آزاد کشمیر مظاہروں میں شریک سرکاری ملازمین کو بھرپور رگڑا لگانے کا فیصلہ

حکومت نے آزاد کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے جاری دھرنے میں شریک سرکاری ملازمین کے خلاف شکنجہ کسنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جس کے تحت راولاکوٹ دھرنے میں شریل سرکاری ملازمین کے خلاف بڑے پیمانے پر محکمانہ کارروائی شروع کر دی ہے۔ معتبر سرکاری ذرائع کے مطابق کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے دھرنے میں مبینہ شرکت، معاونت یا سہولت کاری کے الزام میں متعدد سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برطرف کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن روکنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مزید ملازمین کے خلاف بھی کارروائی زیر غور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف محکموں سے تعلق رکھنے والے متعدد ملازمین کے خلاف محکمانہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد انہیں فوری طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر کیسز پر بھی کارروائی جاری ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں آزاد جموں و کشمیر ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن رولز 1977 کے تحت کی جا رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے ان ملازمین کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے جن پر کالعدم قرار دی گئی تنظیم کی سرگرمیوں میں براہِ راست شرکت، معاونت یا سہولت کاری کا الزام ہے۔ حکومتی دستاویزات کے مطابق ایسے سرکاری ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے تاکہ سرکاری ملازمت کے ضابطہ اخلاق اور نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔

حکومتی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کارروائی صرف ان افراد تک محدود نہیں رہے گی جن پر دھرنے میں شرکت کا الزام ہے بلکہ ایسے سرکاری ملازمین بھی تحقیقات کی زد میں ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ کالعدم قرار دی گئی تنظیم سے براہِ راست یا ٹیلی فونک رابطے میں رہے۔ ذرائع کے مطابق اگر ان الزامات کی تصدیق ہوئی تو مزید برطرفیوں اور محکمانہ کارروائیوں کا بھی امکان موجود ہے۔

دوسری جانب اس خبر کے حوالے سے متاثرہ ملازمین یا جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ کتنے ملازمین کو برطرف کیا گیا ہے، کتنے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن روکی گئی ہے اور ان کے خلاف عائد الزامات کے ثبوت کیا ہیں۔ اس لیے اس معاملے میں مزید سرکاری وضاحت یا عدالتی کارروائی کے بعد ہی مکمل تصویر سامنے آ سکے گی۔

واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ احتجاجی تحریک اور اس کے بعد ہونے والی حکومتی کارروائیوں پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں پہلے ہی بحث جاری ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق سرکاری ملازمین کے خلاف کسی بھی محکمانہ کارروائی میں قانون، شواہد اور صفائی کا پورا موقع فراہم کرنا بنیادی قانونی تقاضا ہے، تاکہ انصاف اور شفافیت کے اصول برقرار رہ سکیں۔

Back to top button