نیب کے بعد ایف آئی اے کو مریم نواز کے پیچھے لگانے کی کوشش

خاتون اول بشری بی بی کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن میں ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے اب مریم نواز کے خلاف بھی کارروائی کا امکان پیدا ہو گیا یے۔ سوشل میڈیا پر خاتون اول بشری بی بی کی کردار کشی کو بنیاد بناتے ہوئے لیگی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ صابر ہاشمی کی گرفتاری کے بعد اب حکومتی جماعت کی جانب سے لیگی رہنما مریم نواز کی گرفتاری کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ نواز لیگ نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ ساری کارروائی وزیراعظم عمران خان کے ایما پر کی جا رہی ہے۔

حکمران جماعت تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی عالیہ حمزہ نے ایف آئی اے کے سائبر ونگ میں مریم نواز کے خلاف ایک درخواست دی ہے، جس میں انہیں گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ 13 فروری کو وزیراعظم کی اہلیہ کے خلاف ٹرینڈ چلانے پر مسلم لیگ ن کے ورکر صابر ہاشمی کو گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد مریم نواز نے اپنی ٹویٹ میں صابر کی گرفتاری کی مذمت کی تھی۔ حکومتی ایم این اے عالیہ حمزہ کی درخواست میں اسی ٹویٹ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ خاتون اول نہ سیاست دان ہیں اور نہ ہی کبھی سیاسی بیان دیتی ہیں، ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے ان کے خلاف غلیظ ٹرینڈ چلانا سنگین جرم ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صابر محمود ہاشمی نامی شخص کو خاتون اول کے خلاف ٹرینڈ چلانے پر گرفتار کیا گیا ہے.

مریم صفدر اس کی حمایت میں ٹویٹ کر کے اور ضمانت کی منظوری دے کے یہ اقبال جرم کر رہی ہیں کہ خاتون اول کے خلاف یہ سب ان کے ایما پر کیا گیا۔ درخواست میں امید ظاہر کی گئی ہے کے ایف آئی اے کی سائبر کرائم ونگ کی جانب سے فوری کاروائی کرتے ہوئے ہوئے جلد از جلد مریم صفدر کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

دوسری جانب مریم نواز نے اس درخواست کے بعد ایک اور ٹویٹ میں وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ وقت کا پہیہ گھوم چکا ہے، عمران خان! آپ جتنی بھی ریاستی طاقت استعمال کرلیں، خود کو نہیں بچا سکتے، آپ کی اہلیہ کا جو احترام ہے، وہی میری والدہ کا بھی ہونا چاہیے تھا۔

محسن بیگ کے گھر چھاپے کو غیر قانونی قرار دینے والا جج زیر عتاب

آپ کوئی آسمان سے اتری مخلوق نہیں، جس کی شان میں گستاخی کرنے پر شہریوں کے گھروں پر دھاوا بولا جائے اور ان کو سلاخوں کے پیچھے پھینک دیا جائے۔ آپ کی اہلیہ کا جو احترام ہے، وہی لندن کے ایک اسپتال کے آئی سی یو میں بے ہوش پڑی میری والدہ کلثو نواز شریف کا ہونا چاہیے تھا، ایسے ہی مخالفین کی بہنوں اور بیٹیوں کا بھی احترام ہونا چاہیے تھا۔

دوسری جانب ایف آئی اے نے گرفتاری کے بعد ن لیگ سے تعلق رکھنے والے سوشل میڈیا کارکن صابر ہاشمی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے صابر محمود ہاشمی کو سوشل میڈیا پر وزیر اعظم عمران خان، ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور فوج کے خلاف بدنیتی پر مبنی مہم چلانے پر گرفتار کیا تھا۔ ایف آئی اے نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے سیکشن 20، 21 (ڈی) کے تحت صابر ہاشمی کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق توقع ہے کہ ایف آئی اے آنے والے دنوں میں مزید مشتبہ افراد پر ہاتھ ڈالے گی۔

مسلم لیگ (ن) نے جیل بھیجے گئے کارکن صابر ہاشمی کی حمایت کی ہے، مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے ایف آئی اے سے مطالبہ کیا کہ وہ وزیر داخلہ شیخ رشید کی جانب سے مرحومہ بے نظیر بھٹو اور عمران خان کی جانب سے سابق اہلیہ ریحام خان کے خلاف قابل اعتراض زبان استعمال کرنے کا بھی نوٹس لے۔

مریم نواز نے صابر ہاشمی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسے اغوا کیا گیا، کیا عمران خان مقدس گائے ہیں کہ ان کی ناکامیوں اور کرپشن پر تنقید نہیں کی جاسکتی؟ ایف آئی اے کو اس حکومت کے ہاتھوں استعمال نہ کیا جائے جس کے دن گنے جاچکے ہیں، ہماری پوری جماعت صابر ہاشمی کے ساتھ کھڑی ہے اور حکومت کے ایسے اچھے کپڑوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔

جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے محسن بیگ کی ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کھلم کھلا اپنے ناقدین کے خلاف ریاستی اداروں کو استعمال کر رہے ہیں جس سے نیب اور ایف آئی اے کی ساکھ صفر ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں خود کو ایک ریاست کا بادشاہ سمجھنے والے عمران خان کو بتانا چاہتی ہوں کہ یہ سلسلہ زیادہ عرصہ نہیں چلے گا اور عمران خان کو جلد گھر جانا پڑے گا۔

Back to top button