پی ٹی آئی کو ایک اور جھٹکا، وزیراعلیٰ گلگت نے فارورڈ بلاک بنا لیا

تحریک انصاف گلگت بلتستان بھی عمران خان کا اقتدار ختم ہونے کے بعد سے خاتمے کی جانب گامزن ہے اور اب وزیراعلیٰ سمیت تمام اہم پی ٹی آئی رہنما پارٹی چھوڑ گئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق عمران خان کی قید کے دوران پی ٹی آئی میں ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کی شدت نے پارٹی کے سیاسی مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ گلگت بلتستان میں وزیراعلیٰ سمیت تمام بڑے رہنماؤں کا پارٹی سے علیحدگی کا اعلان اور فارورڈ بلاک کی تشکیل اس بات کا ثبوت ہے کہ پی ٹی آئی سیاسی محاذ پر اپنی گرفت مکمل طور پر کھو چکی ہے اور جلد چھوٹے چھوٹے گروپوں میں بٹنے والی ہے۔
تاہم دوسری جانب وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سمیت 11 اراکین اسمبلی کے پارٹی چھوڑنے کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی قیادت نے اپنی خفت چھپانے کیلئے چیف منسٹر گلگت بلتستان حاجی گلبر اور دیگر 10 اراکین اسمبلی کی بنیادی رکنیت ختم کر دی ہے۔ پارٹی اعلامیہ کے مطابق پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے یہ فیصلہ فارورڈ بلاک بنانے اور پارٹی پالیسی کے برخلاف ووٹ ڈالنے پر کیا گیا ہے۔ پارٹی سے نکالے گئے اراکین میں وزیر اعلیٰ حاجی گلبر کے علاوہ مشتاق احمد، حاجی شاہ بیگ، عبد الحمید، سید امجد علی زیدی، شمس الحق لون، دلشاد بانو، راجہ ناصر علی خان مقپون، ثریا زمان، راجہ اعظم خان اور راجہ فضل رحیم شامل ہیں۔ تاہم دلچسپی کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی سے بے دخل کئے گئے اراکین اسمبلی میں سے اکثریتی اراکین وزیراعلیٰ گلبر خان کی کابینہ کا حصہ ہیں۔ اراکین اسمبلی کی بے دخلی کے حوالے سے جاری اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ پارٹی پالیسی اور ضابطوں کے مطابق کیا گیا یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے۔اعلامیے میں نکالے گئے اراکین اسمبلی کو مزید ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پارٹی کا نام، عہدہ یا رکنیت استعمال کرنے سے گریز کریں ورنہ ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی سابق گورنر گلگت بلتستان راجہ جلال حسین مقپون کو بھی شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے پارٹی کے خلاف نہ صرف سازش کی بلکہ پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کو بھی وفاداریاں تبدیل کرنے پر آمادہ کیا۔ شوکاز نوٹس میں انہیں دو دن کے اندر تحریری وضاحت جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
خیال رہے کہ دو سال قبل جولائی میں پی ٹی آئی کے وزیراعلیٰ خالد خورشید خان جعلی ڈگری کیس میں نااہل قرار پائے تھے۔خالد خورشید کی نااہلی کے بعد سامنے آنے والی نئی سیاسی صف بندی کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے منحرف اراکین نے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے قانون سازوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی تھی جس میں حاجی گلبر خان نئے وزیر اعلیٰ بن کر ابھرے تھے۔ جس کے بعدمسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے اراکین کے تعاون سےحاجی گلبر نئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان منتخب ہوگئے تھے۔ تاہم ان کےوزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد سے گلگت میں پارٹی میں انحراف، انتشار اور دھڑے بندی کھل کر سامنے آنا شروع ہو گئی تھی جس کا لامحالہ نتیجہ اب 11اراکین کی پارٹی سے بغاوت کی صورت میں سامنے آگیا ہے۔
تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان کی گرفت کمزور ہوتے ہی پی ٹی آئی کا تنظیمی ڈھانچہ زمین بوس ہونے لگا ہے۔ حقیقت میں پی ٹی آئی ون مین شو ہے۔ تحریک انصاف میں تقسیم اور انتشار بنیادی طور پر عمران خان کی واحد شخصیت پر انحصار کرنے کا نتیجہ ہے کیونکہ تحریک انصاف نے ادارہ جاتی سیاست کو فروغ دینے کے بجائے ایک شخصیت کے گرد بیانیہ کھڑا کیا، اور اب جبکہ وہ شخصیت کمزور ہوئی ہے تو پارٹی کی جڑیں بھی ہلنا شروع ہو گئی ہیں۔
مبصرین کے بقول گلگت بلتستان میں جو کچھ ہوا ہے، وہ مستقبل قریب میں خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بھی دہرایا جا سکتا ہے کیونکہ جب سیاسی رہنما اقتدار سے محروم ہو جائیں تو کارکن اور رہنما زیادہ دیر تک وفادار نہیں رہتے، وہ نئے سیاسی ٹھکانوں کی تلاش کرتے ہیں۔ یہی کچھ اب پی ٹی آئی کے ساتھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی کی حالیہ صورتحال عمران خان کی اس پالیسی کی عکاس ہے جس میں پارٹی کو ادارہ جاتی بنیادوں پر نہیں بلکہ "مقبولیت اور احتجاجی سیاست” پر کھڑا کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقتدار سے محرومی کے بعد پارٹی تیزی سے تحلیل ہو رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کو درپیش پحران ایک علاقائی بغاوت نہیں بلکہ تحریک انصاف کی ملک گیر زوال پذیری کی علامت ہے۔ جس کے بعد آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کیلئے اپنے وجود کو برقرار رکھنا ناممکن نظر آتا ہے۔
