اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا مستقبل خطرے میں کیوں؟

امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ اختلافات میں شدت آنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا مستقبل خطرے میں پڑ چکا ہے اور اگلی بار ان کا وزیر اعظم منتخب ہونے کا امکان بھی معدوم ہو گیا ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کو بیک وقت داخلی سیاسی بحران، بدعنوانی کے مقدمات، غزہ جنگ پر بڑھتی ہوئی تنقید اور اب امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں غیر معمولی کشیدگی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ تمام عوامل مل کر ان کی سیاسی پوزیشن کو کمزور کر رہے ہیں اور اسرائیلی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی ذرائع ابلاغ اور نئی شائع ہونے والی کتاب ریجیم چینج Regime Change میں سامنے آنے والے انکشافات نے واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کتاب کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے، جو مبصرین کے مطابق دونوں کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی کی علامت ہیں۔
کتاب کے مطابق صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران نیتن یاہو کو سخت الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "سب ہی لوگ آپ سے اور آپ کی حرکتوں سے تنگ آ چکے ہیں”۔ کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ نے انہیں باور کرانے کی کوشش کی کہ غزہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں استحکام کے لیے مجوزہ امریکی امن منصوبہ اسرائیل کے مفاد میں ہے، تاہم اسرائیلی حکومت کے بعض اقدامات نے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچایا۔ اس گفتگو میں ٹرمپ کے داماد اور سابق مشیر جیرڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف بھی موجود تھے۔ ان انکشافات نے عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایک وقت تھا جب ٹرمپ اور نیتن یاہو کو انتہائی قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا، لیکن غزہ جنگ، ایران کے معاملے اور خطے میں امریکی حکمت عملی نے دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ان کے نزدیک یہ تبدیلی اسرائیلی وزیراعظم کے لیے سفارتی سطح پر ایک بڑا دھچکا تصور کی جا رہی ہے۔اسی دوران امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت نے بھی نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
مبصرین کے مطابق نیتن یاہو کئی برسوں سے یہ تاثر دیتے رہے کہ وہ ایران کے معاملے پر امریکی پالیسی پر غیر معمولی اثر رکھتے ہیں، مگر حالیہ پیش رفت نے اس تاثر کو چیلنج کر دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے معاملے پر مذاکرات اور سفارتی راستے کو ترجیح دی، جبکہ نیتن یاہو مسلسل سخت مؤقف اختیار کرنے کے حامی رہے۔ ان کے مطابق یہی بنیادی اختلاف اب دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں فاصلے کی ایک اہم وجہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم کو اندرون ملک بھی شدید قانونی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات میں تقریباً اٹھارہ ماہ تک جاری رہنے والی عدالتی کارروائی اور 98 سماعتوں کے بعد ان کی گواہی کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، جبکہ مقدمات کے آئندہ مراحل ابھی باقی ہیں۔ نیتن یاہو نے عدالت میں اپنے خلاف تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ریاستی اداروں نے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو سیاسی طور پر نشانہ بنایا، تاہم استغاثہ ان پر رشوت، فراڈ اور اختیارات کے ناجائز استعمال سمیت متعدد الزامات عائد کیے ہوئے ہے۔
ان مقدمات میں الزام ہے کہ نیتن یاہو نے قیمتی تحائف وصول کیے، میڈیا کوریج کے بدلے سرکاری مراعات دینے کی کوشش کی اور بعض کاروباری شخصیات کو حکومتی فیصلوں کے ذریعے فائدہ پہنچایا۔ اگرچہ وہ تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں، لیکن قانونی ماہرین کے مطابق ان مقدمات کے سیاسی اثرات پہلے ہی نمایاں ہو چکے ہیں۔
غزہ جنگ کے طویل ہونے، انسانی بحران، یرغمالیوں کے معاملے، داخلی احتجاج اور عالمی سطح پر اسرائیل پر بڑھتے ہوئے دباؤ نے بھی نیتن یاہو کی حکومت کو مسلسل دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ اسرائیل کے اندر بھی حکومت کی کارکردگی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکی انتظامیہ اور اسرائیلی حکومت کے درمیان موجود اختلافات مزید گہرے ہوتے ہیں تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ کی سیاست بلکہ اسرائیل کی داخلی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق واشنگٹن کی سیاسی حمایت میں کسی بھی سطح کی کمی اسرائیلی قیادت کے لیے اہم چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ نیتن یاہو کی کئی دہائیوں پر محیط سیاسی طاقت کا ایک اہم ستون امریکہ کے ساتھ ان کے مضبوط تعلقات تھے۔ اگر یہی تعلقات کمزور پڑتے ہیں تو ان کی سیاسی ساکھ بھی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ عدالتی مقدمات اور اندرونی سیاسی دباؤ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ بعض بین الاقوامی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ موجودہ حالات نیتن یاہو کے سیاسی کیریئر کے سب سے مشکل ادوار میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو آئندہ انتخابات میں ان کے لیے دوبارہ اقتدار حاصل کرنا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ دشوار ہو سکتا ہے، تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ اسرائیلی ووٹرز ہی کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ بڑھتے ہوئے اختلافات، ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی میں تبدیلی، غزہ جنگ کے اثرات، بدعنوانی کے مقدمات اور اندرونِ ملک بڑھتی ہوئی سیاسی مخالفت نے بنیامین نیتن یاہو کو ایک ایسے دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ان کی آئندہ سیاسی حکمت عملی اور عوامی حمایت ہی یہ طے کرے گی کہ وہ اپنی سیاسی پوزیشن بحال کر پاتے ہیں یا اسرائیلی سیاست ایک نئی قیادت کی طرف بڑھتی ہے۔
