حکومتی نااہلی،بڑے آبی منصوبوں کی لاگت میں کھربوں روپے کا اضافہ

ناکام منصوبہ بندی کی وجہ سے داسو، دیامر بھاشا اور نیلم جہلم منصوبے قومی خزانے پر 39 کھرب روپے کا بوجھ بن گئے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان (AGP) کی مالی سال 2025-26 کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ناقص منصوبہ بندی، مسلسل تاخیر، لاگت میں غیر معمولی اضافے اور انتظامی کمزوریوں کے باعث داسو ہائیڈرو پاور، دیامر بھاشا ڈیم اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے قومی خزانے پر مجموعی طور پر تقریباً 39 کھرب روپے کا مالی بوجھ ڈالیں گے۔

رپورٹ کے مطابق صرف مالی سال 2024-25 کے دوران ان منصوبوں کے باعث براہ راست نقصانات، آمدنی میں کمی، غیر منظور شدہ بجٹ اضافوں اور کاروباری تعطل کی مد میں 358 ارب روپے سے زائد کا فوری مالی خسارہ ہوا۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کے پہلے مرحلے کی ابتدائی لاگت 486 ارب روپے مقرر کی گئی تھی، تاہم یہ بڑھ کر 1,737 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، یعنی منصوبے کی لاگت میں 257 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق منصوبے کی جسمانی پیش رفت صرف 26.08 فیصد ہے، جبکہ مختص مالی وسائل کا 84.82 فیصد پہلے ہی خرچ کیا جا چکا ہے، جس سے منصوبے کی تکمیل کی مدت 2019 سے بڑھ کر نومبر 2028 تک پہنچ گئی ہے، یعنی منصوبہ مجموعی طور پر 9 سال تاخیر کا شکار ہے۔جون 2025 تک منصوبے کے پہلے مرحلے پر 412.289 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ ترقیاتی بجٹ میں مجموعی طور پر 695.066 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔

رپورٹ کے مطابق منصوبے کی مالی معاونت میں واپڈا کی ایکویٹی سے 168.75 ارب روپے، حبیب بینک کی سربراہی میں مقامی بینکوں کے قرض سے 113.563 ارب روپے، عالمی بینک کے آئی ڈی اے-1 کریڈٹ سے 79.273 ارب روپے اور کریڈٹ سوئس سے 50.703 ارب روپے فراہم کیے گئے۔آڈٹ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ منصوبہ شروع ہونے کے 11 سال بعد بھی تمام مطلوبہ اراضی حاصل نہیں کی جا سکی۔

رپورٹ کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم کے مرکزی ڈیم کی تعمیر کی ابتدائی لاگت 479 ارب روپے تھی جبکہ زمین کے حصول اور متاثرین کی آبادکاری پر پہلے ہی 151 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، حالانکہ اس مقصد کے لیے نظرثانی شدہ بجٹ 149 ارب روپے تھا۔مزید برآں بجلی پیدا کرنے کے منصوبے کے لیے 1,424 ارب روپے مزید درکار ہوں گے، تاہم اس منصوبے کا پی سی-1 تاحال منظور نہیں کیا گیا۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبہ شدید مالی بحران کا شکار ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے کو سالانہ 29 ارب روپے کا خالص نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے جبکہ پلانٹ کی بندش کے باعث کاروباری تعطل کا نقصان 99 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔اسی طرح بجلی کے ٹیرف کی منظوری نہ ملنے کے باعث 77.346 ارب روپے کی متوقع آمدنی بھی حاصل نہیں ہو سکی، جبکہ منصوبے کی موجودہ واجبات اس کے موجودہ اثاثوں سے 307.894 ارب روپے زیادہ ہو چکی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان بڑے قومی منصوبوں میں ناقص منصوبہ بندی، لاگت پر مؤثر کنٹرول نہ ہونا، بروقت فیصلوں میں تاخیر اور انتظامی کمزوریاں قومی خزانے پر غیر معمولی مالی بوجھ کا باعث بنی ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کو آئندہ برسوں میں کھربوں روپے کے اضافی مالی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Back to top button