جسٹس بندیال آنے والے دنوں میں کیا کرنے والے ہیں؟

بطور چیف جسٹس، جسٹس عمر عطاء بندیال کا دور تنازعات سے بھرپور رہا اور شاید پہلی بار ایسا ہوا کہ پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف قراردادیں منظور کیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال کا دور اس لحاظ سے بھی مختلف ہے کہ اس میں سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان آئینی اور قانونی معاملات کے حوالے سے واضح تفریق نظر آئی۔سماعت کرنے والے بینچوں کی تشکیل پر بہت سے اعتراضات حکومت اور دیگر فریقین کی جانب سے سامنے آئے۔ سپریم کورٹ کے ازخود اختیارات پر نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ ججز کے نقطہِ نظر میں بھی واضح فرق سامنے آیا۔

وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق کئی اہم مقدمات موجودہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں شروع ہوئے اور ابھی تک زیر التواء ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ان مقدمات کا فیصلہ موجودہ چیف جسٹس کے دور میں ہو پائے گا؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ان مقدمات کے فیصلے ملکی سیاست اور انتظامی معاملات پر گہرے اثرات مرتب کریں گے۔

اس سال اپریل کے شروع میں پارلیمنٹ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کی منظوری دی، جس کی رو سے بینچوں کی تشکیل اور ازخود اختیارات کا استعمال چیف جسٹس کی بجائے سپریم کورٹ کے 3 سینیئر ترین ججوں پر مشتمل کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری کے بعد صدر مملکت کی جانب سے ابھی اس بل پر دستخط ہونا باقی تھے کہ 13 اپریل کو چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے مذکورہ بل کو عدلیہ کی آزادی میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس پر حکم امتناع جاری کر دیا اور تاحال یہ مقدمہ عدالت میں زیر التواء ہے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ نامزد چیف جسٹس، جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے پریکٹس اینڈ پروسیجر بل کی منظوری کے بعد کسی بھی بینچ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا۔ عدالت میں اور اپنے خصوصی نوٹ کے ذریعے انہوں نے واضح کیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل چونکہ اب قانون کا حصہ ہے اس لیے چیف جسٹس کی جانب سے 3 سینیئر موسٹ ججز کی مشاورت کے بغیر بینچوں کی تشکیل غیر آئینی ہے۔

پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد سپریم کورٹ نے اس سال مارچ میں حکم نامہ جاری کیا کہ پنجاب میں 14 مئی کو انتخابات کرائے جائیں کیونکہ اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز میں انتخابات کرانا آئینی ذمے داری ہے۔اس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپیل دائر کی کہ ناگزیر وجوہات کی بنیاد پر 14 مئی کو الیکشن کا انعقاد ممکن نہیں۔ اس کے بعد پارلیمنٹ نے ریویو آف ججمنٹ ایکٹ کی منظوری دی، جس کی رو سے ازخود اختیارات کے ذریعے دیے گئے فیصلوں کے خلاف اپیل دائر کرنے کے قوانین میں ترمیم کر کے اپیل کے دائرہ کار کو بڑھا دیا گیا۔سپریم کورٹ کا 3 رکنی پینچ چیف جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں مذکورہ مقدمے کی سماعت کر رہا ہے اور اس مقدمے کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔

9 مئی واقعات کے بعد 102 افراد کو ملٹری کورٹس کی تحویل میں دیا گیا جس کے خلاف پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور بیرسٹر اعتزاز احسن کی درخواستیں زیر سماعت ہیں۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان اس مقدمے میں عدالت کو یقین دہانی کروا چکے ہیں کہ ملٹری کورٹس میں ملزمان کو فیئر ٹرائل کا حق دیا جائے گا، لیکن ملٹری کورٹس سے سزا پانے والوں کے پاس ہائی کورٹ میں اپیل کا حق ہو گا یا نہیں؟ اس پر عدالتی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

2016 میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی کہ جن لوگوں کے نام پاناما اسکینڈل میں آئے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ پاناما اسکینڈل میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو سزا سنائی گئی لیکن باقی 436 افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔حال ہی میں اس مقدمے کو سپریم کورٹ کے 2 رکنی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا گیا۔ جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ اس مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔

کوئٹہ میں قتل ہونے والے وکیل عبدالرزاق شر کے مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نامزد ملزم ہیں۔ انہوں نے اس قتل کی ایف آئی آر سے اخراج کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔ اس مقدمے کا فیصلہ بھی ملکی سیاست اور قانون پر دور رس اثرات کا حامل ہو گا، کیونکہ عمران خان کو اعانت جرم سے متعلق دفعہ کے تحت ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ ججز، کچھ سیاستدانوں اور دیگر افراد کی گفتگو کے حوالے سے ماہ اپریل اور مئی میں کچھ آڈیو ٹیپس منظر عام پر آئیں، جس پر وفاقی حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں ایک جوڈیشل انکوائری کمیشن تشکیل دیا۔ لیکن 26 مئی کو چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک 5 رکنی بینچ نے کمیشن کو کارروائی سے روک دیا۔ اس معاملے پر بھی حتمی فیصلہ آنا ابھی باقی ہے۔نجی ٹیلیویژن کے صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق مقدمہ بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جس کا فیصلہ ملک کے صحافتی حلقوں کے لیے اہم ہے۔

دوسری جانب سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد قیام پاکستان کے بعد سب سے بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ سے زیر التوا مقدمات کے اعداد و شمار ہٹا دئیے گئے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب عدلیہ زیر التوا مقدمات کی بڑے تعداد کے سبب تنقید کی زد میں ہے، اعلیٰ اور زیریں عدالتوں میں یہ تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے،

ڈان نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال۔کی سربراہی میں قائم لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان سپریم باڈی ہے جو قانونی نظام پر نظر رکھتی ہے اور ملک کے قانونی نظام کو ترقی دینے، بہتر بنانے اور قوانین میں اصلاحات کی سفارش کرنے کا ذمہ دار ہے۔ زیر التوا مقدمات کے اعداد شمار تک عام طور پر ایل جے سی پی کی ویب سائٹ کے ذریعے رسائی حاصل کی جا سکتی ہے تاہم اب لگتا ہے کہ اسے ہٹا دیا گیا ہے۔

تاہم دوسری طرف لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے ایک سینئر عہدیدار کا دعوی ہے کہ اعدادوشمار کو ہٹانے کا عدلیہ پر تنقید سے کوئی تعلق نہیں ہے، ویب سائٹ کو بہتر بنایا جا رہا ہے اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو اسے اپ گریڈ کرنے کا کام سونپا گیا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ زیر التوا مقدمات کی تفصیلات کے علاوہ دیگر ڈیٹا ویب سائٹ پر کیوں موجود ہے؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک تکنیکی معاملہ ہے اور ویب سائٹ کے مکمل اپڈیٹ ہونے پر معلومات ظاہر ہو جائیں گی۔

ایک رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں 30 جون تک زیر التوا مقدمات کی تعداد 54 ہزار 965 تھی، جب جسٹس عمر عطا بندیال نے گزشتہ برس فروری میں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا تو اس وقت سپریم کورٹ میں 53 ہزار 964 مقدمات زیر التوا تھے۔رواں برس فروری میں سپریم کورٹ نے بتایا تھا کہ 2 فروری 2022 سے 25 فروری 2023 کے درمیان24 ہزار 303 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا جبکہ اس دوران 22 ہزار 18 نئے مقدمات درج ہوئے، لہٰذا 2 ہزار 285 زیر التوا مقدمات کم ہوئے، یعنی ان کی تعداد 54 ہزار 735 سے کم ہو کر 52 ہزار 450 رہ گئی۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال 16 ستمبر کو ریٹائر ہوں گے، ان کی جگہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لیں گے، جو اس وقت چیف جسٹس کے بعد سینئر ترین جج ہیں۔تاہم ان کی ریٹائرمنٹ کے وقت سپریم کورٹ میں زیر التوا

اداکارہ ایمان علی کو’اسلحہ‘اٹھانا کیوں اتنا پسند ہے؟

مقدمات کی تعداد 1947 میں قیام کے بعد سے سب سے زیادہ ہوگی

Back to top button