بلوچستان سے PTIکے بعد ’باپ‘ کا بھی پتا صاف؟

بلوچستان سے پی ٹی آئی کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی یعنی باپ کا خاتمہ بھی نوشتہ دیوار نظر آتا ہے۔پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی اگرچہ وفاق میں اتحادی ہیں مگر آئندہ انتخابات سے قبل دونوں جماعتوں میں زیادہ سے زیادہ الیکٹ ایبلز کو اپنا حصہ بنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں نے بلوچستان میں بھی آئندہ حکومت بنانے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔سابق وزیراعلیٰ جام کمال خان کی سربراہی میں بلوچستان عوامی پارٹی کے کئی ارکان اسمبلی اور الیکٹ ایبلز کے ایک بڑے گروپ کی مسلم لیگ ن کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں۔کئی ارکان اسمبلیوں کی شمولیت کی شکل میں ابتدائی کامیابیوں کے بعد پیپلز پارٹی کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ تاہم دوسری طرف وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے اپنی جماعت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم تجزیہ کار آئندہ عام انتخابات میں بلوچستان کی بلوچ پشتون قوم پرست جماعتوں کی پوزیشن کمزور جبکہ جمعیت علما اسلام کی پوزیشن کو مستحکم قرار دے رہے ہیں۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق جام کمال کے قریبی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ ماہ مریم نواز سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ ن کی قیادت کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے اور جام کمال نے بلوچستان عوامی پارٹی اور بعض دوسری جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اپنے ہم خیال ارکان اسمبلی اور الیکٹ ایبلز کے ساتھ آئندہ چند دنوں میں مسلم لیگ ن میں باقاعدہ شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔مسلم لیگ ن کے بلوچستان میں صدر شیخ جعفر خان مندوخیل نے بھی اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ’کئی ارکان اسمبلی اور اہم سیاسی رہنما جلد مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کریں گے ان میں جام کمال خان بھی شامل ہوں گے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پرانے دوست ہیں پہلے بھی بلوچستان میں ایک ساتھ رہے ہیں اور حکومت اور صوبے کے معاملات چلاتے رہے ہیں اور آئندہ بھی انشاء اللہ ہماری حکومت بنے گی۔‘
خیال رہے کہ جام کمال خان اس سے پہلے بھی ن لیگ کا حصہ رہ چکے ہیں وہ 2013 سے 2018 تک میاں نواز شریف اور شاہد خان عباسی کی کابینہ میں وزیر مملکت اور وفاقی وزیر رہ چکے ہیں۔ 2018 میں انہوں نے ن لیگ چھوڑ کر منحرف اراکین کے ساتھ مل کر بلوچستان عوامی پارٹی کی بنیاد رکھی اور اس کے پہلے صدر بنے۔جام کمال 2018 کے انتخابات کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان بنے تاہم اکتوبر2021 میں انہیں اپنی ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو کی بغاوت کے نتیجے میں وزارت اعلیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا۔ تب سے بلوچستان عوامی پارٹی دو واضح گروپوں میں تقسیم ہو گئی۔
بلوچستان کے سینیئر صحافی و تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کے مطابق جام کمال اور سینیٹر انوار الحق کاکڑ جیسے لوگوں کا جھکاؤ ن لیگ کی طرف ہے اور لگتا ہے کہ ن لیگ بھی انہیں لینا چاہتی ہے۔ اگست کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں ایک بڑا گروپ ن لیگ میں شمولیت اختیار کرنے جا رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پہلے کچھ لوگوں کو لگ رہا تھا کہ بلوچستان میں آئندہ حکومت پیپلز پارٹی بنائے گی اس لیے دھڑا دھڑ لوگ شامل ہو رہے تھے اب شاید انہیں حالات مختلف لگ رہے ہیں اور پیپلز پارٹی کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہو گئے ہیں تو وہ ن لیگ کی طرف رخ کر رہے ہیں۔’ہوسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی میں حال ہی میں شامل ہونے والے کچھ لوگ بھی واپس ن لیگ میں چلے جائیں۔‘ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں حکومت سازی کے لیے عددی اکثریت کی بجائے اس بات کی اہمیت رہی ہے کہ مرکز میں کس کی حکومت بنتی ہے۔‘شہزادہ ذوالفقار کے مطابق باپ پارٹی کے دوسرے گروپ کی قیادت چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کررہے ہیں۔ ’یہ وہ گروپ ہے جو پہلے پیپلز پارٹی کے لیے راستہ بنا رہے تھے اب معاملات نہ بن پانے کی وجہ سے دوسری طرف دیکھ رہے ہیں۔‘
تجزیہ کار شہزداہ ذوالفقار کا مزید کہنا ہے کہ ’بی اے پی کسی نظریے پر نہیں بنی تھی سب کو معلوم ہے کہ کس طرح الیکٹ ایبلز کو جمع کرکے 2018ء کے انتخابات سے قبل راتوں رات ایک جماعت بنائی گئی۔ کن کی ہدایات پر یہ فیصلے کرتے رہے۔ بی اے پی کو برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا فیصلہ بھی وہی لوگ کریں گے جنہوں نے یہ جماعت بنائی۔ اس میں شامل تمام الیکٹ ایبلز اب بھی ان کی مرضی کے بغیر باقی جماعتوں میں نہیں جا رہے۔‘
خیال رہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے گذشتہ ہفتے پیپلز پارٹی کے قائد سابق صدر آصف علی زرداری کے نام ایک خط لکھ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت سے معذرت کی ہے۔خط میں انہوں نے کہا کہ ’میرے لئے یہ امر باعث مسرت و اطمینان ہے کہ ہمارے درمیان باہمی تکریم و تعظیم پر مبنی گرم جوش ذاتی تعلقات عرصہ دراز سے قائم ہیں، میری ذاتی خواہش تھی کہ پیپلزپارٹی جوائن کروں۔‘خط میں انہوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت سے معذرت کا ذکر کیے بغیر وضاحت کی ہے کہ ’بلوچستان عوامی پارٹی آئندہ عام انتخابات میں بھرپور انداز میں حصہ لے گی تاہم باہمی گفت و شنید اور اشتراک و تعاون کے دروازے کھلے رہیں گے۔‘قدوس بزنجو کی جانب سے آصف علی زرداری کے نام خط پر پیپلز پارٹی نے نا پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینٹ صابر بلوچ کا کہنا ہے کہ ’عبدالقدوس بزنجو نے خود پیپلز پارٹی میں شمولیت کی درخواست کی تھی۔ آصف زرداری نے ایسی خواہش کا اظہار نہیں کیا تھا۔ عبدالقدوس بزنجو آصف علی زرداری زرداری کو خط لکھتے وقت ہوش میں نہیں ہوں گے۔‘صابر بلوچ کے مطابق بزنجو کی اپنی پارٹی کے اندر کتنی سنی جاتی ہیں سب کو معلوم ہے۔ ’زرداری بلوچستان کے عوام کے مزاج کو سمجھتے ہیں انتخابات میں پیپلز پارٹی فتح حاصل کرے گی۔‘
تجزیہ کار شہزادہ ذوالفقار کہتے ہیں کہ ’عبدالقدوس بزنجو نے پیپلز پارٹی میں شمولیت کی یقین دہانی کرائی تھی اوراب انہیں سرخ جھنڈی دکھا دی ہے۔ تاہم بزنجو نے خط میں جو بات کہی وہ فون پر بھی بتائی جا سکتی تھی۔‘ان کے بقول صادق سنجرانی کو کوششوں کے باوجود زرداری سے ملاقات کا وقت نہیں ملا۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ عبدالقدوس بزنجو سے یہ
خط بھی انہوں نے ہی لکھوایا ہے۔
