کیا واقعی سپیکر پنجاب اسمبلی کی چھٹی ہونے والی ہے؟

سپیکرپنجاب اسمبلی ملک احمد خان کے خلاف گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر جاری مہم نے سیاسی حلقوں میں مختلف سوالات کو جنم دیا ہے۔ بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ سپیکر اور پنجاب حکومت کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں، بعض وزرا ان سے ناراض ہیں اور انہیں عہدے سے ہٹانے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔ تاہم حکومتی ذرائع ان تمام دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی کی حکومت سے اختلافات کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ یہ تاثر ایک منظم سوشل میڈیا مہم کے ذریعے پیدا کیا جا رہا ہے، جس کے پیچھے بنیادی کردار تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس اور وی لاگرز کا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسمبلی اجلاسوں کے دوران سپیکر ملک احمد خان نے متعدد مواقع پر پارلیمانی قواعد و ضوابط کے مطابق وزرا کو سخت انداز میں ہدایات اور تنبیہ کی۔ ان واقعات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا اور یوں تاثر دیا گیا کہ سپیکر اور کابینہ کے درمیان شدید کشیدگی موجود ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسمبلی کی کارروائی کے دوران سپیکر کی جانب سے قواعد کی پاسداری کرانا ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے، جسے سیاسی تنازع بنا دیا گیا۔
سوشل میڈیا پر خاص طور پر یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری، وزیر بلدیات اور وزیر مواصلات سپیکر کے رویے سے ناخوش ہیں۔ اگرچہ بعض وزرا نے نجی سطح پر سپیکر کے سخت لہجے پر تحفظات کا اظہار کیا، تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ حکومت سپیکر کو ہٹانے یا ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے پر غور کر رہی ہے۔
دوسری جانب حکومت کے بعض ارکان کی جانب سے یہ شکایت ضرور سامنے آئی کہ سپیکر اپوزیشن کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم اسمبلی ذرائع یاد دلاتے ہیں کہ بجٹ اجلاس سے قبل حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بزنس ایڈوائزری کمیٹی میں باقاعدہ اتفاق رائے ہوا تھا کہ دونوں جماعتوں کی قیادت کے پورٹریٹ ایوان میں آویزاں کیے جائیں گے اور اجلاس کے دوران کسی بھی سیاسی رہنما کے خلاف نعرے بازی نہیں ہوگی۔ اسی اتفاق رائے کے تحت بجٹ اجلاس میں غیر معمولی تحمل اور برداشت کا مظاہرہ بھی دیکھنے میں آیا۔
اسی دوران اپوزیشن لیڈر معین قریشی نے مطالبہ کیا کہ جس طرح وزیر خزانہ کی تقریر کے دوران مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی تصاویر براہ راست نشریات میں دکھائی گئیں، اسی طرح اپوزیشن کی تقریروں کے دوران بھی ان کی قیادت کی تصاویر بغیر کسی ایڈیٹنگ کے نشر کی جائیں۔ ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال نے اس مطالبے پر یقین دہانی کرائی، جس کے بعد اپوزیشن کو بھی اپنی قیادت کی تصاویر براہ راست نشریات میں دکھانے کا موقع ملا۔ بعد ازاں جب بعض حکومتی ارکان نے تصاویر ہٹانے کا مطالبہ کیا تو بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے پہلے سے موجود فیصلے کی وجہ سے یہ مطالبہ قبول نہ کیا جا سکا۔
اسی عرصے میں ایک اور تاثر یہ بھی دیا گیا کہ سپیکر اسمبلی کی کارروائی سے احتجاجاً الگ ہو گئے ہیں، حالانکہ اسمبلی ذرائع کے مطابق ایسا کوئی معاملہ پیش نہیں آیا تھا اور اس نوعیت کی خبریں محض قیاس آرائیوں پر مبنی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سپیکر کے خلاف مہم اس وقت مزید تیز ہوئی جب انہوں نے بعض اداروں اور سرکاری حکام سے متعلق پارلیمانی روایات کے مطابق سخت مؤقف اختیار کیا۔ سپیکر نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ اگر کسی نے انہیں پارلیمانی امور میں ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کی تو وہ پارلیمانی روایات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ایسی صورت میں کرسی پر بیٹھنے کے بجائے مستعفی ہونا بہتر سمجھیں گے۔
اسی طرح وزیر بلدیات کی جانب سے جب یہ تجویز دی گئی کہ اسمبلی اراکین کو وزیر کے دفتر کا دورہ کرایا جائے تو سپیکر نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ حکومت کو جوابدہ بناتی ہے، حکومت پارلیمنٹ کو نہیں۔ ان کے مطابق اگر کسی معاملے پر وضاحت درکار ہوگی تو وزیر کو اسمبلی میں طلب کیا جائے گا، نہ کہ منتخب نمائندے وزرا کے دفاتر کے چکر لگائیں۔ انہوں نے وزرا کو قواعد و ضوابط کا مطالعہ کرنے کا بھی مشورہ دیا۔
وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی تقریر کے دوران بھی ایک دلچسپ مکالمہ سامنے آیا، جب انہوں نے کہا کہ خوشی ہے ان کی تقریر کے دوران سپیکر خود چیئر پر موجود ہیں۔ اس پر سپیکر نے جواب دیا کہ وہ ایوان میں صرف کارروائی نہیں چلاتے بلکہ قواعد و ضوابط کا سبق بھی پڑھاتے ہیں۔ اسی طرح وزیر مواصلات صہیب بھرت کو بھی قواعد کے مطابق ہدایات دی گئیں، جنہیں بعد میں سوشل میڈیا پر اختلافات کی علامت بنا کر پیش کیا گیا۔
حکومتی ذرائع کا مؤقف ہے کہ ان تمام واقعات کو جوڑ کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا گیا جس سے یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب، کابینہ اور سپیکر کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں۔ تاہم ذرائع اس تاثر کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نہ سپیکر کو ہٹانے کی کوئی تجویز زیر غور ہے اور نہ ہی حکومت اور اسمبلی کی قیادت کے درمیان ایسا کوئی بحران موجود ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ دور میں اسمبلی کے اندر ہونے والے معمول کے انتظامی اور پارلیمانی فیصلے بھی چند لمحوں میں سوشل میڈیا پر سیاسی بیانیے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قواعد کے تحت دی جانے والی معمول کی تنبیہ بھی بعض اوقات ایک بڑے سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر لیتی ہے، جبکہ زمینی حقائق اس سے خاصے مختلف ہوتے ہیں۔
