بالغ ہونےکےبعد لوگ موٹاپےکاشکارکیوں ہوجاتےہیں؟

بالغ ہونےکے بعد تعلیمی اداروں سےفارغ التحصیل ہونےپرملازمت میں مصروف ہوجانےسےلوگ جسمانی طورپرکم متحرک ہوجاتےہیں جبکہ جسمانی وزن بڑھ جاتا ہے،اس کےساتھ ساتھ ماں بننےپربھی جسمانی وزن میں اضافہ ہوتاہے۔
یہ بات برطانیہ میں ہونےوالی ایک طبی تحقیق میں سامنےآئی۔کیمبرج یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ بیشترافراد میں بلوغت کے بعد جسمانی وزن میں اضافہ ہوتا ہےاور یہی وہ عمر ہے جس میں موجودہ عہد میں موٹاپے کی شرح میں بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ محققین کےمطابق جسمانی وزن میں اضافے کی وجہ غذا میں تبدیلی اورجسمانی طورپرکم متحرک ہونا ہوتا ہے۔
جریدے اوبیسٹی ریویوزمیں شائع تحقیق میں تعلیم سےلےکر ملازمت اورپھراولاد کےہونےتک جسمانی سرگرمیوں، غذا اور جسمانی وزن میں تبدیلیوں کو دیکھا گیا۔ اس مقصد کے لیے2 مختلف تحقیقات کی گئیں اورایسےشواہد کودیکھا گیا جو اعلیٰ تعلیم یا ملازمت سےجسمانی وزن، غذا اورجسمانی سرگرمیوں پراثرات کےحوالےسےتھے۔ 15سے35 سال کی عمرکے افراد پرہونےوالی 19 تحقیقی رپورٹس کےتجزیےسےدریافت کیا گیا کہ تعلیمی اداروں سےنکلنا اوسطاً دن بھرمیں جسمانی سرگرمیوں کےوقت میں 7منٹ روزانہ تک کمی کا باعث بنتا ہےاوریہ کمی خواتین کےمقابلےمیں مردوں میں زیادہ ہے (مردوں میں یہ دورانیہ 16 منٹ جبکہ خواتین میں 6.7 منٹ دریافت کیا گیا)۔
مزید تفصیلی تجزیےسےانکشاف ہوا کہ یہ تبدیلی اس وقت زیادہ بڑی ہوتی ہےجب لوگ یونیورسٹی کا رخ کرتےہیں جہاں ان کی جسمانی سرگرمیوں کے وقت میں اوسطاً 11.4 منٹ تک کمی آجاتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ بچےعموماً ایک ایسے ماحول میں ہوتےہیں جس میں انہیں صحت بخش غذا اورجسمانی طورپرسرگرم رہنےکی حوصلہ افزائی کی جاتی ہےمگر یونیورسٹی، ملازمت اوربچوں کی دیکھ بھال کا تناﺅرویوں میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے جو طویل المعیاد بنیادوں پرصحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت اہم وقت ہوتا ہے جب لوگ صحت مند یا نقصان دہ عادات کو اپنا کرانہیں بلوغت کی زندگی کا حصہ بناسکتے ہیں۔
دوسری تحقیق میں سائسندانوں نےیہ دیکھا کہ بچےکی پیدائش سےوالدین کے وزن، غذا اورجسمانی سرگرمیاں کس حد تک تبدیل ہوتی ہیں۔ نتائج سےمعلوم ہوا کہ بچے کی پیدائش پرماں کے جسمانی وزن میں اوسطاً 1.3 کلوگرام تک اضافہ ہوجاتا ہے مگر باپ کےوزن پراس سےکوئی اثرنہیں ہوتا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اولاد کےبعد والدین کی جسمانی سرگرمیوں کےدورانیےمیں نمایاں حد تک کمی آتی ہےکیونکہ وہ اپنی صحت کے بجائےبچوں پربہت زیادہ توجہ دینے لگتےہیں۔ محققین کےمطابق والدین کو جسمانی طورپرسرگرمیاں بڑھانےکےساتھ اپنی غذا پر توجہ دینی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button