گیلانی کو توہین عدالت پر نااہل کروانے والا عمران خود عدالت میں

آج سے دس برس پہلے سپریم کورٹ میں تب کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت پر نااہل کروانے کے لیے حامد علی خان ایڈووکیٹ کے ذریعے کیس دائر کرنے والے عمران خان کو اب خود توہین عدالت کے الزام کا سامنا ہے اور حامد علی خان ان کا دفاع کر رہے ہیں، عمران خان کی پٹیشن پر سپریم کورٹ کے ہاتھوں یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کو حامد خان نے آئین اور قانون کی فتح قرار دیا تھا، دلچسپ بات یہ ہے کہ ماضی میں حامد خان نے عمران خان کے ایماء پر گیلانی کو نااہل کروانے کیلئے عدالت میں جو دلائل دیئے تھے اب وہ ان کے اُلٹ دلائل دے رہے ہیں یعنی مکافات عمل کے اصول کے تحت تاریخ کا پہیہ گھوم چکا ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 19 جون 2012 کو تب کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر توہین عدالت کے الزام میں نا اہل قرار دیا تھا، ملک کی تاریخ میں توہین عدالت پر نااہل ہونے والے پہلے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف یہ کیس تب شروع ہوا جب انہوں نے عدالتی حکم پر اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کے خلاف سوئس مقدمات پر دوبارہ کارروائی شروع کرنے کے لیے سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کا موقف اپنایا کیونکہ ان کے خیال میں آصف زرداری کو صدارتی استثنیٰ حاصل تھا۔
16 جنوری 2012 کو سپریم کورٹ نے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں بنائے گئے سات رکنی بینچ نے این آر او عملدرآمد کیس میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں خود پیش ہونے کا حکم دیا اور 26 اپریل 2012 کو انہیں توہین عدالت کا مرتکب ہونے پر عدالت کی برخاستگی تک 39 سیکنڈ تک قید کی سزا سنائی گئی، چار مئی 2012 کو تب کی سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے یہ رولنگ دے کر یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کو مسترد کر دیا کہ وزیراعظم پر عائد کی گئی فرد جرم کے تحت انہیں نا اہلی کی سزا نہیں دی جا سکتی۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیت سے متعلق سپیکر کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی، ایک اور درخواست ن لیگ کے خواجہ محمد آصف نے بھی دائر کر تھی، حامد خان ایڈووکیٹ نے عمران خان کے وکیل کے طور پر گیلانی کی نااہلی کے لیے دھواں دھار دلائل دئیے تھے جبکہ عرفان قادر ایڈووکیٹ

عمران کو بغیرسزا نہیں چھوڑا جاسکتا، عدالت کا رویہ عجیب لگا

نے بطور اٹارنی جنرل فار پاکستان گیلانی کا دفاع کیا تھا۔
بالآخر چھ ماہ کی آئینی جنگ کے بعد سپریم کورٹ نے 19 جون 2012 کو سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم کرتے ہوئے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دے دیا تھا، چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں دیئے گے فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت نے یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا مرتکب پایا ہے اور چونکہ 26 اپریل کو دیئے گئے سپریم کورٹ فیصلے کے خلاف کوئی اپیل دائر نہیں کی گئی، اس لیے آئین کے تحت یوسف رضا گیلانی 26 اپریل 2012 سے قومی اسمبلی کے رکن نہیں رہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ یوسف رضا گیلانی اسی تاریخ سے ملک کے وزیراعظم بھی نہیں رہیں گے اور یہ عہدہ اس دن سے خالی تصور کیا جائے گا، یاد رہے کہ یہ وہی افتخار محمد چوہدری تھے جو اپنے ساتھی ججوں سمیت مشرف کے ہاتھوں برطرف ہو گئے تھے اور انہیں سید یوسف رضا گیلانی نے اقتدار سنبھالتے ہی بحال کر دیا تھا۔
تاہم سید یوسف رضا گیلانی نے یہ فیصلہ ایک منٹ میں قبول کر لیا تھا کیونکہ اس فیصلے کی سیاہی سے ججوں نے اپنے ہی منہ کالے کیے تھے، نااہلی کے بعد ایک انٹرویو میں گیلانی نے بتایا کہ جب 26 اپریل 2012 کو یہ فیصلہ آیا تو میں تب سپریم کورٹ میں تھا۔ افتخار چوہدری کے سات رکنی بینچ نے مجھے 30 سیکنڈز کی سزا سنائی تھی۔ یہ معاملہ عدالتی حکم کی تعمیل کے لیے سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کو ریفر کیا گیا۔ سپیکر نے ایک ماہ کا وقت لیا اور قانونی ماہرین سے مشاورت کی۔ اس کے بعد تب کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ازخود نوٹس لیا اور مجھے نا اہل قرار دے دیا۔ میں نے یہ فیصلہ ایک منٹ کے اندر قبول کر لیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’سات رکنی بینچ نے سپیکر کی رولنگ کے باوجود مجھے نا اہل قرار دیا، مسئلہ یہ ہے کہ ایک ملک میں دو قانون تھے۔
عدالتی فیصلہ آنے کے بعد عمران خان کے وکیل حامد خان نے سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عدالتی فیصلے کو عوام اور وکلاء کی فتح قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے خط لکھنے سے انکار پر اعلی عدالت کو یہ فیصلہ دینا پڑا کیونکہ واضح توہین عدالت ثابت ہو گئی تھی، انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے بطور وزیراعظم 26 اپریل 2012 کے بعد جتنے بھی اقدام کیے وہ غیر آئینی، غیر قانونی اور ایک غاصب کے طور پر کیے ہیں حالانکہ ان کو اس وقت بھی ساری قوم، وکلاء اور حزب اختلاف نے کہا تھا کہ ہم آپکو وزیراعظم نہیں مانتے، لیکن انہوں نے خود کو پچھلے پونے دو ماہ سے زبردستی قوم پر مسلط کر رکھا تھا لیکن آج انصاف کا بول بالا ہوا اور سپریم کورٹ نے گیلانی کو نااہل کر کے ایک تاریخی فیصلہ دیا، آج وہی حامد خان ایڈووکیٹ لاہور ہائیکورٹ میں عمران کے خلاف توہین عدالت کے کیس میں ان کا دفاع کرتے ہوئے 2012 سے اُلٹ دلائل دے رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اگر ہائی کورٹ عمران خان کو بھی توہین عدالت پر نااہل قرار دیتی ہے تو کیا حامد خان اسے بھی ایک تاریخی فیصلہ قرار دیتے ہیں یا نہیں؟

Back to top button