امریکہ ایران کشیدگی، کیا خطے میں بڑی جنگ چھڑنے والی ہے؟

امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ عسکری کشیدگی نے ایک بار پھر خطے کی صورتحال کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ چند روز قبل دونوں ممالک نے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں 60 روز کے اندر مستقل امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم تازہ امریکی فضائی حملوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی نے اس عمل کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ سیاسی اور سفارتی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا یہ حملے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کر سکتے ہیں یا پھر یہ محض سفارتی دباؤ بڑھانے کی ایک حکمت عملی ہے، جس کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔
سابق سفارت کار مسعود خالد کے مطابق جنگ بندی کے بعد اس نوعیت کی محدود جھڑپیں یا کشیدگی کے واقعات غیر معمولی نہیں ہوتے بلکہ کئی بین الاقوامی تنازعات میں ایسے حالات دیکھنے میں آتے ہیں۔ ان کے مطابق اصل تشویش اس وقت پیدا ہوگی جب ایسے واقعات کی شدت اور تعداد مسلسل بڑھنے لگے، کیونکہ ایسی صورت میں نہ صرف جنگ بندی بلکہ پورا مذاکراتی عمل بھی خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران دونوں اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ نئی اور طویل فوجی محاذ آرائی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہوگی۔ اسی لیے اختلافات اور باہمی بداعتمادی کے باوجود دونوں ممالک سفارتی راستہ کھلا رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔مسعود خالد کے مطابق سفارت کاری کبھی بھی سیدھی لکیر میں آگے نہیں بڑھتی۔ مذاکرات کے دوران سخت بیانات، وقتی تعطل، محدود فوجی دباؤ اور سیاسی کشیدگی اکثر مذاکراتی عمل کا حصہ ہوتے ہیں۔ اگر دونوں فریق سیاسی عزم برقرار رکھتے ہیں اور بات چیت کا سلسلہ منقطع نہیں ہونے دیتے تو موجودہ کشیدگی کے باوجود کسی قابل قبول معاہدے تک پہنچنا ممکن ہے۔
اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے اسسٹنٹ ریسرچ ایسوسی ایٹ فیضان ریاض کے مطابق امریکا اس وقت مکمل جنگ کے بجائے محدود فوجی دباؤ کی حکمت عملی پر عمل پیرا دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن عسکری کارروائیوں کو سفارتی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ مذاکرات کی میز پر زیادہ مضبوط پوزیشن حاصل کی جا سکے۔فیضان ریاض کا کہنا ہے کہ حالیہ فضائی حملوں کا مقصد صرف عسکری طاقت کا اظہار نہیں بلکہ تہران کو یہ واضح پیغام دینا بھی ہے کہ اگر ایران یورینیم افزودگی، بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں ایران سے منسلک گروہوں کے حوالے سے امریکی مطالبات پر لچک نہیں دکھاتا تو اس پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ان کے مطابق بین الاقوامی سیاست میں یہ حکمت عملی نئی نہیں، جہاں محدود عسکری دباؤ کے ذریعے مذاکرات میں بہتر شرائط حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ تاہم اس پالیسی کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار آئندہ چند ہفتوں کے اقدامات پر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر حالیہ کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک بغیر کسی پیشگی شرط کے بامعنی مذاکرات جاری رکھتے ہیں تو اسے امن کی جانب مثبت پیش رفت سمجھا جا سکتا ہے، لیکن اگر فوجی دباؤ مسلسل بڑھتا رہا اور سفارتی رابطے محدود ہوتے گئے تو اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ اصل مقصد مذاکرات نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے سیاسی برتری حاصل کرنا ہے۔
سابق سفیر آصف درانی کے مطابق موجودہ حالات میں وقفے وقفے سے محدود حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ کچھ عرصہ جاری رہ سکتا ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان ابھی بھی موجود ہے۔ان کے مطابق زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ فی الحال دونوں فریق ایک دوسرے پر دباؤ برقرار رکھنا چاہتے ہیں، تاہم اس کے باوجود مکمل جنگ سے گریز کا واضح رجحان بھی موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک بالآخر مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی کوشش کریں گے۔
ماہرین کی مجموعی رائے یہ ہے کہ موجودہ کشیدگی نے مذاکراتی عمل کو مشکل ضرور بنا دیا ہے، لیکن اسے مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔ اگر عسکری کارروائیاں محدود رہتی ہیں اور دونوں ممالک سفارتی رابطے برقرار رکھتے ہیں تو 60 روزہ فریم ورک کے تحت حتمی امن معاہدے کی امید باقی رہ سکتی ہے۔البتہ اگر حملوں کا دائرہ وسیع ہوا، باہمی اعتماد مزید کمزور ہوا یا کسی ایک فریق نے مذاکراتی عمل سے خود کو الگ کر لیا تو مستقل امن معاہدے کی راہ میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔ مبصرین کے بقول پاکستان اور قطر کی ثالثی میں شروع ہونے والا یہ سفارتی عمل اس وقت ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں آنے والے چند ہفتے یہ طے کریں گے کہ حالیہ کشیدگی محض ایک عارضی دباؤ کی حکمت عملی ثابت ہوتی ہے یا پھر یہ خطے کو ایک نئے بحران کی طرف لے جاتی ہے۔
