کون کون سے PTI رہنما پارٹی کو چھوڑنےوالےہیں؟

سانحہ 9مئی پر تحریک انصاف کے اندر سے بھی غم وغصےکی وجہ سے بغاوت پھوٹ پڑی ہے۔ پاک فوج سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایڈیشنل سیکریٹری عامر کیانی اور دو ارکان سندھ اسمبلی ڈاکٹرسنجے گنگوانی اور کریم گبول نےپارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا ہےجبکہ تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر ولید اقبال نے تسلیم کیا ہے کہ لاہور کے جناح ہاؤس میں حملے کے وقت انہوں نے مشتعل پی ٹی آئی ورکرز کو اندر دیکھا‘ جناح ہاؤس پر حملہ شرمناک ہے ‘مشتعل کارکنوں کےخلاف کارروائی ہونی چاہئے ‘ گھر میں نظربند پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی زیدی نے 9 مئی کے پرتشدد واقعات کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا اورکہاکہ فوج ہم سے ہے اورہم فوج سے ہیں ‘9مئی کو جوہواوہ دہشت گردی تھی ‘.
ادھر دوسری طرف وزیردفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیاہے کہ تحریک انصاف کے بہت بڑے رہنماوں نے ن لیگ میں آنے کیلئے رابطہ کیاہےجس پر میں نے جواب دیا کہ میں ایسے کاموں میں نہیں پڑتا ‘وفاداریاں تبدیل کرنے والےہماری طرف نہ آئیں جبکہ سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا کا کہنا ہے کہ ابھی شروعات ہوگئی ہے لاتعلقی کی‘پہلے مرحلے میں مذمت اور لاتعلقی ہو گی‘ پھر علیحدہ ہوں گے‘ بعد میں ایک دوسرے پر الزامات لگائیں گے۔
تاہم پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے واضح کیاہے کہ لوگوں کوپارٹی چھوڑنے کا کہنے والوں کوپتہ نہیں تحریک انصاف پاکستان کی 70 فیصد مقبول جماعت ہے۔‘اس حکمت عملی سے پارٹی ختم نہیں ہوگی ‘تحریک انصاف کا ٹکٹ جیتے گا ۔اس حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی بارہ جماعتوں کے مقابلے میں 70فیصد مقبولیت کی دعویدار پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت کا گراف 9مئی کے سانحے کے بعد کس سطح پر آگیا ہے ابھی تک اس کا کوئی سروے تو سامنے نہیں آیا لیکن اس کی جماعت سے وابستگی رکھنے والے ارکان اسمبلی، مرکزی عہدیداروں، مقامی راہنماؤں اور سرگرم کارکنوں کے بیانات اور سرگرمیوں کو اگر سروے کی کسوٹی مقرر کر لیا جائے تو صورتحال خاصی متضاد اور مایوس کن نظر آرہی ہے اور ابھی تک قومی اسمبلی کے دو ارکان محمود مولوی اور راولپنڈی کے عامر محمود کیانی نے اعلانیہ طور پر پاکستان تحریک انصاف سے اپنی وابستگی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ آنے والے دنوں میں اس سلسلے میں تیزی آنے کا امکان ہے۔خیال رہے کہ یہ اعلانات ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب 9 مئی کے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
تاہم یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں تحریک انصاف کے مزید کون کون سے رہنماء پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر سکتے ہیں؟ ذرائع کا دعوی ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں تحریک انصاف کے اندر ایک گروپ بننے کی اطلاعات ہیں جس میں دو درجن کے قریب ارکان پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کرسکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان دو درجن ارکان میں سے مرکزی قیادت بھی شامل ہے اور آنے والے دنوں میں عمران اسماعیل، فواد چوہدری، غلام سرور خان بھی پارٹی سے کنارہ کشی یا خاموشی اختیار کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ افتخار درانی، شہرام ترکئی، مشتاق غنی، صالح محمد خان، شہریار آفریدی کی بھی پارٹی چھوڑنےکی اطلاعات ہیں۔ذرائع کے مطابق پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کرنے کی وجہ موجودہ سیاسی صورتحال میں عمران خان کا پارٹی قیادت کے مشوروں پر عمل نہ کرنا اور پارٹی کے فیصلے بغیر مشاورت کرنے کے باعث بھی کئی ارکان دلبرداشتہ ہیں۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار جہانگیر ترین کے اچانک فعال ہونے کو بھی اہم سیاسی پیش رفت قرار دے رہے ہیں،ذرائع کے مطابق 9مئی کے پرتشدد واقعات سے بیزارپی ٹی آئی رہنماؤں نے ترین کی قیادت میں فعال فارورڈ بلاک بنانے کیلئے روابط شروع کردیئے ہیں اگرچہ جہانگیر ترین نے ایسی کسی بھی پیشرفت کی تردید کی ہے۔ دوسری جانب ذمہ دارذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے منحرف مرکزی رہنما جہانگیر خان ترین کی اچانک فعالیت کو سیاسی حلقے مستقبل کے سیاسی منظر نامے کی پیش بندی قرار دے رہے ہیں اگلے چند دنوں میں ترین کی وزیر اعظم شہباز شریف، آصف زرداری،مولانا فضل الرحمان،چودھری شجاعت سمیت حکمران اتحاد کے مرکزی قائدین سے ملاقاتوں کا قوی امکان ہے.پی ٹی آئی کے مرکزی و صوبائی رہنماؤں کی بڑی تعداد ترین کے ساتھ رابطے کرکے پی ٹی آئی فارورڈ بلاک بنانے کی خواہاں ہیں۔
دوسری جانب محمود مولوی ،عامر کیانی کے پارٹی چھوڑنے کے اعلان اور تحریک انصاف کے مستقبل بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کو جس نے بنایا تھا وہ اسی پر حملہ آور ہوئی، اسٹیبلشمنٹ سے کھلی لڑائی کے نتیجے میں پی ٹی آئی میں دراڑیں آنا ہی تھیں، تحریک انصاف کی بیوقوفی کی وجہ سے عمران خان کو کرش کرنے کا جو کام آہستہ آہستہ ہونا تھا وہ اب تیزی سے ہوجائیگا۔عمرانڈو تجزیہ کار ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے ٹوٹنے کی خبریں آرہی ہیں، بہت سے لوگ تحریک انصاف چھوڑنے کو تیار بیٹھے ہیں، اس وقت تحریک انصاف کے نہیں عمران خان کے مستقبل کی بات ہورہی ہے، مستقبل قریب میں عمران خان پر بہت مشکل وقت آنیوالا ہے. پی ٹی آئی کی اکثریت عمران خان پر خود ہی گفتگو کرنا شروع ہوگئی ہے ، زمان پارک پر پولیس آپریشن عمران خان کو نہیں نو مئی کے فسادات میں ملوث لوگوں کی گرفتاری کیلئے ہورہا ہے.تحریک انصاف پر پہلی بار مشکل وقت آیا ہے اس لیے کسی کو سمجھ نہیں آرہا کیا کرنا ہے، پاکستان میں ہر پانچ دس سال بعد کسی نہ کسی پارٹی پر یہ وقت آتا ہے، عمران خان آج سوچ رہے ہوں گے کہ مقبول ترین ہوکر بھی مقبولیت کام نہیں آرہی۔
