حکومت غیر قانونی مقیم افغانوں کے ساتھ کیا کرنے والی ہے؟

وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومت نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق یومِ عاشورہ کے فوری بعد صوبہ بھر، خصوصاً پشاور میں، غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ جس کے تحت نہ صرف پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی بلکہ ان کی سہولتکاری میں ملوث پاکستانیوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق سکیورٹی وجوہات کی بنا پر افغان باشندوں کی رضاکارانہ واپسی کا عمل عارضی طور پر 10 محرم تک محدود رکھا گیا، جبکہ اس دوران پشاور شہر میں افغان باشندوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد رہی۔ حکام کا کہنا ہے کہ رضاکارانہ واپسی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کے ساتھ نئی پالیسی پر عملدرآمد مزید تیز کر دیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے ہوٹلوں، ریستورانوں، چائے خانوں، ٹھیلوں اور دیگر کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ افغان باشندوں کا ریکارڈ مرتب کر لیا ہے۔ ایسے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے جو مطلوبہ دستاویزات کے بغیر کاروبار یا رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کا دائرہ صرف غیر قانونی رہائش تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایسے افراد کو بھی شامل کیا جائے گا جو غیر قانونی طور پر کاروبار کر رہے ہیں یا پاکستانی شناختی دستاویزات کے غلط استعمال میں ملوث پائے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق حکومت کو اطلاعات ملی ہیں کہ بعض افغان باشندے طورخم بارڈر سے افغانستان واپسی کے بعد غیر قانونی راستوں، خصوصاً چمن کے اطراف، دوبارہ پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ اسی خدشے کے پیش نظر چمن اور طورخم بارڈر پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ غیر قانونی آمدورفت کو روکا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی ایسا افغان باشندہ گرفتار ہوتا ہے جسے پہلے بھی پاکستان سے ڈی پورٹ کیا جا چکا ہو اور وہ دوبارہ غیر قانونی طور پر داخل ہوا ہو، تو اس کے خلاف امیگریشن اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ذرائع کے مطابق افغان کالونی، بورڈ بازار، کارخانو مارکیٹ، ابدرہ اور دیگر تجارتی مراکز میں بھی نگرانی سخت کر دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کہیں مقامی کاروباری افراد غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو کاروبار یا رہائش کی سہولت تو فراہم نہیں کر رہے۔حکومت نے مبینہ طور پر پاکستانی شہریوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کو کاروبار، ملازمت یا رہائش فراہم کرنے سے گریز کریں۔ خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ پاکستانی شہریوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومت کی توجہ ان افراد پر بھی مرکوز ہے جنہوں نے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے پاکستانی شناختی کارڈ یا دیگر دستاویزات حاصل کر رکھی ہیں۔ اس حوالے سے نادرا اور دیگر متعلقہ ادارے ریکارڈ کی جانچ کر رہے ہیں، اور اگر کسی پاکستانی شہری یا خاندان کی جانب سے جعلسازی یا غیر قانونی معاونت ثابت ہوئی تو ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔حکام کے مطابق نئی پالیسی کا بنیادی مقصد ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کی شناخت، ان کی مرحلہ وار واپسی اور امیگریشن قوانین پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
