے رمضان سے قبل ڈیزل کی قیمت میں 9.53 روپے فی لیٹر کا اضافہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کا بھی سبب بنے گا۔
گڈز ٹرانسپورٹ سروس کے افتخار احمد کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اس اضافے سے نقل و حمل بھی مہنگی ہوگی جس کے سبب مختلف اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا، دوسرے صوبوں اور ممالک سے آنے والی سبزیوں اور پھلوں کی نقل و حمل کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہوگا جس کا بوجھ بالآخر پہلے ہی بے بس صارفین پر پڑے گا۔
مسافروں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات محسوس کرنا شروع کر دیئے جب ٹرانسپورٹرز نے لاہور سے دوسرے شہر جانے کے لیے کرایوں میں اضافہ کر دیا، تقریباً تمام شہروں تک کا کرایہ 100 روپے فی مسافر بڑھا دیا گیا ہے، کراچی ہول سیلرز گروسرز ایسو سی ایشن کے سرپرست اعلیٰ انیس مجید نے بتایا کہ ٹرانسپورٹرز نے بندرگاہ سے حیدرآباد تک 20 فٹ کنٹینرز لانے کے لیے ایک ہزار روپے اضافی وصول کرنا شروع کر دیئے ہیں، جبکہ کراچی تک کے لیے 700 سے 500 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
فلاحی انجمن ہول سیل سبزی منڈی سپر ہائی وے کے صدر حاجی شاہجہان نے آنے والے دنوں میں شہر میں سبزیوں کے نرخوں میں کم از کم 15 سے 20 فیصد اضافے کا امکان ظاہر کیا کیونکہ سندھ، پنجاب اور بلوچستان سے آنے والی اجناس پر ہی کراچی منحصر ہے۔
