ٹیکس مہم گاڑیوں کی فروخت میں کمی کی ذمہ دارقرار

پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں کمی کی بڑی وجہ تحریک انصاف حکومت کی طرف سے ملک میں ٹیکس مہم کو قرار دیدیا گیا۔
اس حوالے سے ملک میں موجود تین جاپانی اسمبلرز میں سے ایک کے اعلیٰ عہدیدار نے بتایا ہے کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی حالیہ مہم کی وجہ سے گاڑیوں کی فروخت میں کمی آئی ہے اور ایسا گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں مقامی سطح پر اسمبل کی جانے والی گاڑیوں پر عائد ٹیکسز میں کوئی کمی یا ان کا خاتمہ ملک میں آٹو موبائل انڈسٹری پر چھائی تاریکی دور نہیں کرسکے گا۔عہدیدار نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں گاڑیاں خریدنے والے ہر 100 میں سے 48 افراد نان فائلرز ہوتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس مہم کے آغاز کے بعد خریداروں کا یہ بڑا حصہ مارکیٹ سے اچانک غائب ہوگیا ہے، انڈسٹری کا بکنگ ڈیٹا اور فروخت کی تعداد واضح طور پر اس کی عکاسی کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ گاڑیاں بنانے والی کسی کمپنی نے گاڑیوں کی فروخت میں کمی کا تعلق حکومت کی جانب سے شروع کی گئی ٹیکس مہم سے جوڑا ہے جس کا مقصد ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے ان افراد سے ٹیکس لینا ہے جو انکم ٹیکس ادا نہیں کرتے یا ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کرتے۔
گزشتہ 2 سالوں میں دو عوامل کی وجہ سے گاڑیوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا، اس سے قبل نئے ٹیکسز کے نفاذ جیسا کہ مختلف انجن کی گاڑیوں کے لیے 2.5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی اضافے کے بعد 7.5 فیصد اور کار سازوں پر 7 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس اور اس کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی شرح سود کو آٹو موبائل مارکیٹ کے حالات کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔
اعلیٰ عہدیدار نے کمپنی پالیسی کی وجہ سے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو میں کہوں گا کہ ٹیکسز کو دستاویزی شکل دینے کی مہم گاڑیوں کی فروخت میں کمی کی سب سے بڑی وجہ ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ہماری فروخت پر اس کا اثر بہت زیادہ ہے جو لگ بھگ 75 فیصد کے قریب ہے، باقی اثرات گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے اور شرح سود یا ملک میں معیشت میں سست روی کے رجحان کی وجہ سے ہے۔
پاکستان آٹو موٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کی جانب سے رواں برس کے آغاز میں گاڑیوں کی فروخت سے متعلق جاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سالی کی پہلی ششماہی میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 43 فیصد کمی آئی۔
گزشتہ مالی سال کی ایک لاکھ 40 ہزار 38 گاڑیوں کے مقابلے میں رواں مالی سال میں 59 ہزار 97 گاڑیاں فروخت ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کو ابھارنے کے لیے پالیسی میں مستقل مزاجی اہم ہے، حکومت کو آٹو موبائل انڈسٹری پر عائد ٹیکسز سے متعلق مستقبل کے ارادوں کو واضح کرنا چاہیے۔عہدیدار نے کہا کہ ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ ٹیکسز برقرار رہیں گے، کمی آئے گی یا آئندہ برس یا اس کے بعد ان میں اضافہ ہوگا۔