امریکی اور ایرانی حملوں کے بعد عالمی امن دوبارہ خطرے میں

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی ایک بار پھر شدید خطرات سے دوچار ہو گئی ہے کیونکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف تازہ فوجی کارروائیاں کرتے ہوئے سخت بیانات جاری کیے ہیں۔ تازہ پیش رفت نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو نئی سطح پر پہنچا دیا ہے بلکہ مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ اور مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خطے میں امریکی فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایران پر ہونے والے تازہ امریکی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئی، تاہم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر حملوں کی تفصیلات اور اہداف کے مقامات ظاہر نہیں کیے گئے۔ اس سے قبل پاسداران انقلاب نے خبردار کیا تھا کہ ایران کا ردعمل "تیز، فیصلہ کن اور اپنی مرضی کے مقام پر” ہوگا۔
دوسری جانب امریکی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے جنوبی ایران میں متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق حملوں میں ایرانی میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں، ساحلی ریڈار نظام اور بعض فوجی کمانڈ مراکز کو ہدف بنایا گیا۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی عمان کے قریب سنگاپور کے پرچم بردار کارگو جہاز پر ایرانی ڈرون حملے کے جواب میں کی گئی۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارگو جہاز اقوام متحدہ کی حمایت سے قائم عارضی بحری راہداری کے ذریعے آبنائے ہرمز سے گزر رہا تھا، جہاں اس پر چار ڈرون حملے کیے گئے۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ امریکی دفاعی نظام نے تین ڈرون مار گرائے جبکہ ایک ڈرون جہاز سے ٹکرا گیا، جس سے اسے جزوی نقصان پہنچا تاہم جہاز اپنا سفر جاری رکھنے میں کامیاب رہا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اس واقعے کو جنگ بندی کی احمقانہ اور ناقابل قبول خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر لکھا کہ ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین اور جنگ بندی دونوں کی خلاف ورزی ہے، جس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کے بیان کے چند گھنٹوں بعد امریکی حکام نے ایران کے خلاف مزید فضائی کارروائیوں کی تصدیق کی، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ جنوبی ایران کے علاقے سیرک میں بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور ایک پروجیکٹائل حملہ ہوا، تاہم ایرانی حکام نے نقصانات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔

دوسری جانب تائیوان کی ایک شپنگ کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ اس کا سنگاپور کے پرچم بردار جہاز "ایور لولی” عمان کے قریب ایک نامعلوم حملے سے متاثر ہوا تھا۔ کمپنی کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، جہاز کا عملہ محفوظ رہا اور جہاز بعد ازاں اپنے مقررہ راستے پر روانہ ہوگیا۔ سفارتی حلقوں کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران گزشتہ ہفتے طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت مستقل جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور بحری سلامتی سے متعلق مذاکرات جاری رکھے ہوئے تھے۔ تازہ فوجی کارروائیوں نے ان مذاکرات کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ادھر ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز میں اپنے قانونی اور جغرافیائی حقوق پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ بطور ساحلی ریاست اسے اس اہم آبی گزرگاہ میں اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ تہران نے امریکہ اور خلیجی ممالک کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے جس میں ایران کی جانب سے جہاز رانی کے لیے کسی بھی قسم کی فیس یا شرائط عائد کرنے کی مخالفت کی گئی تھی۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر کہا کہ ایسے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کی ضمانت نہیں دی جا سکتی جو ایران کے جائز ساحلی حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر متفقہ بحری انتظامات کے تحت سفر کریں۔ ان کے بیان کو خطے میں جاری سفارتی کشیدگی میں مزید اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ادھر بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق عمان، قطر اور بعض یورپی ممالک پس پردہ سفارتی رابطوں کے ذریعے دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ حالیہ جنگ بندی مکمل طور پر ختم نہ ہو اور کشیدگی ایک نئی علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکی جا سکے۔ تاہم دونوں جانب سے سخت مؤقف اختیار کیے جانے کے باعث ان کوششوں کو فوری کامیابی ملتی دکھائی نہیں دے رہی۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان بدستور برقرار ہے۔ اگر تجارتی جہازوں، امریکی فوجی اڈوں یا ایرانی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو محدود فوجی کارروائیاں وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہیں، جس میں خطے کے دیگر ممالک بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

عالمی معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں عدم استحکام عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے تشویشناک ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور مائع قدرتی گیس اسی آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔ کسی بھی بڑی فوجی کشیدگی کی صورت میں عالمی تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی، بحری انشورنس کے اخراجات میں اضافہ اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ امریکہ اور ایران دونوں کھلی اور طویل جنگ سے گریز کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں، تاہم حالیہ جوابی حملوں، سخت بیانات اور آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں نے جنگ بندی کو انتہائی نازک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے چند روز اس بات کا تعین کریں گے کہ فریقین دوبارہ سفارتی راستہ اختیار کرتے ہیں یا مشرق وسطیٰ ایک نئے اور زیادہ خطرناک بحران کی طرف بڑھ جاتا ہے۔

Back to top button