آبنائے ہرمز تنازع، امریکہ۔ایران مفاہمت کیلئے سب سے بڑا امتحان کیوں؟

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی معاہدے اور مذاکراتی عمل نے اگرچہ خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا کی ہے، لیکن آبنائے ہرمز کا حساس تنازع دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑے اختلافی نکتے کی صورت میں اب بھی موجود ہے۔ امریکہ اور ایران کے مابین بحری گزرگاہ کی قانونی حیثیت، انتظامی اختیارات، ممکنہ ٹول یا سروس فیس اور بین الاقوامی جہاز رانی کے مستقبل سے متعلق اختلافات اب بھی برقرار ہیں، جس کے باعث خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر اس معاملے پر قابل قبول حل نہ نکالا گیا تو پوری مفاہمتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔
خیال رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آبی راستے پر پیدا ہونے والا ہر تنازع نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کو بھی براہِ راست متاثر کرتا ہے۔ تاہم حالیہ مفاہمتی معاہدے کے تحت ایران نے عمان اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامی طریقۂ کار پر مشاورت پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم معاہدے کے بعد دونوں جانب سے آنے والے بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اصل اختلافات اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں اور آئندہ ساٹھ روزہ عبوری مدت ان اختلافات کے حل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ خطے کے بدلتے ہوئے حالات کے بعد آبنائے ہرمز کے انتظامات کو ماضی کی پوزیشن پر واپس نہیں لے جایا جا سکتا، جبکہ امریکہ اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ اس بحری گزرگاہ کی بین الاقوامی قانونی حیثیت میں کسی قسم کی تبدیلی قبول نہیں کی جائے گی۔ اسی طرح ایران کی جانب سے مستقبل میں بحری جہازوں سے سروس فیس یا ٹول وصول کرنے کے امکانات کا بھی اظہار کیا گیا ہے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح طور پر مسترد کر چکے ہیں۔
ماہرین کے بقول اختلاف صرف آبنائے ہرمز تک محدود نہیں بلکہ ایران کے منجمد مالی اثاثے بھی مذاکرات کا اہم اور حساس حصہ ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران ان فنڈز کے استعمال کے حوالے سے مخصوص شرائط تسلیم کرے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے مالی وسائل کے استعمال میں کسی بیرونی پابندی یا شرط کو قبول نہیں کرے گا۔
خلیجی ممالک بھی اس معاملے پر محتاط سفارتی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان عمومی طور پر اس بات کے حامی ہیں کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ بین الاقوامی حیثیت برقرار رہے اور اس پر کسی ایک ملک کا مکمل کنٹرول نہ ہو۔ تاہم ہر ملک کی ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتی ہیں۔ متحدہ عرب امارات ایران کو مزید رعایتیں دینے کے حوالے سے نسبتاً سخت مؤقف رکھتا ہے کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اس سے خطے میں طاقت کا توازن ایران کے حق میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس قطر اور عمان سفارتی حل اور مذاکرات کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ بھی آبنائے ہرمز پر نئے ٹیکس یا ٹول کے نفاذ کے حامی نظر نہیں آتے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے لیے یہ معاملہ صرف جغرافیائی یا عسکری اہمیت نہیں رکھتا بلکہ اس کے ساتھ اہم معاشی پہلو بھی وابستہ ہیں۔ حالیہ کشیدگی اور فوجی تناؤ کے بعد ایران کو بڑے مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے باعث بعض مبصرین کا خیال ہے کہ تہران مستقبل میں آبنائے ہرمز کو ممکنہ آمدنی کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے بقول اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں میں پاکستان کی ثالثی اور سہولت کاری کا ذکر سامنے آ چکا ہے، جس کے باعث اسلام آباد مستقبل میں بھی دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ پاکستان خود بھی آبنائے ہرمز کی سلامتی سے براہِ راست وابستہ ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ کسی بھی قسم کی بندش، کشیدگی یا تجارتی رکاوٹ پاکستان سمیت خطے کے کئی ممالک کی معیشت اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی لیے پاکستان مسلسل اس مؤقف کی حمایت کرتا رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا، محفوظ اور بین الاقوامی تجارت کے لیے فعال رکھا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اور ایران آبنائے ہرمز کے حساس مسئلے پر کوئی قابلِ قبول درمیانی راستہ نکالنے میں کامیاب ہو سکیں گے یا یہی تنازع دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مفاہمتی عمل کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ بن جائے گا۔ اگر اختلافات برقرار رہے تو خطے میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی بڑھنے کا خدشہ موجود ہے، تاہم اگر سفارت کاری کامیاب رہی تو یہی تنازع مستقبل میں ایک بڑے علاقائی معاہدے اور دیرپا استحکام کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
