بھارتی چاول کی درآمدات پر پابندی سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟

بھارتی سفید چاول کی درآمدات پر پابندی سے امریکہ سمیت مختلف ممالک میں چاولوں کی قلت ہوگئی ہے، بھارت کا شمار اس وقت چاول برآمد کرنے والے دنیا کے بڑے ممالک میں کیا جاتا ہے۔اس حوالے سے کرشنا بی کمار، جو گزشتہ 12 سال سے امریکہ کی ریاست ڈیلاس میں مقیم ہیں، کا کہنا ہے کہ پچھلے جمعے کے دن مجھے دوستوں سے معلوم ہوا کہ آس پاس کے سٹورز میں چاول کی کمی ہے، میں نے سوچا کہ یہ افواہ ہے کیونکہ میں جانتا تھا کہ انڈیا میں چاول کی پیداوار اچھی ہوئی ہے، اس لیے ایسا نہیں ہو سکتا، لیکن پھر دوستوں اور رشتہ داروں کی جانب سے بھی واٹس ایپ پر پیغامات آنے لگے کہ چاول اور آٹا دستیاب نہیں۔ بعد میں جب میں دکان پر گیا تو دیکھا کہ وہ ریک جہاں چاول اور آٹا رکھا گیا تھا وہ خالی تھا، انھوں نے ایسی صورتحال کبھی نہیں دیکھی۔انڈین حکومت کے مطابق مقامی مارکیٹ میں چاول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک سال میں چاول کی قیمتوں میں 11.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ صرف گزشتہ ماہ کے دوران 3 فیصد اضافہ ہوا۔مقامی مارکیٹ میں چاول کی قیمتوں میں کمی اور چاول کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت نے گزشتہ سال 8 اگست کو نان باسمتی سفید چاول کی برآمد پر 20 فیصد ایکسپورٹ ڈیوٹی عائد کی تھی۔ اس کے باوجود سفید چاول کی برآمد میں اضافہ دیکھا گیا۔سفید چاول کی برآمد مارچ 2021-2022 میں 33.66 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 2022-2023 (ستمبر-مارچ) میں 42.12 لاکھ ٹن ہوگئی، موجودہ مالی سال 2023-24 (اپریل-جون) میں سفید چاول کی برآمدات تقریباً 15.54 لاکھ ٹن تھیں، جوکہ گزشتہ سال 2022-23 (اپریل-جون) کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ہیں۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رائس ایسوسی ایشن آف انڈیا کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر راجیو کمار کا کہنا ہے کہ ملکی سطح پر چاول کی قیمت میں 4 روپے فی کلو کمی آئی ہے، اس لیے حکومت کی جانب سے چاول کی قیمت کم کرنے کی کوششیں کام آئی ہیں لیکن ساتھ ہی تھائی لینڈ اور ویتنام نے چاول کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ کر دیا ہے۔ اس سے خوراک کی عالمی قیمتوں پر اثر پڑے گا۔ ہمارا اصل مقابلہ تھائی لینڈ اور ویتنام سے ہے۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے چاول کی برآمدات پر پابندی سے عالمی غذائی افراط زر پر اثر پڑ سکتا ہے، آئی ایم ایف کے چیف اکانومسٹ پیئر اولیویا نے کہا ہے کہ ہم انڈیا کی حکومت سے چاول کی برآمدات پر عائد پابندیاں ہٹانے کے لیے کہیں گے کیونکہ اس کا اثر دنیا پر پڑ سکتا ہے۔آل انڈیا رائس ایسوسی ایشن کے سابق صدر وجے سیٹیا نے بھی بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس پابندی پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا خیال ہے کہ اس پابندی سے انڈیا کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا جن ممالک میں انڈین چاول جاتا ہے، وہاں قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور اس سے ویتنام، پاکستان، تھائی لینڈ جیسے ممالک کو فائدہ ہوگا۔پاکستان کی رائس ایکسپورٹر ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین حسیب علی خان نے بی بی سی اردو کے زبیراعظم کو بتایا کہ مالی سال 2021-2022 میں پاکستان نے 4.5 ملین ٹن چاول برآمد کیا جس میں سے 3.7 ملین ٹن نان باسمتی چاول تھا۔ اس سال پاکستان کو چاول کی برآمد سے 2.64 ارب ڈالر کا غیر ملکی زرمبادلہ حاصل ہوا۔اخبار دی ہندو کے مطابق ٹیکساس، مشی گن اور نیو جرسی جیسے بڑے امریکی شہروں میں باقی دکانداروں نے بھی انڈین گروسری سٹورز کے باہر قطاریں دیکھ کر چاول کی فروخت کو محدود کر دیا ہے اور کئی دکانوں پر یہ اصول بنا دیا گیا ہے کہ ایک گاہک صرف ایک تھیلا چاول خرید سکتا ہے۔کرشنا بی کمار، جو ڈیلاس، امریکہ میں کام کرنے والے سافٹ ویئر انجینئر ہیں، کہتے ہیں کہ ’چاول کا تقریباً دس کلو کا ایک تھیلا، جو پہلے 14 سے 15 ڈالر میں دستیاب ہوتا تھا، اب 40 ڈالر میں دستیاب ہے۔ آٹے کا تھیلا پہلے 12 ڈالر میں ملتا تھا، وہ بھی اب 20 ڈالر میں دستیاب ہے۔ ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ چاول کی عالمی برآمدات میں انڈیا کا حصہ 40 فیصد سے زیادہ ہے۔2022 میں یہ 55.4 ملین ٹن تھا، جو دنیا کے چار سب سے بڑے چاول برآمد کرنے والے ممالک تھائی لینڈ، ویتنام، پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ برآمدات سے زیادہ ہے اگر آپ فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کے سٹاک کو دیکھیں تو یہ کافی اطمینان بخش ہے۔ایسی صورتحال میں، ہم اُمید کرتے ہیں کہ یہ پابندی جلد ختم ہو جائے گی۔کسانوں کو کھیتوں سے پانی کے ختم ہونے کا انتظار کرنا پڑا تاکہ وہ دوبارہ فصل لگا سکیں۔ایسے میں حکومت کی جانب سے چاول کی قیمت خرید میں اضافے کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ چاول کی کاشت میں اضافہ ہوگا لیکن 2022 کے مقابلے میں اب
ندایاسر نے منور سعید کو ٹھرکی سسر کیوں قرار دے دیا؟
تک کسانوں نے 6 فیصد کم رقبہ پر کاشت کی ہے۔
