امریکی حملوں کے بعد بحرین اور کویت، ایران کے نشانے پر

ایران نے امریکی فضائی کارروائیوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں قائم امریکی فوجی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کر دئیے جس کے بعد خطے میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی بحریہ اور ایرو اسپیس فورس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ بیان کے مطابق یہ حملے ایران پر حالیہ امریکی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے۔ پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ امریکی حملے جنگ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر ایک کی خلاف ورزی ہیں، اس لیے ایران نے جوابی کارروائی کی۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر مزید جارحیت کی گئی تو ایران اس سے بھی زیادہ سخت اور فیصلہ کن ردعمل دے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اس سے قبل امریکی جنگی طیاروں نے خلیج فارس میں واقع جزیرہ سیرک کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم ایرانی فضائی دفاع نے کارروائی کرتے ہوئے انہیں پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
دوسری جانب بحرین کی وزارت داخلہ نے ملک میں خطرے کے سائرن بجنے کی تصدیق کی ہے، تاہم حملوں کی نوعیت یا ممکنہ نقصانات کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
کویت کی مسلح افواج کے مطابق فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے اور ممکنہ میزائل و ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ حکام نے شہریوں کو سرکاری حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
ادھر عراق کے دارالحکومت بغداد کے گرین زون میں بھی غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق خصوصی فورسز، بکتر بند گاڑیاں اور ٹینک تعینات کر دیے گئے ہیں جبکہ گرین زون کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
دریں اثنا ایک امریکی عہدیدار نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ایران کے حملوں کے باوجود اب تک کسی امریکی فوجی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی امریکی فوجی تنصیبات کو کسی بڑے نقصان کی تصدیق ہوئی ہے۔امریکی حکام کے مطابق صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ بحرین اور کویت میں تعینات امریکی افواج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے امریکی دعووں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔
