پاکستان نےپہلی مکمل برقی گاڑی متعارف کرادی

پاکستان میں الیکٹرک وہیکل پالیسی کے تحت پہلی مکمل برقی گاڑی متعارف کروا دی گئی.تاہم ماہرین کے مطابق الیکٹرک وہیکل پالیسی ملک میں آلودگی سے پاک ٹرانسپورٹ سہولیات کو تقویت دینے میں مدد دے گی۔
وزیراعظم کےمشیربرائےماحولیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نےکہا ہےکہ الیکٹرک وہیکل (برقی گاڑیوں) کی پالیسی آئندہ برسوں میں ملک کےٹرانسپورٹ شعبےکوآگےبڑھانےمیں مدد دےگی۔ ملک کی پہلی مکمل الیکٹرک تھری وہیکل گاڑیوں کی تقریب رونمائی کےموقع پرخطاب میں ان کاکہنا تھاکہ برقی گاڑیوں کی پالیسی تمام اسٹیک ہولڈرزسےمشاورت کےبعد بنائی گئی۔ ‘پاکستان کی پہلی مکمل 3 پہیوں والی برقی گاڑی’ کی رونمائی کی تقریب وزارت ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سےبورڈ آف انویسٹمنٹ اوسازگارانجینئرنگ ورکس لمیٹڈ کےتعاون سےمنعقد کی گئی۔ انہوں نےکہاکہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے5 نومبرکومنظورکی گئی. امین اسلم کا کہنا تھا کہ الیکٹرک وہیکل پالیسی کے4 اہم فواہد ہیں اوریہ گاڑیاں ایندھن پرمبنی گاڑیوں کےقابلےمیں 70 فیصد کم لاگت پرچلیں گی۔ انہوں نےمزید کہا کہ کم خرچ سےلےکرماحول دوست ہونےتک ملک میں برقی گاڑیوں کومتعارف کروانا تیل کےدرآمدی بل کو کم کرنے میں مدد کرے گا جبکہ ماحول، لوگوں کےطرززندگی اورشہروں کےلیےبھی بےلاتعداد فواہد کا باعث بنےگا۔ ساتھ ہی انہوں نےکہا کہ ان کی الیکٹرک وہیکل کی لوکلائزیشن اورپاکستان کوالیکٹرک وہیکلزکی عالمی چین کا حصہ بنانےکےلیے کوششیں کی جارہیں۔
مشیرکا مزید کہنا تھا کہ برقی گاڑیوں کی مقامی طورپرتیاری کےلیےآٹومینوفکچرنگ کےشعبے میں بھی الیکٹرک وہیکل پالیسی اورمعاشی مراعات کوبڑھایا جائے گا۔ برقی گاڑیوں کےفوائد بتاتے ہوئےانہوں نے کہا کہ ‘الیکٹرک گاڑیاں دھواں خارج نہیں کرتیں اوریہ صاف ہیں جبکہ یہ آواز کی آلودگی کا باعث نہیں اورساتھ ہی فیول کا خرچ بھی کرتی ہیں’۔ انہوں نےکہا کہ روایتی گاڑیوں سے آب وہوامیں تبدیلی لانےوالے کاربن ڈائی آکسائڈ کا اخراج ماحول میں گرین ہاؤس گیسز میں معاون ہےاورمجموعی طورپرماحولیاتی تباہی اورصحت کےمسائل کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کےبرعکس تمام برقی گاڑیاں کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا نہیں کررہیں جوماحول کوخراب کرنے کی وجہ ہے۔
