ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا تنقید کی زد میں کیوں؟

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے عمر قید کی سزا نے پاکستان میں انصاف، جمہوری آزادیوں اور اختلافِ رائے کی گنجائش پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ ریاستی ادارے اس مقدمے کو انصاف اور سکیورٹی سے متعلق قانونی معاملہ قرار دے رہے ہیں، تاہم انسانی حقوق کے کارکن، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کے مختلف حلقے اس عدالتی فیصلے کے وسیع تر سیاسی اور سماجی اثرات پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ایک ساتھی کو 2024 میں گوادر میں ہونے والے احتجاج کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار کی ہلاکت سے متعلق مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان ایسی سرگرمیوں میں ملوث تھے جن سے امن و امان اور قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے، جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتی آئی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ اس کی جدوجہد ہمیشہ پرامن رہی ہے۔

مبصرین کے مطابق یہ مقدمہ صرف ایک عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ اس سوال کو بھی سامنے لے آیا ہے کہ اگر عوام کو یہ احساس ہونے لگے کہ ان کے سیاسی، سماجی یا آئینی تحفظات کا ازالہ سیاسی عمل، پارلیمان، عدالت یا مکالمے کے ذریعے ممکن نہیں، تو اس کے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ پرامن اختلافی آوازوں کو محدود کرنے سے وقتی طور پر ریاستی رٹ مضبوط دکھائی دے سکتی ہے، مگر طویل مدت میں اس سے شہریوں اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

انسانی حقوق سے وابستہ حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایسے مقدمات میں شفاف عدالتی کارروائی اور منصفانہ ٹرائل انتہائی اہم ہوتے ہیں تاکہ فیصلوں پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔ بعض قانونی ماہرین نے اس مقدمے میں اِن کیمرہ ٹرائل اور دیگر قانونی پہلوؤں پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے حساس مقدمات میں انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ان کے مطابق اگر سیاسی کارکنوں کو یہ تاثر ملے کہ انہیں مناسب قانونی تحفظ حاصل نہیں تو اس سے عدالتی نظام پر عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور اگر کسی شخص یا تنظیم کی سرگرمیاں امن و امان کے لیے خطرہ بنیں تو قانون کے مطابق کارروائی ناگزیر ہو جاتی ہے۔ حکام کے مطابق عدالت نے دستیاب شواہد کی بنیاد پر فیصلہ سنایا ہے اور ملزمان کو قانونی اپیل کا حق بھی حاصل ہے۔

ماہرین کے مطابق بلوچستان گزشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی، معاشی اور سکیورٹی مسائل کا شکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف سکیورٹی اقدامات سے مسئلے کا مستقل حل ممکن نہیں بلکہ سیاسی مکالمہ، آئینی حقوق، مقامی آبادی کی شمولیت اور اعتماد سازی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سمیت کئی انسانی حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ریاست کو پرامن سیاسی تحریکوں اور مسلح شدت پسند گروہوں کے درمیان واضح فرق برقرار رکھنا چاہیے تاکہ جمہوری عمل مضبوط ہو اور سیاسی شکایات کو آئینی طریقوں سے حل کیا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ماہ رنگ بلوچ کا مقدمہ آئندہ بھی پاکستان میں انسانی حقوق، عدالتی شفافیت، اظہارِ رائے کی آزادی اور بلوچستان کی سیاست پر ہونے والی بحث کا اہم حوالہ رہے گا۔ ان کے مطابق دیرپا استحکام صرف اسی صورت ممکن ہے جب قانون کی حکمرانی، شفاف انصاف اور بامعنی سیاسی مکالمہ ایک ساتھ آگے بڑھیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول ماہ رنگ بلوچ کی سزا نے ایک مرتبہ پھر یہ بنیادی سوال سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ اختلافِ رائے سے نمٹنے کا مؤثر راستہ کیا ہونا چاہیے؟ کیا سخت قانونی کارروائیاں قومی یکجہتی کو مضبوط کرتی ہیں یا سیاسی مسائل کے حل کے لیے مکالمہ اور اعتماد سازی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جو اس فیصلے کے بعد پاکستان کی سیاسی اور قانونی بحث کا محور بن چکے ہیں۔

Back to top button