امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی خطرے میں کیوں پڑ گئی؟

امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر فوجی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف نئی فوجی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے، جس کے باعث حال ہی میں قائم ہونے والی نازک جنگ بندی شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی اور بحری جہاز رانی سے متعلق جاری سفارتی مذاکرات بھی خطرے میں پڑ گئے ہیں۔

ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خطے میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایران کے خلاف ہونے والے تازہ امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی، تاہم پاسداران انقلاب نے ان امریکی اہداف کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ اس سے قبل پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ ایران کا جواب "تیز، فیصلہ کن اور اپنی مرضی کے مقام پر” دیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی فوج نے جمعہ کو ایران کے مختلف فوجی اہداف پر فضائی حملے کیے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ان حملوں میں ایرانی میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں کے علاوہ ساحلی ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک روز قبل عمان کے قریب سنگاپور کے پرچم بردار کارگو جہاز ایور لولی پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی۔ یہ جہاز اقوام متحدہ کی حمایت سے قائم عارضی بحری راہداری کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ ایران کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے نہ صرف عالمی بحری سلامتی بلکہ بین الاقوامی تجارت کے لیے اہم سمندری راستوں کی آزادی بھی متاثر ہوئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کارگو جہاز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز پر چار ڈرون حملے کیے، جن میں سے ایک ڈرون جہاز کے اوپری حصے سے ٹکرایا جبکہ تین دیگر ڈرونز کو امریکی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ” پر لکھا کہ ایران کی یہ کارروائی جنگ بندی معاہدے کی "احمقانہ خلاف ورزی” ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ جہاز کو نقصان پہنچا، تاہم وہ اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔

صدر ٹرمپ کے بیان کے چند گھنٹوں بعد امریکہ نے ایران میں مزید فضائی حملے کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ادھر ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے بعد جنوبی ایران کے علاقے سیرک میں بھی ایک پروجیکٹائل حملہ ہوا، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

یاد رہے کہ تائیوان کی شپنگ کمپنی ایورگرین میرین نے تصدیق کی تھی کہ اس کا سنگاپور کے پرچم بردار کارگو جہاز ایور لولی جمعرات کو عمان کے قریب برطانوی بحریہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کی تجویز کردہ راہداری پر سفر کے دوران ایک "نامعلوم شے” سے متاثر ہوا تھا۔ کمپنی کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور جہاز بعد ازاں محفوظ طریقے سے اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔

خیال رہے کہ یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران گزشتہ ہفتے طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت مستقل جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں مصروف تھے۔ مبصرین کے مطابق حالیہ فوجی کارروائیوں نے ان سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

دوسری جانب ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بطور ساحلی ریاست اسے اس اہم آبی گزرگاہ میں اپنے حقوق کے تحفظ کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ ایران نے امریکہ اور چھ خلیجی ممالک کے مشترکہ بیان کو بھی مسترد کر دیا، جس میں تہران کے اس مؤقف کو رد کیا گیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول یا فیس عائد کر سکتا ہے۔ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر کہا کہ ایسے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی جو ایران کو ساحلی ریاست کے طور پر نظر انداز کرتے ہوئے یا غیر متفقہ بحری انتظامات کے تحت سفر کریں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف جنگ بندی خطرے میں پڑ سکتی ہے بلکہ آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل اور مشرق وسطیٰ کے مجموعی امن و استحکام پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Back to top button