آزاد کشمیر کے انتخابی دنگل میں اترنے والے سابق وزرائے اعظم کون؟

آزاد کشمیر میں الیکشن کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے امیدوار میدان میں اتار دئیے ہیں۔ آزاد کشمیر الیکشن میں کئی سابق وزرائے اعظم بھی سامنے آ چکے ہیں جن کے مدمقابل امیدواوں سے کانٹے کی مقابلے متوقع ہیں۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آزاد کشمیر کے عام انتخابات میں کون سے سابق وزرائے اعظم اور بڑے سیاسی رہنما ایک بار پھر عوامی عدالت میں پیش ہونے جا رہے ہیں۔ کون کس جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہا ہے؟ کس کی پوزیشن مضبوط ہےاور کس کے شکست کھانے کے امکانات زیادہ ہیں؟
خیال رہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کی آئینی مدت 3 اگست 2026 کو مکمل ہو رہی ہے، جس کے پیش نظر چیف الیکشن کمشنر نے عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔ شیڈول کے مطابق 27 جولائی 2026 کو آزاد کشمیر کے عوام اپنے نئے نمائندوں کا انتخاب کریں گے۔ اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے شیڈول واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم الیکشن کمیشن نے آئینی تقاضوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ درخواست مسترد کر دی اور واضح کیا کہ مقررہ وقت پر انتخابات کا انعقاد ناگزیر ہے۔انتخابی شیڈول جاری ہونے کے بعد پورے آزاد کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، مختلف سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے اور کئی سابق وزرائے اعظم، سابق صدر اور دیگر سینئر رہنما ایک مرتبہ پھر عوامی عدالت میں جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اس بار کے انتخابات میں آزاد کشمیر کی سیاست کے کئی بڑے نام حصہ لے رہے ہیں، جن میں سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان، راجا فاروق حیدر خان، سردار عبدالقیوم نیازی، سردار تنویر الیاس اور چوہدری انوارالحق شامل ہیں، جبکہ سابق صدر اور سابق وزیراعظم سردار محمد یعقوب خان بھی انتخابی میدان میں موجود ہوں گے۔

سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان اپنی جماعت آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔راجا فاروق حیدر خان پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہیں، جبکہ سردار محمد یعقوب خان اور سردار تنویر الیاس پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔سابق وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے تاحال یہ حتمی فیصلہ نہیں کیا کہ وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑیں گے یا کسی سیاسی جماعت کے ٹکٹ پر میدان میں اتریں گے۔ ذرائع کے مطابق ان کی استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اور اسی پلیٹ فارم سے انتخاب لڑنے کا امکان موجود ہے۔

واضح رہے کہ راجا فاروق حیدر اور سردار یعقوب دونوں اپنے سیاسی کیریئر کے آغاز میں مسلم کانفرنس سے وابستہ رہے۔راجا فاروق حیدر 2009 میں مسلم کانفرنس کے پلیٹ فارم سے وزیراعظم منتخب ہوئے، تاہم بعد ازاں انہوں نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کی اور 2016 کے انتخابات میں ن لیگ کی کامیابی کے بعد دوبارہ وزیراعظم بنے جبکہ دوسری جانب سردار محمد یعقوب خان 2008 میں مسلم کانفرنس کے ٹکٹ پر وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے سردار عتیق احمد خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے الگ کیا، تاہم ایک سال بعد خود راجا فاروق حیدر کی تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا اور وزارت عظمیٰ سے محروم ہوگئے۔بعد ازاں انہوں نے مسلم کانفرنس چھوڑ کر پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور 2011 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت بننے پر انہیں آزاد کشمیر کا صدر منتخب کیا گیا، جبکہ ان کی صاحبزادی فرزانہ یعقوب ان کی خالی ہونے والی نشست پر کامیاب ہو کر کابینہ کا حصہ بھی رہیں۔

سردار عتیق احمد خان 2006 کے انتخابات کے بعد وزیراعظم منتخب ہوئے، تاہم ان کے دور حکومت میں آزاد کشمیر مسلسل سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا اور پانچ برس کے عرصے میں چار مختلف وزرائے اعظم تبدیل ہوئے۔2008 میں وہ تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے محروم ہوئے اور سردار یعقوب وزیراعظم بنے۔ بعد ازاں 2009 میں راجا فاروق حیدر وزیراعظم منتخب ہوئے، جبکہ 2010 میں سردار عتیق نے ایک مرتبہ پھر تحریک عدم اعتماد کے ذریعے راجا فاروق حیدر کی حکومت ختم کر کے وزارت عظمیٰ سنبھالی۔اسی تحریک عدم اعتماد کے بعد مسلم کانفرنس میں شدید اختلافات پیدا ہوئے، جس کے نتیجے میں آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کی بنیاد پڑی۔ وقت گزرنے کے ساتھ مسلم کانفرنس کی سیاسی قوت کم ہوتی گئی اور آج وہ محدود نشستوں تک سمٹ چکی ہے۔

2021 کے انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی اور اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے سردار عبدالقیوم نیازی کو وزیراعظم نامزد کیا۔تاہم 2022 میں تحریک انصاف نے اپنے ہی وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی، جس کے نتیجے میں عبدالقیوم نیازی عہدے سے ہٹ گئے اور سردار تنویر الیاس وزیراعظم منتخب ہوئے۔اب عبدالقیوم نیازی ایک مرتبہ پھر حلقہ ایل اے 18 سے انتخابی میدان میں ہیں۔

دوسری جانب سردار تنویر الیاس، جنہوں نے 2021 کا الیکشن تحریک انصاف کے ٹکٹ پر جیتا تھا، اب پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو چکے ہیں اور اطلاعات کے مطابق اس مرتبہ تین مختلف حلقوں سے انتخاب لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اسی طرح چوہدری انوارالحق نے 2021 میں تحریک انصاف کے امیدوار کے طور پر کامیابی حاصل کی اور بعد ازاں اسپیکر اسمبلی منتخب ہوئے۔2023 میں جب عدالت نے وزیراعظم سردار تنویر الیاس کو نااہل قرار دیا تو تحریک انصاف کے فارورڈ بلاک نے چوہدری انوارالحق کو وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد کیا، جہاں وہ ریکارڈ 48 ووٹ حاصل کرکے قائد ایوان منتخب ہوئے۔اس مرتبہ وہ بھمبر سے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ آزاد امیدوار ہوں گے یا کسی سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑیں گے۔

موجودہ وزیراعظم راجا فیصل ممتاز راٹھور، جن کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے، حویلی کہوٹہ سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ان کا مقابلہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار محسن عزیز سے متوقع ہے، جسے اس حلقے کا ایک اہم اور سخت مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق سابق صدر سردار یعقوب اور مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عتیق احمد خان اپنے اپنے حلقوں میں مضبوط سیاسی حیثیت رکھتے ہیں، جبکہ سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر کو اس مرتبہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر آزاد کشمیر کے 2026 کے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان کانٹے دار مقابلے کی توقع ہے، جبکہ مختلف حلقوں میں سابق وزرائے اعظم اور سینئر سیاسی رہنماؤں کی موجودگی اس انتخابی معرکے کو مزید دلچسپ اور اہم بنا رہی ہے۔

Back to top button