خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو جہنم بنا دینگے: پاسداران انقلاب

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو آنے والے دنوں میں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی اڈوں کو جہنم بنا دینگے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی آر جی سی بحریہ کے کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنوبی ایرانی شہر سیرک پر امریکی حملہ آبنائے ہرمز پر ایران کی برتری کو متاثر نہیں کر سکتا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران کی جانب سے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے بعض بحری جہازوں پر کی جانے والی فائرنگ کا مقصد دیگر جہازوں کو یہ یاد دلانا تھا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے مقررہ بحری راستوں اور ضوابط پر عمل کرنا ضروری ہے۔پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کا معاملہ الگ ہے اور انہیں آنے والے دنوں میں "جہنم کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

ایرانی بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ حالیہ جوابی کارروائیوں کے دوران امریکی فوج کے آٹھ اہم فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ان حملوں کو امریکا کی حالیہ فوجی کارروائیوں کا "فیصلہ کن جواب” قرار دیا گیا۔بیان کے مطابق امریکا نے اتوار کے روز ایران کے پانچ ساحلی مقامات پر حملے کیے، جو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت اور جنگ بندی کی خلاف ورزی ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں امریکا کی جانب سے ایران پر کسی بھی نوعیت کی فوجی کارروائی کی گئی تو اس کا بھرپور، سخت اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، چاہے حملے کی نوعیت یا حجم کچھ بھی ہو۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور حالیہ دنوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں اور جوابی اقدامات کے دعوے کر چکے ہیں، جس کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب امریکی حکام نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اس تازہ بیان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا، جبکہ عالمی برادری خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

Back to top button