حکومتی اداروں میں مزید 324ارب روپے کی مالی بے قاعدگیاں پکڑی گئیں

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مالی سال 2025-26 کی تازہ آڈٹ رپورٹ میں 324 ارب روپے سے زائد کی نئی مالی بے ضابطگیوں کے انکشاف نےحکومتی نااہلی کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں 242 ارب روپے کے ٹیکس نقصانات اور مالی بے ضابطگیوں جبکہ پیٹرولیم ڈویژن میں 82.46 ارب روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں اور عدم وصولیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کے 193 فیلڈ دفاتر کے آڈٹ کے دوران انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کسٹمز اور اخراجات سے متعلق متعدد بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ آڈیٹر جنرل نے خبردار کیا کہ یہ نتائج صرف منتخب دفاتر کے آڈٹ پر مبنی ہیں، اس لیے ملک بھر میں ٹیکس نقصانات اور انتظامی خامیوں کی اصل سطح اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق ٹیکس کی عدم وصولی، کم تخمینے، ناقابل قبول ٹیکس کریڈٹس، غلط ٹیکس استثنیٰ، کسٹمز میں اشیا کی غلط درجہ بندی، کم مالیت ظاہر کرنا، کمزور نفاذ اور داخلی کنٹرول کے ناقص نظام ان بے ضابطگیوں کی بنیادی وجوہات ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تین فیلڈ دفاتر نے ناقابل قبول ڈیپریسی ایشن کی اجازت دے کر 4 ارب روپے کی کم وصولی کی، جبکہ چھ دفاتر نے اخراجات کی درست تقسیم نہ ہونے کے باعث 2 ارب روپے کے ٹیکس کی وصولی نہیں کی۔
سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے شعبے میں 12 فیلڈ دفاتر نے معطل یا بلیک لسٹ ٹیکس دہندگان کی جانب سے جاری کردہ انوائسز پر 42 ارب روپے کے ناقابل قبول ان پٹ ٹیکس کریڈٹس کی نگرانی نہیں کی۔ کسٹمز میں 33 فیلڈ دفاتر کے آڈٹ کے دوران 9,831 کیسز میں اشیا کی غلط درجہ بندی اور کم مالیت ظاہر کرنے سے 3.563 ارب روپے کی کم وصولی سامنے آئی۔ اس کے علاوہ 700 ملین روپے کی غیر قانونی رعایتیں دی گئیں جبکہ گوداموں سے تاخیر سے سامان نکالنے پر 809 ملین روپے کا سرچارج بھی وصول نہیں کیا گیا۔
آڈیٹر جنرل نے یہ بھی انکشاف کیا کہ 22 فیلڈ دفاتر میں 3,231 کیسز کے تحت تقریباً 13 ارب روپے مالیت کا ضبط شدہ سامان اور گاڑیاں تاحال نیلام یا ٹھکانے نہیں لگائی جا سکیں، جو نفاذ اور اثاثہ جاتی انتظام میں سنگین کمزوریوں کی عکاسی کرتا ہے۔ مزید برآں چار دفاتر میں 21 ملین روپے کے غیر مجاز نقد انعامات بھی ادا کیے گئے۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ داخلی کنٹرول کو مضبوط بنایا جائے، بروقت داخلی آڈٹ مکمل کیے جائیں، ٹیکس وصولیوں کی نگرانی مؤثر بنائی جائے اور مستقبل میں ایسی بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب ایف بی آر نے رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں شامل بیشتر معاملات پہلے ہی ڈپارٹمنٹل اکاؤنٹس کمیٹی (DAC) اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (PAC) میں زیر بحث آ چکے ہیں، جن میں سے اکثر نمٹا دیے گئے ہیں یا عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ایف بی آر کے مطابق انکم ٹیکس گوشوارے خود تشخیصی نظام کے تحت جمع ہوتے ہیں اور قانون ادارے کو پانچ سال کے اندر کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں کارروائی کا اختیار دیتا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ آڈیٹر جنرل اور ایف بی آر ریاستی محصولات کے تحفظ کے لیے ایک زیادہ مؤثر اور قابل قبول آڈٹ فریم ورک پر مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
پیٹرولیم ڈویژن سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں بھی سنگین مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن کی مجموعی مالیت 82.46 ارب روپے سے تجاوز کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے بڑا نقصان گیس کے غیر حساب شدہ نقصانات (Unaccounted For Gas – UFG) کی صورت میں ہوا، جہاں سوئی ناردرن گیس اور سوئی سدرن گیس کمپنی کو اوگرا کی مقررہ حد سے کہیں زیادہ نقصانات برداشت کرنا پڑے، جس کا مالی اثر 39.427 ارب روپے رہا۔
رپورٹ کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنیوں سے ویل ہیڈ ویلیو کا 15 فیصد حصہ، قدرتی گیس اور خام تیل پر لیٹ پیمنٹ سرچارج اور رائلٹی وصول کرنے میں ناکام رہا، جس سے 14.058 ارب روپے کی وصولیاں متاثر ہوئیں۔ اس کے علاوہ 5.043 ارب روپے کی غیر ٹیکس وصولیاں بھی وصول نہ کی جا سکیں۔
آڈٹ میں مزید بتایا گیا کہ او جی ڈی سی ایل، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ، سوئی ناردرن، سوئی سدرن اور پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے بے نظیر ایمپلائز اسٹاک آپشن اسکیم کے فنڈز اور 3.233 ارب روپے کے غیر دعویٰ شدہ منافع کو سرکاری خزانے میں جمع نہیں کرایا۔
رپورٹ میں او جی ڈی سی ایل کی متعدد خلاف ورزیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں ایل پی جی پالیسی 2016 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 5.193 ارب روپے کا غیر مجاز سگنیچر بونس وصول کرنا، ایک کنٹریکٹر کو 3.805 ارب روپے کے وصول شدہ ہرجانے کی واپسی اور 347.935 ملین روپے کی خریداری اوپن ٹینڈر کے بغیر جعلی بینک گارنٹیوں پر کرنا شامل ہے۔
اسی طرح پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کو غیر مسابقتی اور مدت ختم ہونے والے معاہدوں کے تحت کوئلے کی کانوں کا کام جاری رکھنے کے باعث تقریباً 4.664 ارب روپے کا مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
آڈیٹر جنرل نے مجموعی طور پر اس صورتحال کی ذمہ داری کمزور داخلی کنٹرول، ناقص نگرانی، قواعد و ضوابط پر عملدرآمد میں کمی اور مالیاتی گورننس کی خامیوں کو قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں میں فوری اصلاحات کی سفارش کی ہے۔
