پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں ابھرتا ہوا پاور بروکر کیسے بنا؟

امریکہ کے سابق خفیہ ادارے سی آئی اے کے انٹیلی جنس افسر لیری سی جانسن نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کا ایک اہم اور ابھرتا ہوا طاقتور کردار قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نہ صرف خطے میں سفارتی توازن پیدا کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے بلکہ روس، چین، سعودی عرب، قطر اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر خلیج کے لیے ایک نئے سیکیورٹی نظام کی تشکیل میں بھی سرگرم ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے حالیہ مہینوں میں ایسے سفارتی اقدامات کیے جنہوں نے خطے میں اس کی اہمیت اور اثر و رسوخ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
امریکی انٹیلی جنس کے سابق افسر لیری سی جانسن نے ماریو نوفل کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی انٹیلی جنس نظام کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، عالمی نیٹ ورک اور معلومات حاصل کرنے کی مہارت کو غیر معمولی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی انٹیلی جنس نہ صرف جدید ٹیکنالوجی بلکہ زمینی سطح پر مؤثر ذرائع کے ذریعے بھی معلومات اکٹھی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس کے باعث پاکستان خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال میں ایک مؤثر سفارتی قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔
لیری جانسن کے مطابق پاکستان نے ایران کے ساتھ تعلقات میں بھی نمایاں بہتری پیدا کی، حالانکہ ماضی میں چابہار بندرگاہ سمیت کئی معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات موجود رہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے ایرانی قیادت کے ساتھ قریبی رابطے قائم کیے اور انہیں اہم سیکیورٹی مشاورت بھی فراہم کی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ سوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات میں بھی پاکستان نے پس پردہ اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق مذاکرات میں ایران کے تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز کا مسئلہ ایک بڑی رکاوٹ تھا، تاہم پاکستان نے سفارتی کوششوں کے ذریعے اس معاملے میں پیش رفت کرانے میں مدد دی۔
لیری جانسن کا کہنا تھا کہ اس عمل کے دوران فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے مالی ضمانت حاصل کی جبکہ قطر کو بھی اس سفارتی عمل کا حصہ بنایا گیا۔ ان کے بقول اس پیش رفت کے بعد ایران کو منجمد امریکی فنڈز پر انحصار کم کرنے کا متبادل راستہ ملا، جس سے مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد ملی۔
سابق امریکی انٹیلی جنس افسر نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستان روس اور چین کے ساتھ مل کر خلیجی خطے میں ایک نئی علاقائی سیکیورٹی آرکیٹیکچر تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق اس نئے انتظام کا مقصد خطے میں استحکام پیدا کرنا، تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا اور علاقائی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے پاکستان کو "آرکسٹرا کا ڈائریکٹر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مختلف علاقائی طاقتوں کے درمیان رابطے، اعتماد سازی اور سفارتی ہم آہنگی پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اب صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں بھی ایک اہم کھلاڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تاہم لیری جانسن کے یہ تمام بیانات ان کے ذاتی تجزیے اور دعووں پر مبنی ہیں۔ ان میں سے متعدد دعووں، خصوصاً ایران۔امریکہ مذاکرات، مالی ضمانتوں اور نئے علاقائی سیکیورٹی بلاک کی تشکیل سے متعلق معاملات کی آزاد ذرائع یا متعلقہ حکومتوں کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ان دعووں کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے جب تک ان کی سرکاری یا آزادانہ توثیق نہ ہو جائے۔
