برسوں بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان خاموش سفارتی رابطہ بحال

پاکستان اور بھارت کے درمیان برسوں سے باضابطہ مذاکرات معطل ہونے کے باوجود دونوں ممالک نے ایک بار پھر خاموش سفارتی رابطے کا آغاز کر دیا ہے۔ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں ہونے والے "ٹریک 1.5” مذاکرات میں دونوں ممالک کے نمائندوں نے پانی، فضائی حدود، بحران کے دوران رابطوں کے نظام اور مستقبل میں کشیدگی سے بچنے کے طریقہ کار سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔

انڈیپینڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق دفتر خارجہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ یہ غیر رسمی مگر اہم سفارتی مکالمہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور رابطوں کی بحالی کی کوششوں کا حصہ تھا۔ اگرچہ ان مذاکرات میں کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہوا، تاہم حساس معاملات پر براہ راست تبادلہ خیال کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ایسے میں سوال پیداہوتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کا اتنے عرصے بعد رابطہ کیسے ہوا اور یہ ٹریک 1.5 مذاکرات کیا ہوتے ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق سفارتی اصطلاح میں "ٹریک ون” سے مراد حکومتوں کے درمیان باضابطہ مذاکرات ہوتے ہیں، جبکہ "ٹریک ٹو” میں سابق سفارتکار، ریٹائرڈ فوجی افسران، ماہرین، دانشور اور سول سوسائٹی کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس "ٹریک 1.5” دونوں کے درمیان ایک درمیانی شکل ہے، جس میں غیر سرکاری شخصیات کے ساتھ ساتھ موجودہ سرکاری حکام بھی شریک ہوتے ہیں۔ اس فورم پر دونوں ممالک بغیر کسی رسمی پابندی یا معاہدے کے اپنے مؤقف، تجاویز اور ممکنہ حل پر کھل کر بات کر سکتے ہیں، جسے مستقبل کے باضابطہ مذاکرات کی بنیاد بھی سمجھا جاتا ہے۔

دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران سندھ طاس معاہدے سے متعلق امور، دریاؤں کے پانی کا قدرتی بہاؤ، فضائی حدود کی بحالی، ہنگامی حالات میں رابطوں کے نظام اور مستقبل میں فوجی کشیدگی سے بچنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔رپورٹس کے مطابق بھارتی وفد نے سندھ طاس معاہدے کے تحت بعض انتظامات بحال کرنے اور دریاؤں کے قدرتی بہاؤ کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ اس کے بدلے میں بھارت نے پاکستانی فضائی حدود بھارتی ایئرلائنز کے لیے دوبارہ کھولنے کی خواہش ظاہر کی۔

مبصرین کے مطابق یہ معاملہ اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ مئی 2025 کی پاک بھارت فوجی کشیدگی کے بعد پاکستان نے بھارتی فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے باعث بھارتی پروازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنا پڑ رہے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال بھی بڑا اہم ہے کہ مذاکرات میں کن شخصیات نے شرکت کی؟

ذرائع کے مطابق پاکستان کی نمائندگی سینیٹر شیری رحمٰن اور معروف صحافی و تجزیہ کار نسیم زہرہ نے کی، جبکہ بھارتی وفد میں حکمران جماعت بی جے پی کے رہنما رام مادھو، سابق آرمی چیف جنرل منوج نرواڻے، سابق سفارتکار روچی گھنشیام اور وویک کاٹجو شامل تھے۔ اس مکالمے کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی تھی کہ دونوں ممالک کی وزارت خارجہ کے حاضر سروس حکام نے بھی شرکت کی، جو ٹریک 1.5 مذاکرات میں نسبتاً غیر معمولی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ مذاکرات جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے نمائندوں کی موجودگی میں کولمبو میں منعقد ہوئے۔ اگرچہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں فوری بہتری آئے گی، تاہم سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ جب باضابطہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوں تو اس نوعیت کے غیر رسمی رابطے کشیدگی کم کرنے اور مستقبل میں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے بقول دونوں ممالک کے درمیان پانی، فضائی حدود، سرحدی کشیدگی اور اعتماد سازی جیسے حساس موضوعات پر براہ راست بات چیت اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں فریق مکمل سفارتی تعطل سے گریز کرتے ہوئے رابطے کے دروازے کھلے رکھنا چاہتے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو مستقبل میں باضابطہ مذاکرات کی بحالی اور دوطرفہ تعلقات میں بہتری کی نئی راہیں بھی ہموار ہو سکتی ہیں۔

Back to top button