پیٹرول سستا، سولر پر ٹیکس برقرار: عوام کو کتنا ریلیف ملے گا؟

ملکی معیشت اور توانائی کے شعبے میں حالیہ دنوں دو اہم فیصلوں نے عوام، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ایک طرف حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے، جبکہ دوسری جانب بجٹ میں سولر پینلز پر نئے ٹیکس عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان دونوں فیصلوں پر مؤثر انداز میں عملدرآمد ہوا تو نہ صرف مہنگائی کی رفتار سست ہو سکتی ہے بلکہ صنعتی سرگرمیوں، متبادل توانائی کے فروغ اور عوامی ریلیف پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

خیال رہے کہ بجٹ سے قبل سولر پینلز پر ممکنہ ٹیکس کی خبروں نے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی تھی، جس کے باعث قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تاہم حکومت کی جانب سے اضافی ٹیکس نہ لگانے کے اعلان کے بعد مارکیٹ میں قیمتیں دوبارہ نیچے آنا شروع ہو گئی ہیں، جس سے صارفین اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی بہتری آئی ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیٹرول سستا ہونے سے مہنگائی پر کیا اثر پڑے گا؟

معاشی ماہر شہباز رانا کے مطابق اس وقت ملک میں مہنگائی کی شرح تقریباً 11 فیصد کے قریب ہے، تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ کمی سے مہنگائی میں اضافے کی رفتار کم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق پیٹرول کی قیمت صرف گاڑی چلانے کے اخراجات تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کا اثر پوری سپلائی چین پر پڑتا ہے۔ جب ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہوتے ہیں تو سبزیوں، پھلوں، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل بھی نسبتاً کم لاگت پر ممکن ہوتی ہے، جس سے بالآخر صارفین کو بھی ریلیف مل سکتا ہے۔شہباز رانا کا کہنا ہے کہ اصل فائدہ اسی وقت ہوگا جب قیمتوں میں کمی کا اثر براہ راست عام صارف تک منتقل کیا جائے۔ ان کے مطابق حکومت کو ایسی مستقل پالیسی اپنانا ہوگی جس میں ریلیف اور حکومتی محصولات کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں حکومت کو پیٹرولیم لیوی بڑھا کر اس ریلیف کو غیر مؤثر نہیں بنانا چاہیے بلکہ لیوی کی ایک واضح حد مقرر کی جانی چاہیے تاکہ مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا نہ ہو۔ ایسے میں یہ سوال بھی بڑا اہم ہے کہ ان دونوں فیصلوں سے صنعت کو کتنا فائدہ ہوگا؟

صنعتی شعبے سے وابستہ محمد وسیم ملک کے مطابق ایندھن سستا ہونے سے صنعتی پیداوار کی لاگت میں براہ راست کمی آ سکتی ہے کیونکہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کسی بھی صنعت کے بنیادی اخراجات میں شامل ہوتے ہیں۔ان کے مطابق جب خام مال اور تیار مصنوعات کی ترسیل کم لاگت پر ہوگی تو صنعتوں کی مجموعی پیداواری لاگت بھی کم ہوگی، جس سے نہ صرف مقامی صنعت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ پاکستانی برآمدات بھی عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی ہو سکیں گی۔انہوں نے کہا کہ اس کے اثرات صرف صنعتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سپلائی چین کے ذریعے صارفین تک بھی منتقل ہو سکتے ہیں، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں کچھ حد تک کمی آنے کا امکان ہے۔

عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ سولر پینلز پر ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ کیوں اہم ہے؟ محمد وسیم ملک کے مطابق حکومت کا سولر سسٹمز پر نیا ٹیکس عائد نہ کرنے کا فیصلہ صنعتی شعبے کے لیے بھی خوش آئند ہے۔ ان کے بقول صنعتوں کی بڑی تعداد پہلے ہی بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں سے بچنے کے لیے سولر توانائی کی جانب منتقل ہو چکی ہے، جس سے ان کا روایتی ایندھن پر انحصار کم ہوا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر مزید صنعتیں بھی متبادل توانائی اختیار کرتی ہیں تو نہ صرف ان کے بجلی کے اخراجات کم ہوں گے بلکہ ملکی صنعتی مسابقت میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس فیصلے سے وہ صنعتیں بھی فائدہ اٹھا سکیں گی جو مستقبل میں سولر سسٹمز نصب کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ ایسے میں یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ کیا سولر مارکیٹ تیزی سے ترقی کرے گی؟ سولر توانائی کے ماہر شرجیل احمد سلہری کے مطابق حکومت کی جانب سے اضافی ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ یقیناً مارکیٹ اور صارفین دونوں کے لیے مثبت خبر ہے۔ ان کے مطابق بجٹ سے پہلے ٹیکس کی خبروں نے غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی تھی، لیکن بجٹ کے بعد مارکیٹ میں استحکام آیا ہے اور خریداروں کا اعتماد بھی بحال ہونا شروع ہوا ہے۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ صرف ٹیکس نہ لگانے سے سولر مارکیٹ میں غیر معمولی تیزی آنا ضروری نہیں۔ موجودہ مہنگائی، عوام کی محدود قوت خرید اور گھریلو بچت میں کمی جیسے عوامل اب بھی مارکیٹ کی رفتار کو محدود کر سکتے ہیں۔انہوں نے نشاندہی کی کہ اگرچہ سولر پینلز پر نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، لیکن خام مال، انورٹرز، بیٹریوں اور دیگر متعلقہ آلات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت اب بھی دباؤ کا شکار ہے۔

شرجیل احمد سلہری کے مطابق سولر توانائی کے شعبے کو درپیش سب سے اہم مسئلہ نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی جانب منتقلی اور اس سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ہے۔ان کے مطابق اگر حکومت اس حوالے سے واضح اور مستقل پالیسی اختیار کرتی ہے تو سرمایہ کاروں اور صارفین دونوں کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا، جس سے سولر توانائی نہ صرف بجلی کے بلوں میں کمی بلکہ قومی گرڈ پر دباؤ کم کرنے میں بھی زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکے گی۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور سولر پینلز پر اضافی ٹیکس نہ لگانے کے فیصلے مجموعی طور پر مثبت پیش رفت ہیں، لیکن ان کے حقیقی فوائد کا انحصار مؤثر حکومتی پالیسیوں اور مستقل عملدرآمد پر ہوگا۔اگر حکومت پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ مارکیٹ تک منتقل کرنے میں کامیاب رہی، پیٹرولیم لیوی میں غیر ضروری اضافہ نہ کیا، اور سولر توانائی کے شعبے میں پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا تو یہ فیصلے نہ صرف مہنگائی میں کمی، صنعتی ترقی اور توانائی کے متبادل ذرائع کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں بلکہ عام شہریوں کو بھی طویل المدتی معاشی ریلیف فراہم کر سکتے ہیں۔

Back to top button