ایران امریکا جنگ بندی کا تسلسل پاکستان کیلئے گیم چینجر کیوں؟

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی، سفارتی پیش رفت اور ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں میں ممکنہ نرمی یا خاتمہ پاکستانی معیشت کیلئے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران امریکہ جنگ بندی برقرار رہی تو پاکستان کے لیے توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، برآمدات اور علاقائی رابطوں کے شعبوں میں نئے معاشی مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔ ماہرین معیشت، سابق سفارت کاروں اور حکومتی شخصیات کا ماننا ہے کہ اگر خطے میں امن و استحکام برقرار رہا تو پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اربوں ڈالر کی اضافی آمدن حاصل کر سکتا ہے۔

معروف ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی ایران کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ملتی ہے۔ ایران دنیا کے بڑے توانائی پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں تقریباً 210 ارب بیرل خام تیل اور 35 ٹریلین کیوبک میٹر قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ان کے مطابق دنیا میں توانائی کی سب سے زیادہ ضرورت رکھنے والے ممالک چین اور بھارت ہیں جبکہ ان دونوں کے درمیان پاکستان ایک قدرتی زمینی راہداری کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر مستقبل میں ایران سے چین، بھارت یا دیگر ممالک تک تیل اور گیس کی ترسیل کے منصوبے شروع ہوتے ہیں تو پاکستان صرف ٹرانزٹ فیس اور متعلقہ خدمات کی مد میں سالانہ 8 سے 9 ارب ڈالر تک کما سکتا ہے۔ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق ایران سے پاکستان تک تیل اور گیس کی پائپ لائنوں کا جال بچھایا جا سکتا ہے، جبکہ ایران سے نسبتاً سستی بجلی کی درآمد بھی ممکن ہوگی۔انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا براہ راست فائدہ پاکستان کو ہوگا کیونکہ ملک کا سالانہ تیل درآمدی بل بعض برسوں میں 19 ارب ڈالر تک پہنچ جاتا ہے۔ اگر ایران دوبارہ عالمی منڈی میں بڑے پیمانے پر تیل برآمد کرنا شروع کرتا ہے تو قیمتوں میں کمی سے پاکستان کے درآمدی اخراجات میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔

ماہر معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق ایران پر پابندیوں میں نرمی کی صورت میں پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ دوبارہ فعال ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔یہ منصوبہ 2009 میں شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت ایران نے 25 برس تک پاکستان کو روزانہ ایک ارب کیوبک فٹ قدرتی گیس فراہم کرنا تھی۔ ایران اپنی حدود میں منصوبے کا بیشتر حصہ مکمل کر چکا ہے، تاہم بین الاقوامی پابندیوں کے باعث پاکستان میں اس منصوبے پر پیش رفت سست رہی۔ڈاکٹر خاقان نجیب کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنی جانب سے ضروری سرمایہ کاری مکمل کرے تو اسے نہ صرف سستی گیس دستیاب ہوگی بلکہ ملک میں توانائی کے بحران میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق ایران پاکستان کے لیے ایک بڑی برآمدی منڈی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان ایران کو ٹیکسٹائل مصنوعات، فارماسیوٹیکل اشیا، زرعی اجناس، چاول، گوشت اور دیگر مصنوعات برآمد کر سکتا ہے، جس سے ملکی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔اسی طرح پاکستان ایران سے پیٹروکیمیکل مصنوعات، کھاد، خام مال، خام تیل اور دیگر صنعتی مصنوعات نسبتاً کم قیمت پر درآمد کر سکتا ہے، جس سے ملکی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں بھی کمی آئے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، اس لیے وہاں سے خام تیل اور گیس کی درآمد پر بحری نقل و حمل کے مقابلے میں کہیں کم لاگت آئے گی۔ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق اس سے پاکستان سالانہ اربوں ڈالر کی بچت کر سکتا ہے، جبکہ توانائی کی فراہمی زیادہ مستحکم اور کم قیمت پر ممکن ہوگی۔

علاقائی تجارت کے ماہرین کے مطابق بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے کئی دہائیوں سے ایرانی پیٹرول اور ڈیزل غیر رسمی ذرائع سے پاکستان آتا رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر اس تجارت کو قانونی شکل دے دی جائے تو حکومت کو سالانہ تقریباً 300 ارب روپے تک اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے، جبکہ سمگلنگ میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

پاکستان کے سابق سفیر جوہر سلیم کے مطابق ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ قابل عمل دکھائی دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کو نسبتاً سستا خام تیل، قدرتی گیس اور ایل این جی فراہم کر سکتا ہے کیونکہ دونوں ممالک ہمسایہ ہیں اور نقل و حمل کی لاگت کم ہوگی۔ان کے مطابق ایران کو مختلف صنعتی اور زرعی مصنوعات کی ضرورت ہے، جس سے پاکستان اپنی برآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی اور دونوں ممالک کے درمیان سیاحت بھی فروغ پائے گی۔

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے بھی اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ سے امن معاہدے کے بعد پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ دوبارہ فعال ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے پاکستان کو اپنی جانب سے مزید سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ایران کو عالمی منڈی میں دوبارہ تیل اور گیس فروخت کرنے کی اجازت ملنے سے خام تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے، جس کا براہ راست فائدہ پاکستان سمیت تمام درآمد کنندہ ممالک کو ہوگا۔وزیر پٹرولیم کے مطابق مستقبل میں ایران پاکستان کو خام تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بھی فراہم کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے موجودہ توانائی کے انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

ماہرین کے بقول اگر ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہیں اور خطے میں امن و استحکام برقرار رہتا ہے تو پاکستان کے لیے سب سے بڑا فائدہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی بحالی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ کئی برسوں سے تعطل کا شکار یہ منصوبہ دوبارہ فعال ہونے کی صورت میں پاکستان کو نسبتاً سستی قدرتی گیس میسر آ سکتی ہے، جس سے نہ صرف توانائی کے بحران میں کمی آئے گی بلکہ صنعتوں کو بھی کم لاگت پر ایندھن دستیاب ہوگا۔اسی طرح ایران سے خام تیل، قدرتی گیس اور بجلی کی درآمد کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔ چونکہ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے، اس لیے توانائی کی ترسیل پر بحری راستوں کے مقابلے میں کہیں کم اخراجات آئیں گے، جس سے پاکستان کا سالانہ درآمدی بل نمایاں حد تک کم ہو سکتا ہے۔ اگر ایران عالمی منڈی میں دوبارہ بھرپور انداز میں تیل برآمد کرنا شروع کرتا ہے تو خام تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کا براہ راست فائدہ بھی پاکستان کو ملے گا۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت سے بھی بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اگر مستقبل میں ایران سے چین، بھارت یا دیگر ایشیائی ممالک تک تیل اور گیس کی ترسیل کے منصوبے شروع ہوتے ہیں تو پاکستان ٹرانزٹ فیس، پائپ لائن انفراسٹرکچر اور متعلقہ خدمات کی مد میں سالانہ تقریباً 8 سے 9 ارب ڈالر تک آمدن حاصل کر سکتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔تجارتی شعبے میں بھی نمایاں امکانات موجود ہیں۔ ایران کے ساتھ معاشی روابط بہتر ہونے کی صورت میں پاکستان ٹیکسٹائل، زرعی اجناس، چاول، گوشت، فارماسیوٹیکل مصنوعات اور دیگر صنعتی اشیا کی برآمدات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران سے پیٹروکیمیکل مصنوعات، کھاد اور صنعتی خام مال کی درآمد بھی آسان اور کم لاگت پر ممکن ہوگی، جس سے ملکی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی اور برآمدی شعبہ مزید مضبوط ہوگا۔

علاقائی تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں کئی دہائیوں سے جاری غیر رسمی ایرانی تیل کی تجارت کو اگر قانونی شکل دے دی جائے تو حکومت کو سالانہ تقریباً 300 ارب روپے تک اضافی ریونیو حاصل ہو سکتا ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف سمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ سرحدی علاقوں میں معاشی سرگرمیوں، روزگار اور کاروباری مواقع میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔

معاشی ماہرین کا مجموعی طور پر خیال ہے کہ اگر موجودہ سفارتی پیش رفت پائیدار ثابت ہوتی ہے اور پاکستان بروقت پالیسی سازی، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر توجہ دیتا ہے تو ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون نہ صرف توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مددگار ہوگا بلکہ برآمدات، ٹرانزٹ، صنعت، سرمایہ کاری، روزگار اور سرکاری آمدن میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران امریکا جنگ بندی اور پابندیوں کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے یہ مواقع پاکستان کے لیے کئی دہائیوں میں ایک اہم معاشی موقع ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم ان سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے بروقت پالیسی سازی، سرمایہ کاری، علاقائی سفارتکاری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی ناگزیر ہوگی۔

Back to top button