وفاقی وزارتوں میں اربوں روپے کی کرپشن بے نقاب، حقائق سامنے آ گئے

وفاقی وزارتوں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں، 19 کھرب روپے کے بیرونی قرضے اور ارکانِ پارلیمنٹ کی 75 ارب روپے کی ترقیاتی اسکیموں پر سنگین سوالات؛ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تازہ آڈٹ رپورٹ نے وفاقی حکومت کے مالی نظم و نسق، احتساب اور نگرانی کے نظام پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

399 صفحات پر مشتمل آڈٹ رپورٹ برائے مالی سال 2025-26 میں وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں اور خودمختار اداروں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں، غیر مجاز اخراجات، کمزور مالی نگرانی، عدم وصولیوں، غیر شفاف سرمایہ کاری، خریداری کے قواعد کی خلاف ورزیوں اور ناقص طرز حکمرانی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ آڈٹ اعتراضات ہائر ایجوکیشن کمیشن، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، وزارت قومی غذائی تحفظ، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، وزارت قومی صحت اور تعلیم ڈویژن کے خلاف سامنے آئے۔

رپورٹ کا ایک اہم ترین انکشاف کابینہ ڈویژن سے متعلق ہے، جہاں پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام، جسے ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کے نام سے جانا جاتا ہے، کے تحت مختص 75 ارب روپے کے استعمال پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈیٹر جنرل کے مطابق کابینہ ڈویژن منصوبوں پر عمل درآمد کرنے والے اداروں سے لازمی ماہانہ پیش رفت رپورٹس اور تکمیل کے سرٹیفکیٹس حاصل کرنے میں ناکام رہا، جبکہ منصوبوں کی تفصیلات اور علاقائی بنیادوں پر ریکارڈ موجود نہ ہونے کے باعث یہ تصدیق بھی ممکن نہ ہو سکی کہ فنڈز واقعی متوازن علاقائی ترقی کے مقصد کے مطابق خرچ کیے گئے یا نہیں۔ رپورٹ کے مطابق متعدد آڈٹ اعتراضات کے باوجود کابینہ ڈویژن نے کوئی مؤثر جواب بھی فراہم نہیں کیا۔ آڈیٹر جنرل نے سفارش کی ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کی نگرانی کے لیے ایک مرکزی ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم قائم کیا جائے تاکہ فنڈز کی تقسیم، پیش رفت اور تکمیل کی شفاف نگرانی ممکن ہو سکے۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ توشہ خانہ ایکٹ 2024 نافذ ہونے کے باوجود اس پر عمل درآمد کے قواعد و ضوابط اب تک مرتب نہیں کیے جا سکے۔

اقتصادی امور ڈویژن کے حوالے سے رپورٹ میں سب سے بڑی مالی بے ضابطگیوں میں سے ایک کا ذکر کیا گیا ہے۔ آڈیٹر جنرل کے مطابق 30 جون 2025 تک بیرونی ری لینٹ قرضوں کے اصل زر، سود اور ایکسچینج رسک واجبات کی مد میں ایک اعشاریہ نو دو سات کھرب روپے مختلف سرکاری اداروں سے وصول نہیں کیے جا سکے، جبکہ متعلقہ انتظامیہ نے اس معاملے پر بھی آڈٹ اعتراضات کا کوئی جواب نہیں دیا۔

تعلیم کے شعبے میں قائداعظم یونیورسٹی سے متعلق کئی اہم بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ رپورٹ کے مطابق سی ڈی اے کی جانب سے یونیورسٹی کو دی گئی 1709 ایکڑ اراضی میں سے 298 ایکڑ پر تقریباً پچاس برس سے نجی افراد قابض ہیں لیکن انتظامیہ اسے واگزار کرانے میں ناکام رہی۔ یونیورسٹی نے 177 ملین روپے انکم ٹیکس بھی سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرایا، اگرچہ بعد میں 83 ملین روپے جمع کرانے کی اطلاع دی گئی۔ اس کے علاوہ 356 ملین روپے کے اسکالرشپ فنڈز خرچ کرنے کے بجائے سرمایہ کاری کر دی گئی جبکہ مختلف مراکز نے بغیر منظور شدہ پالیسی کے 281 ملین روپے کی سرمایہ کاری بھی کی۔ لاہور کے سینٹر آف ایکسی لینس اِن مالیکیولر بائیولوجی نے مالی سال کے اختتام پر غیر استعمال شدہ 500 ملین روپے حکومت کو واپس کرنے کے بجائے سرمایہ کاری کر دی۔

اطلاعات ڈویژن کے ماتحت پیمرا کے حوالے سے 87 ملین روپے کی فیسوں اور جرمانوں کی عدم وصولی کی نشاندہی کی گئی، جبکہ انسداد منشیات فورس میں دو ہیلی کاپٹروں کی ایک اعشاریہ دو ارب روپے مالیت کی اوورہالنگ کھلی مسابقت کے بغیر کرائے جانے پر تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔

وزارت بحری امور کے ماتحت کراچی ڈاک لیبر بورڈ میں بھی سنگین مالی بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ رپورٹ کے مطابق 433 ملین روپے سیس وصول نہیں کیا گیا، ادارہ ایک اعشاریہ نو ارب روپے کے مسلسل خسارے کا شکار رہا، 343 ملین روپے کے بے ضابطہ بونس ادا کیے گئے جبکہ اسپتالوں اور لیبارٹریوں کے غیر شفاف انتخاب کے ذریعے 620 ملین روپے کی ادائیگیاں بھی کی گئیں۔

نیب کے خلاف بھی 324 ملین روپے کے آڈٹ اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 277 ملین روپے ریکوری اینڈ ریوارڈ فنڈ کے بجائے عام بجٹ سے خرچ کیے گئے جبکہ 46 ملین روپے کی وصولیاں قومی خزانے میں جمع نہیں کرائی گئیں۔ تاہم نیب نے ان اعتراضات کو تسلیم نہیں کیا۔

وزارت قومی غذائی تحفظ کے خلاف کپاس کی جانچ کی فیس کی مد میں ایک اعشاریہ نو ارب روپے کی عدم وصولی، ہوائی جہاز کے اسپیئر پارٹس پر 193 ملین روپے کے غیر ضروری اخراجات، کنٹریکٹ ملازمین کی غیر شفاف بھرتیوں پر 355 ملین روپے کے اخراجات، چار اعشاریہ چار ارب روپے کی وصولیوں میں عدم مطابقت اور 2020 میں تباہ ہونے والے پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کے طیارے کی تحقیقات پانچ سال گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہونے جیسے اہم اعتراضات شامل ہیں۔ مزید یہ کہ رجسٹریشن سے خارج کیے گئے 15 طیاروں کی بروقت نیلامی نہ ہونے سے بھی قومی خزانے کو 42 ملین روپے سے زائد کا نقصان پہنچا۔

وزارت قومی صحت کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ وفاقی کابینہ کے فیصلے پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ایک اعشاریہ ایک ارب روپے کی ویکسین مہنگے داموں خریدی گئیں، پولی کلینک اسپتال اسلام آباد میں 508 ملین روپے کی ادویات کی بے ضابطہ خریداری ہوئی جبکہ شیخ زید میڈیکل کمپلیکس لاہور میں کنسلٹنٹس کے حصے کے نام پر 28 ملین روپے کی جعلی ادائیگی بھی سامنے آئی۔

قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن میں قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے 681 ملین روپے کی غیر مجاز سرمایہ کاری، نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کی وزارت خزانہ کی منظوری کے بغیر 865 ملین روپے کی سرمایہ کاری، پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کی عمارت کے سلسلے میں سی ڈی اے سے 27 ملین روپے کی عدم وصولی اور اقبال اکیڈمی پاکستان سے 145 ملین روپے کے یوٹیلٹی چارجز وصول نہ کیے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے بارے میں رپورٹ میں بتایا گیا کہ چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ میں واٹر ڈسپوزل فنڈ کے دو اعشاریہ آٹھ ارب روپے استعمال ہی نہیں کیے گئے، 61 ملین روپے کی اسپاٹ خریداری کی گئی جبکہ 936 ملین روپے کی پیشگی ادائیگیوں کی ایڈجسٹمنٹ بھی نہیں ہو سکی۔

وزارت مذہبی امور سے متعلق رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ 45 ارب روپے سے متعلق آڈٹ شدہ گوشوارے اور ایڈجسٹمنٹ اکاؤنٹس دستیاب نہیں تھے، جس سے اخراجات کی شفافیت اور احتساب پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ماتحت پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی میں تاخیر سے ادائیگی پر سرچارج وصول نہ کرنے سے 59 ارب روپے کا نقصان ہوا، ایک اعشاریہ سات ارب روپے وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں جمع نہیں کرائے گئے، سات اعشاریہ تین ارب روپے کی سرمایہ کاری مدت پوری ہونے کے باوجود واپس نہیں لی گئی جبکہ تقریباً تین ارب روپے کے بیلنس کے ساتھ 45 غیر مجاز بینک اکاؤنٹس بھی برقرار رکھے گئے۔

ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان میں کراچی ایکسپو سینٹر کی 513 ملین روپے کی آمدن کمرشل بینکوں میں رکھنے، ایک اعشاریہ 56 ارب روپے کی واجبات، بین الاقوامی نمائشوں پر ایک اعشاریہ دو ارب روپے کے زائد اخراجات، پرتگال میں منعقدہ نمائش میں شرکت نہ ہونے کے باوجود غیر ضروری ادائیگیاں اور ایکسپو سینٹر کی قیمتی اراضی واگزار نہ کرانے جیسے اعتراضات بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ مجموعی طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وفاقی حکومت کے متعدد اداروں میں مالی نظم و نسق، نگرانی، شفافیت اور احتساب کا نظام شدید کمزوریوں کا شکار ہے۔ کئی اداروں نے آڈٹ اعتراضات کا جواب ہی نہیں دیا جبکہ بعض نے اپنے اقدامات کا دفاع کیا، تاہم رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنانے، ریکارڈ کی شفافیت یقینی بنانے، غیر مجاز سرمایہ کاری اور اخراجات روکنے اور مؤثر احتساب کے لیے فوری اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

Back to top button