پاکستان امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی پالیسی پر قائم ہے: شہباز شریف

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان عالمی برادری میں ایک امن پسند ریاست کے طور پر اپنی شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے، جب کہ برادر اور دوست ممالک کے تعاون سے پاکستان کی مخلصانہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے مابین اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تاریخی دستخط ہوئے، جن پر بطور ثالث انہیں بھی دستخط کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔
پاکستان نیول اکیڈمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملک اس وقت اندرونی اور بیرونی نوعیت کے پیچیدہ سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال مئی کے تنازع میں شکست کے بعد مشرقی ہمسایہ پاکستان کے مشکل سے حاصل کیے گئے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کےلیے خفیہ کارروائیوں اور پراکسی عناصر کا سہارا لے رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دوسری جانب پاکستان کی بہادر مسلح افواج مغربی سرحدوں سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کررہی ہیں،پاکستانی قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کےلیے پُرعزم ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان تمام تنازعات کے حل کےلیے امن،مذاکرات اور سفارت کاری کی پالیسی پر بھی قائم ہے۔پاکستان کشمیریوں،غزہ کے عوام اور فلسطینیوں کے حق خودارادیت اور انصاف کی حمایت کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔
وزیراعظم نے کہا پاکستان عالمی برادری میں ایک امن پسند ملک کے طور پر اپنی شناخت برقرار رکھےہوئے ہے،برادر اور دوست ممالک کے تعاون سے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر تاریخی دستخط ہوئے،جن پر بطور ثالث انہیں بھی دستخط کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔وزیراعظم نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کرتےہوئے کہاکہ انہوں نے تمام فریقوں کو امن اور ہم آہنگی کی راہ پر لانے کےلیے انتھک کوششیں کیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے حالیہ دورۂ پاکستان کا ذکر کرتےہوئے کہاکہ یہ دورہ پاکستان اور ایران کے مضبوط برادرانہ تعلقات کا مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن کے فروغ کےلیے پاکستان کے اہم کردار کا اعتراف بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی علاقائی صورت حال نے عالمی معیشت اور بین الاقوامی سپلائی چینز کےلیے سمندری سلامتی کی اہمیت کو مزید اجاگر کردیا ہے، آزادانہ بحری آمدورفت اور جہاز رانی کی آزادی اب محض سہولت نہیں بلکہ پوری دنیا کی ضرورت بن چکی ہے۔
وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت پاکستان بحریہ کو مزید مضبوط، مؤثر اور جدید دفاعی قوت بنانے کےلیے مکمل طور پر پرعزم ہے تاکہ وہ نہ صرف قومی دفاع کو یقینی بناسکے بلکہ وسیع بحری خطے میں استحکام کےلیے بھی مؤثر کردار ادا کرے۔
پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس کو مبارکباد دیتےہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ سخت تربیت مکمل کرنے کےبعد پاکستان بحریہ میں بطور افسر اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں، انہوں نے تقریب میں ترکیہ، بنگلہ دیش، بحرین، عراق، سری لنکا اور جبوتی سے تعلق رکھنے والے نوجوان افسران کی موجودگی پر بھی خوشی کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نےکہاکہ انہیں یقین ہےکہ نیول اکیڈمی میں حاصل کی گئی تربیت،علم اور پیشہ ورانہ مہارت ان افسران کے کیریئر میں نہایت مفید ثابت ہوگی اور وہ اپنی اپنی بحری افواج کی صلاحیتوں میں اہم کردار ادا کریں گے۔آج کمیشن حاصل کرنےوالے افسران صرف علم اور مہارت ہی نہیں بلکہ اعتماد، حوصلے اور جنگی جذبے سے بھی لیس ہوکر نکل رہے ہیں،جو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کےلیے ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ افسران ایسے دور میں پاکستان بحریہ کا حصہ بن رہے ہیں جب سمندری شعبہ تیزی سے جدید ٹیکنالوجی،مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) اور بغیر پائلٹ نظاموں کی طرف بڑھ رہا ہے،انہوں نے نئے افسران پر زور دیا کہ وہ عزم، جرات،نظم و ضبط، دیانت داری اور وفاداری جیسی اقدار کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔آج ان کے کندھوں پر سجنے والا رینک ایک بڑی ذمہ داری کی علامت ہے،پرسکون سمندر کبھی ملاح کی آزمائش نہیں لیتا اور نہ ہی موافق ہوائیں ایک کپتان کی صلاحیت کا معیار ہوتی ہیں،بلکہ طوفانی سمندر اور تیز ہوائیں ہی انسان کے حوصلے اور کردار کا اصل امتحان ہوتی ہیں۔
ایران امریکا جنگ بندی کا تسلسل پاکستان کیلئے گیم چینجر کیوں؟
وزیراعظم آفس کےمطابق وزیراعظم شہباز شریف آج صبح کراچی پہنچے جہاں سندھ کے گورنر نہال ہاشمی اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ان کا استقبال کیا،اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی ان کے ہمراہ تھے۔
